مضمون 2025/12/22 مشاہدات

وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے!

ہر گلستان کا ایک گل ہوتا ہے، ہر باغ کا ایک گلاب ہوتا ہے، سیاہ بادلوں کے ہر جھرمٹ میں ایک چاند ہوتا ہے جو تاریکی میں روشنی کی علامت ہوتا ہے اور گلاب اس باغ کی پہچان ہوتا ہے، اس کی مہک ہوتا ہے، الغرض اس باغ کو اور اس کے باغبان کو اس پر بڑا فخر ہوتا ہے، اگر میں یہ کہوں کہ یہ تمام تشبیہات و استعارات ہمارے خاندان کی نسبت سے ہمارے تایا مرحوم حضرت مولانا مفتی محمد حنیف عبد المجید صاحب (جن کے نام کے آگے اب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آرہا ہے) پر صادق آتی ہیں تو شاید بے جا نہ ہو گا۔ 

۱۲ نومبر ۲۰۲۵ء بروز بدھ کو رات تقریباً تین بجے حضرت مفتی صاحب داعی اجل کو لبیک کہہ کر ہم سب کو داغِ مفارقت دے گئے۔ انتقال سے تقریباً سات (۷) گھنٹے قبل یعنی بروز منگل کی شب تقریباً ۸ بجے بندہ نے آخری بار مفتی صاحب کی زیارت کی جب ہسپتال میں ان کی عیادت کے لیے جانا ہوا اور صبح اسی جانکاہ خبر کے ساتھ بیدار ہوئے۔

 پھر صبح تعزیت کے وقت حضرت مفتی صاحب کے شاگردوں اور متعلقین کو ایسے اشکبار اور غم ناک دیکھا جیسے کوئی خونی رشتہ یا سگی اولاد ہو، اس سے مفتی صاحب کے لیے لوگوں کی محبت و عقیدت کا بخوبی اندازہ ہو گیا اور اس حدیث کا بھی جس کا مفہوم ہے کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو مخلوق کے دل میں بھی اس کی محبت ڈال دیتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۰۴۰)  

بروز بدھ بعد نماز ظہر جامع مسجد بنوری ٹاؤن میں مفتی صاحب کی نماز جنازہ، حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی اقتدا میں ادا کی گئی جس میں عوام و خواص کے ایک جم غفیر نے شرکت کی خصوصاً پیر طریقت حضرت مولانا شمس الرحمان عباسی صاحب، حضرت مولانا مفتی امداد اللہ یوسف زئی صاحب، مولانا فہیم اشرف صاحب، مولانا نعمان نعیم صاحب، مفتی سعید سکندر صاحب، مولانا عمران عیسیٰ صاحب، مولانا احمد بنوری صاحب، مولانا عمر بدخشانی صاحب مد ظلہم قابل ذکر ہیں۔ 

ہم پر یہ اللہ تعالیٰ کا بے حد فضل و کرم رہا کہ ہمیں خاندان میں ہی اللہ نے ایک فنا فی اللہ مخلص، للہیت سے بھر پور، گمنام، سادگی پسند اور انتہائی شفیق شخصیت کی صحبت نصیب فرمائی۔ عام طور سے یہ انسانی فطرت ہے کہ کسی نعمت کی موجودگی میں اس کی کما حقہ قدر نہیں ہوتی مگر جب وہ نعمت چھن جاتی ہے تو احساس ہوتا ہے، حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کا معاملہ بھی اسی طرح تھا کہ ان کی گمنامی و گوشہ نشینی کے باعث اندازہ نہ ہوا کہ اس مردِ جلیل نے قرآنی تعلیمات کی ترویج واشاعت کے میدان میں کیسے کیسے سنگ میل عبور کیے ہیں لیکن اب جب وہ ہم میں موجود نہیں ہیں تو ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات رہ رہ کر یاد آتے ہیں۔ 

کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب

آج تم یاد بے حساب آئے 

مختصر حالات:

حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کی ولادت سن ۱۹۶۵ء کی تھی۔ 

سن ۱۹۷۷ء میں ابتدائی پانچ جماعتیں اسکول میں پڑھنے کے بعد جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ ہوا، پھر اولیٰ سے لے کر تخصص تک وہیں زیر تعلیم رہے۔ 

سن ۱۹۸۳ء کی فراغت تھی، اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب قدس سرہ کو دورہ حدیث میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب (بخاری و ترمذی مکمل)، مولانا مصباح اللہ شاہ صاحب، حضرت مولانا بدیع الزمان صاحب (سنن ابی داؤد) اور حضرت مولانا ادریس میرٹھی صاحب (صحیح مسلم مکمل) رحمہم اللہ جیسے جید علماء کرام کی سر پرستی اور شرفِ تلمّذ نصیب فرمایا۔ 

بعد ازاں، حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب دامت برکاتہم سے تکمیل بھی کی۔ 

ایک سال (غالباً سن ۱۹۹۱ء میں) جامعہ بنوری ٹاؤن میں مدرس رہے اور پھر دو سے تین سال (غالباً ۱۹۹۲-۹۴ء میں) جامعہ دار العلوم نیو کاسل، جنوبی افریقہ میں حدیث کی معروف کتاب مشکوٰۃ المصابیح کی تدریس کی۔ 

غالباً سن ۱۹۸۶ء کے سال حج کے سفر میں حضرت حاجی عبدالوہاب صاحب نور اللہ مرقدہ نے حضرت مفتی صاحب کو اپنے ہمراہ کچھ گشت کروائے، اسی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کو تبلیغ سے بھی وابستہ کر دیا، پھر اس کے بعد مفتی صاحب نے ۱۹۸۷ء میں سال کی جماعت میں وقت لگایا۔ 

مارچ ۱۹۸۹ء میں حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں سات سے آٹھ ممالک کے اسفار ہوئے؛ جنوبی افریقہ، تنزانیہ، کینیا، ملاوی، موزمبیق، برطانیہ، فرانس، امریکہ۔ رمضان المبارک میں شروع ہونے والے یہ اسفار حج کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے۔ 

اس کے ایک برس بعد حضرت مفتی سعید احمد خان صاحب قدس سرہ نے نظام الدین سے رائیونڈ حاجی صاحب نور اللہ مرقدہ کو خط لکھا کہ میں اپنے سفر میں مفتی حنیف (صاحب رحمہ اللہ) کو ساتھ چاہتا ہوں تو مفتی صاحب نے ایک اور سفر بھی حضرت کے ہمراہ کیا۔ 

اس کے اگلے سال یعنی سن ۹۰ء میں مفتی صاحب قدس سرہ نے چند ساتھیوں کے ہمراہ نیوزی لینڈ، ملائیشیا، آسٹریلیا اور فجی (Fiji) کا بھی سفر کیا تھا۔ 

دینی خدمات:

سن ۱۹۹۳ء میں مدرسہ بیت العلم (شعبہ کتب) کا قیام عمل میں آیا جب پانچ سے چھ طلبہ تھے، اس کے بعد حفظ و ناظرہ کی درس گاہوں کا آغاز ہوا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مرکز ”بیت العلم“ کے تحت ایک درجن سے زائد حفظ و ناظرہ کے مدارس اور مساجد مصروف عمل ہیں۔ 

بعد ازاں، سن ۱۹۹۷ء میں البدر اسلامک اسکولنگ سسٹم کی تاسیس ہوئی، جب اسلامی اسکولوں کا رواج کم تھا اور بہت سے دین دار گھرانے کے بچے بھی غیر اسلامی اسکول میں جاتے تھے جہاں کا لباس اور ماحول وغیرہ دیکھ کر حضرت مفتی صاحب کو فکر ہوئی اور دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ ایسے اسکول بھی ہونے چاہئیں جہاں اسلامی ماحول ہو اور وہاں کی نصابی کتابوں میں غیر شرعی عناصر نہ ہوں مثلاً تصاویر، مغربی تہذیب سے متعلق واقعات وغیرہ تو اس فکر کا ثمرہ اللہ تعالیٰ نے البدر کی صورت میں عنایت فرمایا، جس کے زیر نگرانی ایسی نصابی کتب بھی تیار ہوئیں جو مذکورہ چیزوں سے پاک تھیں اور دوسرے کافی اداروں نے اسے پسند کر کے اپنے نصاب میں داخل بھی کیا۔ 

ابتدا میں ”آئی ایس“ نامی ایک اسکول میں سمر کورس کا آغاز ہوا تھا جو ۲۰۰۰ء تک مستقل اور سن ۲۰۱۰ء تک وقفے کے ساتھ جاری رہا بعد میں باقاعدہ اسکول کا آغاز البدر کے نام سے ہوا۔ 

مکتب تعلیم القرآن کو اور اس کے نظم و نسق کو اللہ رب العزت نے جس کامیابی و کامرانی، قبولیت اور اکابرین کے اعتماد سے نوازا وہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کے اخلاص کا منہ بولتا ثبوت ہے اور تا قیامت رہے گا ان شاء اللہ العزیز۔ 

سن ۲۰۰۶ء میں اس کی بنیاد رکھی گئی جس کے پیچھے بنیادی طور پر دو منفرد اور بنیادی مقاصد کار فرما تھے، ایک تو یہ کہ جو بچے اسکول میں زیر تعلیم ہیں ان کو بچپن میں ہی دوپہر کے وقت بنیادی اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے تاکہ جب عصری تعلیم سے وہ فارغ ہو کر عملی زندگی میں قدم رکھیں تو ایک صحیح مسلمان کی زندگی گزار سکیں جس کے لیے ”تربیتی نصاب“ کے نام سے نصاب تیار کیے گئے جو اہل علم کے ہاں بے انتہا مقبول ہوئے، دوسرا مقصد قرآن کریم کے اساتذہ یعنی قاری صاحبان کی تجوید و تربیت پر توجہ تھا جس کے لیے مختلف نشستوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ 

اس کے لیے ملک بھر میں اور بیرونِ ملک بے شمار مکاتب قائم ہیں۔ 

اکابر کی جھلک:

ہم نے جو کتابوں میں اکابرین کی صفات پڑھیں اور بڑوں سے سنیں ان میں سے اکثر حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کے اندر موجود پائیں، ایک زمانہ تھا جب مفتی صاحب اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود ہمیں ہفتہ واری چھٹی والے دن صبح صبح اپنے ہمراہ چہل قدمی اور ورزش کے لیے باغیچہ میں لے کر جایا کرتے تھے، چند چچازاد ہوتے، راقم بھی ساتھ ہوتا، جب ہم چھوٹے چھوٹے ہوا کرتے تھے۔ مفتی صاحب قدس سرہ چہل قدمی فرماتے اور ہم آپس میں کھیل لیا کرتے تھے۔ جب بھی ملاقات ہوتی، تعلیمی اعتبار سے ضرور استفسار فرماتے، فکر فرماتے، الغرض انتہائی شفقت کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کو غایت سادگی سے بھی متصف فرمایا تھا، جب سے آنکھ کھولی ہمیشہ مفتی صاحب کو پہننے اوڑھنے کے ایک ہی سادہ سنت کے موافق انداز میں پایا اور راقم نے مفتی صاحب کے زیر استعمال تادمِ آخر ایک ہی چھوٹی سی قدیم گاڑی دیکھی۔ بہر حال، جو بھی مفتی صاحب کو جانتے تھے وہ اس بات سے متفق ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب قدس سرہ کو کس درجہ سادگی کی صفت سے نوازا تھا۔ 

ایک مبارک خواب:

جس دن مفتی صاحب کی وفات ہوئی اسی رات یعنی بدھ اور جمعرات (۱۲ اور ۱۳ نومبر) کی درمیانی شب حضرت شیخ ڈاکٹر نوشاد صاحب مد ظلہم (خلیفۂ مجاز حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب نور اللہ مرقدہ) نے خواب میں حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کو دیکھا، فرما رہے تھے کہ ”میں یہاں بہت مطمئن ہوں!“۔ ڈاکٹر صاحب مد ظلہم نے مزید فرمایا کہ بہت اچھی حالت میں لگ رہے تھے۔ 

اکابرین و معاصرین کے تاثرات:

حضرت مولانا مفتی عبد الرؤوف صاحب غزنوی مدظلہ العالی جنازے سے قبل تعزیت کے لیے تشریف لائے تو فرمانے لگے، ”بعض زندگیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کی بدولت انہیں آخرت میں ایسے انعامات سے نوازا جاتا ہے کہ اگر انہیں دنیا میں واپس جانے کا موقع ملے تو وہ انکار کر دیں، حضرت مولانا حنیف صاحب قدس سرہ کی زندگی بھی ایسی ہی تھی۔“ پھر مفتی صاحب کی زیارت کر کے فرمانے لگے: ”ہمیشہ کے لیے سکون پاگئے!“ 

حضرت مولانا امداد اللہ یوسف زئی صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا: ”میں نے میمن برادری میں یہ واحد شخص دیکھا تھا جو اتنی وسیع سوچ رکھتا تھا، پھر اللہ نے اس اعتبار سے ان سے کام بھی لیے کہ دیر میں بھی مفتی صاحب کا مکتب قائم ہے۔“ 

حضرت مولانا عمران عیسیٰ صاحب حفظہ اللہ فرما رہے تھے: ”مفتی صاحب تو بڑی کامیاب زندگی گزار گئے اور جو ہم نے دیکھا تو اس اعتبار سے اللہ سے امید ہے کہ ان شاء اللہ وہ آنے والے مراحل میں بھی کامیاب ہوں گے، اب مسئلہ تو میرا اور آپ کا ہے، مفتی صاحب کے ہمراہ جو کچھ اسفار ہوئے اور وقت گزرا اس میں ہم نے دیکھا کہ ان کو اللہ نے قوتِ دعا سے نوازا تھا، وہ اللہ سے مانگنے والے بہت تھے، تو اب ہمارے لیے سیکھنے کی چیز یہ ہے کہ ان کی اس طرح کی صفات کو اپنائیں۔“ 

حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے حج کے ایک پرانے ساتھی اور ہم سفر بتا رہے تھے کہ مزدلفہ میں ہم سب اپنے لیے، اپنے اہل و عیال کے لیے جب دعائیں کر رہے ہوتے تھے تب یہ اپنے اداروں، اداروں کے افراد کے لیے دعائیں مانگ رہے ہوتے تھے، ایسا دردِ دل، ایسی کڑھن اور ایسی فکر تھی۔ 

تصانیف:

یہ بات بھی قابلِ تعجب اور قابلِ اقتدا ہے کہ اپنی کم مدتِ حیات، انتظامی مصروفیات اور تبلیغی اسفار کے باوجود حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کی تصنیفات و تالیفات کی تعداد ۳۰۰ سے متجاوز ہے جن میں تحفہ دولہا، تحفہ دولہن، مثالی باپ، مثالی ماں، مثالی استاد، شرح اسمائے حسنیٰ، تحفۃ الدعاء سیریز، مجموعہ وظائف، تعلیم الدعاء وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ اس میں ہمارے لیے وقت کی اہمیت اور اسے قیمتی بنانے کا بڑا سبق ہے جو ہمارے تمام اکابرین واسلاف حتیٰ کہ دنیا کے ہر کامیاب انسان کا امتیازی اور مشترکہ وصف ہے۔ 

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت مفتی صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے، خدمات کا سلسلہ جاری و ساری رکھے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائے، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

 

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!