علامہ شبیر احمد عثمانی اور تحریک پاکستان

13 دسمبر 1949ء یوم وفات تحریک پاکستان کی جد و جہد آزادی کے عظیم رہنما اور سیاسی لیڈر،علم و فضل کے بحر ناپیدا کنار
 قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے رفیق خاص و معتمد علیہ اور مجلس دستور ساز کے اہم ترین رکن ویکے از بانیانِ پاکستان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

{…شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ …}
تحریر: مفتی محمد وقاص رفیعؔ
  شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اُن چند جانباز علماء اور مخلص ترین لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مسلمانانِ ہند کو انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے چھٹکارا دلاکر آزادی کا پرچم اُن کے ہاتھوں میں تھمایا، اور ان کے لئے آزادامذہبی زندگی گزارنے کا پُرخار راستہ ہم وَار کیا۔ آپؒ 1885ء کو ضلع بجنور غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے، جہاں آپؒ کے والد ماجد علامہ فضل الرحمن عثمانیؒ سرکاری مدارس کے ڈپٹی انسپکٹر تھے۔ آپؒ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے تلمیذ رشید اور اُن کے صحیح علمی و سیاسی جانشین تھے۔ آپؒ نے 1908ء میں دورۂ حدیث کا امتحان اعلیٰ نمبروں میں پاس کیا اور مدرسہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے دار العلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کی۔
 علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کے دو پہلو ہیں:ایک پہلو آپؒ کی زندگی کا خالص علمی و تحقیقی ہے۔ آپؒ نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کی تفسیر کا تکملہ لکھا جواُنہوں نے مالٹا جیل میں سورۃ النساء تک لکھی تھی۔ اِس تفسیر کی تکمیل آپؒ نے اِس خوبی سے کی کہ بڑے بڑے علماء کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔حدیث کے میدان میں آئے تو صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم عربی زبان میں تصنیف کرڈالی ۔ تدریس کے میدان میں آئے تو علمی جوہر دکھلائے۔ آپ کا شماردار العلوم دیوبند کہنہ مشق اور اعلیٰ مدرسین میں ہوتا تھا۔ آپؒ نے 1910ء سے 1928ء تک دارالعلوم دیوبند میں متوسط کتب سے لے کر صحیح مسلم تک کی تدریس کی۔ 1928ء میں آپؒ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت چلے گئے، اور وہاں تفسیر و حدیث پڑھاتے رہے۔ 1935ء میں دارالعلوم دیوبند کے صدر مہتمم قرار دیے گئے اور1943ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
  علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا دوسرا پہلوسیاسی ، ملی اور ملکی خدمات کا ہے جس کا باقاعدہ آغاز جنگ بلقان سے ہوا۔ آپؒ نے تحریک خلافت میں زبردست حصہ لیا۔ آپؒجمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے زبردست رکن تھے۔ 1919ء سے لے کر 1945ء تک آپؒ اسی میں شریک رہے۔بعد ازاں آپؒ نے مسلم لیگ میں شریک ہوکر تحریک پاکستان کو تقویت بخشی۔ اور تحریک پاکستان کے حامی علماء پر مشتمل ایک جماعت ’’جمعیت علمائے اسلام ‘‘ کے نام سے تشکیل دی، جس پہلے صدر آپؒ منتخب ہوئے، اور نائب صدر علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو مقرر کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے بعد پاکستان کا وجود اِن دونوں حضرات کا مرہونِ منت ہے۔ اگر یہ حضرات مسلم لیگ میں شرکت کرکے شریعت اسلامیہ کی رُوشنی میں متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کے سوادِ اعظم کی رہبری نہ کرتے تو مسلم لیگ کی طرف ہوا کے رُخ کو موڑنا اور نظریۂ پاکستان کی طرف سیاست کے دھارے کا منہ پھیرنا ناممکن نہیں تو دُشوار ضرورر تھا۔ علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اِس سلسلہ میں جمعیت علمائے اسلام کے صدر کی حیثیت سے ملک بھر کے دورے کیے ، سرحد کے ریفرینڈم میں کامرانی حاصل کی ، آزادیٔ کشمیر کی جد و جہد میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کی تحریک کو اپنی علمی، تحقیقی، اور سیاسی تجربات کی بنیاد پر کام یابی سے ہم کنار کرایا۔
  اِس میں شک نہیں کہ تمام مکاتب فکر کے جید علماء و مشائخ نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کا کردار اِس تحریک میں سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔اِس لئے کہ مسلمانانِ ہند کی جس بالغ نظری اور حکمت عملی سے رہنمائی علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے کی وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکا۔
  اِس حقیقت کا اندازہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کی اُس تقریر سے لگایا جاسکتا ہے جو آپؒ نے 26 دسمبر 1945ء کو دیوبند کے ایک جلسے میں کی، جس میں آپؒ نے فرمایا:’’عرصہ دراز کی کاوشوں اور غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر حصولِ پاکستان کے لیے میرے خون کی ضرورت ہو تو میں اس راہ میں اپنا خون دینا باعثِ افتخار سمجھوں گا۔ اس ملک میں ملتِ اسلامیہ کی بقا اور مسلمانوں کی باعزت زندگی قیامِ پاکستان سے وابستہ ہے۔ میں اپنی زندگی کی کامیابی سمجھوں گا اگر اس مقصد کے حصول میں کام آجاؤں۔‘‘
 تحریک پاکستان کی یہ کوشش اور جد و جہد محض اِس مقصد کے لئے کی گئی تھی کہ اِس خطۂ زمین میں مسلمانانِ پاکستان قرآن و سنت کے قوانین نافذ کریں گے اور اپنی تہذیب و ثقافت، علوم و فنون اور اپنی قومی اُردُو زبان کو فروغ دینے کے لئے کسی کے تابع و محتاج نہیں رہیں گے۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر علماء و مشائخ نے قربانیاں دیں ، بالخصوص علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اپنی حیاتِ مستعار کے آخری سال مقصد کے حصول کی خاطر قربان کیے ۔ آپؒ کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ وطن عزیز ملک پاکستان میں اسلامی احکام اور دینی قوانین کا اجراء اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں، مگر قدرت نے جس سے جتنا کام لینا مقرر کیا ہوتا ہے اُسی قدر اُس سے کام لیا جاتا ہے۔ 
 قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی زندگی کا مشن مسلمانانِ ہند کے لئے علیحدہ ایک نئے خطے کی صورت میں وطن عزیز ملک پاکستان کا عدم سے وجود میں لانا تھا۔ اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا مطمح نظر قدرت کے نزدیک قرار دادِ مقاصد کی تجویز کا پاس کراکر اِس مملکت خداداد کا آئین و دستور قرآن و سنت پر رکھنا تھا۔ 
 بالآخر تحریک پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ پاکستان بننے پر مؤرخہ 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان1366ء کی دوپہر کو افتتاحِ پاکستان کی تقریب سعید میں حصہ لینے کے لئے دیوبند سے کراچی تشریف لائے۔ اور 14 اگست کو کراچی میں جشن آزادی میں شرکت فرمائی۔ قائد اعظم محمدعلی جناح رحمہ اللہ نے آپؒ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں ملک کے دارالحکومت کراچی میں پہلی پرچم کشائی آپؒ ہی کے مبارک ہاتھوں سے کرائی۔ اور مجلس دستور ساز میں رُکنیت بھی آپؒ کودلوائی۔ 11 ستمبر 1948ء کو جب قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی وفات ہوئی تو اُن کی وصیت کے مطابق اُن کا نمازِ جنازہ علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے ہی پڑھایا۔
 پھر اِس کے تقریباً ایک سال اور چند ایام بعد  علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو 8 دسمبر 1949ء کی شب کو  بخار ہوا، صبح طبیعت ٹھیک ہوگئی، آٹھ بجے صبح پھر سینہ میں تکلیف ہوئی اور سانس میں رُکاوٹ ہونے لگی۔ بالآخر مؤرخہ 13 دسمبر 1949ء بمطابق 21 صفر 1369ھ کو 11:40.AMمنٹ پر سہ شنبہ (منگل کے روز) 64 سال کی عمر میں علم و عمل اور دین و اسلامی سیاست کا یہ آفتاب و ماہتات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اِس عالم رنگ و بو سے غروب ہوگیا۔ انان للہ وانا ا لیہ راجعون۔
 یہ خبر بجلی کی طرح سارے عالم اسلام میں پھیل گئی۔ اور دُنیا بھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ سرکاری دفاتر اور کاروباری ادارے بند ہوگئے۔ گورنر جزل خواجہ نظام الدین اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے اپنے دورے منسوخ کردیئے۔ عوام و خواص اور ممالک اسلامیہ میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ میت بغداد الجدید بہاول پور سے کراچی پہنچائی گئی۔ آپؒ کے شاگردِ رشید علامہ بدرِ عالم میرٹھی رحمہ اللہ نے آپؒ کو غسل دیا اور مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے آپؒ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تقریباً دو لاکھ سے زائد مسلمانوں نے آپؒ کے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اور آپؒ کا جسد خاکی اسلامیہ کالج جمشید روڈ کراچی میں سپردِ خاک کردیا   ؎
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!
تو نے وہ’’ گنج ہائے گراں مایہ ‘‘ کیا کیے؟

 

 

 
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020