دعا ایسے قبول ہوتی ہے

ہم سب مسلمان ہیں۔ الحمدلله ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر مسئلہ اور پریشانی کا حل رب العالمین سے دعا مانگنے میں ہے۔ دعا مانگنے کی فضیلتیں اور برکتیں بھی لاتعداد ہیں۔ دینے اور نوازنے والی وہ ذات جو سارے عالم کے خزانوں کی مالک ہے وہ خود ہمیں اپنی کتاب میں، اپنے رسول صلي ﷲ علیه وسلم کی زبانی مانگنے کا حکم دے رہی ہے، آداب سکھا رہی ہے تو  اس ذاتِ رب کریم سے مانگنا کتنا مفید و مستحسن بلکہ کارِ ثواب ہوسکتا ہے۔ یعنی جو مانگ رہے ہیں وہ ملے یا اس سے بہتر ملے  یہ فائدہ تو ہے ہی  مگر مانگنے کا، ﷲ و رسول صلی ﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کا ثواب بھی ملے اور وہ بھی بے حساب ملے یہ فائدہ تمام نعمتوں پر بھاری ہوگیا۔ الحمدلله اس طرف سے ہم غیر اقوام کی بنسبت بالکل پرسکون اور مطمئن ہیں  کہ ہر مسئلے اور پریشانی یا کسی معاملے کی چاہت کی صورت میں ہمارے پاس کل کائنات کے مالک کا مکمل سہارا ہے ان سے مانگ کر، اپنا معاملہ ان کو سونپ کر ہم بالکل پرسکون ہوجاتے ہیں۔ یہ قلبی اطمینان ہونا ایسی عظیم نعمت ہے کہ جن کو حاصل ہے وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ان کو دنیا کی کیسی عظیم نعمت مل گئی ہے۔ جو لوگ اس سے محروم ہوتے ہیں وہ ساری دنیا بیچ کر بھی بدلے میں قلبی سکون و اطمینان کو خریدلینا چاہتے ہیں۔ 

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اکثر لوگ دعا کے سلسلے میں بہت پریشان رہتے ہیں۔ زیادہ تر کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں۔ جو دعا مانگتے ہیں وہ کبھی پوری نہیں ہوتی وغیرہ 

تو اس کی اصل وجہ اور مسئلہ یہ ہے کہ ہم دعا کو دعا کی طرح نہیں مانگتے۔ اس کے آداب و رعایت کا خیال نہیں کرتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم دعا نہیں مانگتے بلکہ اپنے ذہن میں پہلے سے تیار لسٹ اللہ رب العالمین کو سناتے ہیں۔ دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے اللہ یہ دے دیں وہ دے دیں اس سے بچالیں اس سے بچالیں پوری لسٹ سنائی منہ پر ہاتھ پھیرے اور یہ جا وہ جا۔ 

میری پیاری بہنو! اللہ تعالی ہمارے الہ ہیں تمام جہانوں کے رب ہیں وہ ہمارے معبود ہیں بلند و برتر ہیں ہمیں ان کو فرمائشی لسٹ نہیں سنانی چاہئے بلکہ ان سے باتیں کرنی چاہئیں۔ ان کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھکاری بن جانا چاہئے وہ بھکاری جو کچھ لئے بغیر نہیں ٹلتا۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دعا مانگنے کا ایک ایسا وقت مقرر کیا جائے جس وقت کسی قسم کا بوجھ،  کوئی ذمہ داری یا ادھورا کام منتظر نہ ہو۔ اور اس کیفیت و فراغت کے حصول  کے لئے رات کا آخری پہر سب سے بہترین ہے اس وقت اندھیرا یا نیم اندھیرا کریں اور اولا دو رکعت توبہ کی نیت سے پڑھ لیں کہ جو گناہ میری اس پریشانی کا سبب بنے یا اس دعا کی قبولیت میں حائل ہوں ان سے معافی مل جائے،اب دو رکعت حاجت روائی کی نیت سے پڑھ لیں ، پھر ربِ کائنات کے سامنے رونا شروع کردیں اور اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسا منہ بنا لیں کہ اس مہربان و کریم کے سامنے یہ بھی فائدے سے خالی نہیں، پھر اپنے ذہن کو تمام آلائشوں اور وساوس و خیالات سے بالکل خالی کرکے ربِ جلیل کے سامنے ان کی وحدانیت کا اقرار کریں،ان کی بڑائی و برتری کا اظہار کریں،  دینِ اسلام پر پیدا کرنے اور امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھیجنے کا خوب خوب شکر دا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اقرار کریں،ازل سے ابد تک کے تمام مسلمانوں کی بخشش اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں پھر اپنے مطلوب کے لئے دعا مانگنا شروع کریں یاد رہے کہ مانگنا ایسے ہے کہ لفظ مانگنے کے اصل معنی حاصل ہوجائیں۔ ربِ کائنات سے باتیں کرنی ہیں اپنا حال، اپنے دکھڑے، اپنے درد، اپنے مسائل، اپنی حاجات، اپنی پریشانیاں سب ان کو سنانی ہیں ایسے کہ جیسے ہم ان کے سامنے جاکر ان کے گویا قدموں میں سر رکھ کر ان سے باتیں کر رہے ہیں۔ پھر دیکھیں ربِ کائنات کیسا سکون و سرور دل میں اتارتے ہیں۔ سکینہ و رحمت کا کیسا نزول ہوتا ہے کہ اس وقت یہ محسوس ہونے لگتا ہے جیسے ہم نے جو اور جتنا مانگا تھا اس سے کروڑ ہا درجے بہتر اور زیادہ مل گیا ہے۔روحانی ترقیاں نصیب ہونے لگتی ہیں۔ ربِ کائنات سے تعلق مضبوط ہونے لگتا ہے۔ اللہ کا قرب حاصل ہونے لگتا ہے۔ حتی کے اللہ رب العزت کے انعامات کی بارش ہونے لگتی ہے اور ان کا ادراک و احساس ہونے لگتا ہے۔ ان کی طرف سے وقتی تاخیر میں چھپی مصلحتیں نظر آنے لگتی ہیں۔یہ جو ہم اکثر سنتے ہیں ناں کہ دعا کو دل سے مانگنا چاہئے۔ یہ دل سے مانگنا یہی مانگنا ہے کہ انسان کے صرف ہاتھ پھیلے ہوئے اور زبان پر کلمے جاری نہ ہوں۔ بلکہ پورا بدن سراپا دعا بن جائے۔ جب اللہ سے باتیں کرنا، ان کو دکھڑے سنانا، ان کو اپنی تکلیفیں سنا سنا کر بتا بتا کر ان سے نکلنے کا راستہ مانگنا شروع کیا جائے تب قلب و دماغ سمیت سارا بدن دعا بنتا ہے۔ کیونکہ دعا کو بھیک کی طرح مانگنا، مچل مچل کر مانگنا، تڑپ تڑپ کر مانگنا ہی اصل مانگنا ہے وہ فرمائشی لسٹ سنانا جس کو ہم دعا مانگنا سمجھتے ہیں وہ دعا مانگنا نہیں ہوتا۔ 

اس طرح دعا مانگ کر اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرکے بالکل مطمئن ہوجانا چاہئے۔ اب اس میں اگر تاخیر ہورہی ہے تو  یہ یاد رہے کہ دعا کی قبولیت کے ویسے بھی کچھ طرق ہیں جو احادیث کے مفہوم سے ظاہر ہوتے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ بعض مرتبہ بعینہ وہی دعا قبول ہوجایا کرتی ہے جبکہ بعض مرتبہ اس سے بہتر عطا فرما دیا جاتا ہے۔ اور بعض مرتبہ اس دعا کو آخرت کے لئے ذخیرہ کردیا جاتا اور وہ صورت سب سے بہتر ہے کہ وہاں جاکر لوگ جب  دنیا کی اپنی غیر مقبولہ دعاﺅں کا بدلہ دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش زندگی بھر کوئی دعا قبول ہی نہ ہوئی ہوتی تاکہ یہاں اس کا اتنا بہترین بدلہ مل جاتا۔

 

 

تبصرے

تبصرہ لکھیں

ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018