حضور اکرم ﷺ کی گریہ و زاری

????حضور اکرم ﷺ سے مختلف احوال پر گریہ و زاری کا ذکر ملتا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں :
???? حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ ﷺ کے رونے کی وجہ سے سینہ مبارک سے ایسی آواز نکل رہی تھی جیسے ہنڈیا کا جوش ہوتا۔
???? حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضور اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ قرآن شریف سناؤ، میں نے عرض کیا کہ حضور! آپ ہی پر تو نازل ہوا ہے اور آپ ہی کو سناؤں ؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ دوسرے سے سنوں، میں نے امتثال حکم میں سنانا شروع کیا اور سورة النساء پڑھنا شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچا فکیف اذاجئنا من کل امہ بشہید وجئنا بک علی ھٰؤلآء شہیدا تو میں نے حضور اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا کہ دونوں آنکھیں گریہ کی وجہ سے بہہ رہی تھیں۔
???? آپ ﷺ کے زمانہ میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا، آپ ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز شروع فرمائی، جس میں ہر ہر رکن بہت طویل ہوتا تھا، آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، اخیر سجدہ میں شدت غم اور جوش سے سانس لیتے رہے اور روتے رہے اور حق تعالیٰ شانہ کی بارگاہ عالی میں یہ عرض کرتے رہے کہ اے اللہ! تو نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میری موجودگی تک امت کو عذاب نہ ہوگا، اے اللہ! تو نے ہی یہ وعدہ کیا تھا کہ جب تک یہ لوگ استغفار کرتے رہیں گے عذاب نہیں ہوگا، اب ہم سب کے سب استغفار کرتے ہیں،جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آفتاب نکل چکا تھا۔
???? آپ ﷺ کی صاحبزادی یا نواسی کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ کی باندی حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا چلا کر رونے لگیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ کے نبی کے سامنے ہی چلا کر رونا شروع کر دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضور! آپ بھی تو رو رہے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ رونا ممنوع نہیں، یہ اللہ کی رحمت ہے ( کہ بندوں کے قلوب کو نرم فرمائیں اور ان میں شفقت ورحمت کا مادہ عطا فرمائیں) پھر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مومن ہر حال میں خیر ہی میں رہتا ہے حتی کہ خود اس کا نفس نکالا جاتا ہے اور وہ حق تعالیٰ شانہ کی حمد کرتا ہے۔
???? آپ ﷺ اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی قبر پر تشریف فرما تھے اور آپ کے آنسو جاری تھے۔
???? حضور اکرم ﷺ نے اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات پر ان کو ان کی پیشانی پر بوسہ دیا، اس وقت حضور اکرم ﷺ کے آنسو ٹپک رہے تھے۔
???? ایک مرتبہ آپ ﷺ حجر اسود کے پاس تشریف لائے، منہ مبارک رکھ کر خوب روتے رہے، جب ہٹے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا کہ اے عمر ! یہ آنسو بہانے کی جگہ ہے۔

???? اہل علم فرماتے ہیں کہ ایک رونا صالحین کا ہے جو یارب نفسی نفسی کی صدا لگاتے ہیں، ایک رونا انبیاء سابقین علیہم السلام کا ہے جو یارب قومی قومی کی صدا لگاتے ہیں اور ایک رونا سید الانبیاء و المرسلین ﷺ کا ہے جن کی صدا ہے یارب امتی امتی !!
???? ایک روایت میں ہے کہ روؤ اور رونا نہ آئے تو رونے کی شکل بناؤ ، ایک روایت میں یہ دعا آئی ہے کہ اللَّهمَّ ارزُقْني عينَيْن هطالتَيْن يشفيانِ القلبَ بذُروفِ الدُّموعِ من خشيْتِك قبل أن يكونَ الدَّمعُ دمًا والأضراسُ جمْرًا یعنی اللہ کی محبت اور اس کے خوف سے رونے والی آنکھیں مانگنا سنت نبوی ہے۔

???? حضور اکرم ﷺ کا نوافل گھر میں پڑھنا ????

???? حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ نوافل مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا گھر میں؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے (جس کی وجہ سے مسجد میں آنے میں کسی قسم کی دقت یا رکاوٹ نہیں ہوتی) لیکن اس کے باوجود فرائض کے علاوہ مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مسجد سے زیادہ پسند ہے۔
???? حضور اکرم ﷺ کا مقصود اس عمل سے اس بات کی ترغیب ہے کہ نوافل نمازوں کا گھروں میں اہتمام کیا جائے، کیونکہ گھر کے اس حصہ پر انوارات و برکات کا نزول ہوتا ہے جہاں نماز قائم کی جاتی ہے اور گھر کی جنات و شیاطین سے حفاظت رہتی ہے۔
???? حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم برکت کے حصول کے لئے حضور اکرم ﷺ کو اپنے گھر یا محلہ لے جاتے، آپ وہاں نماز پڑھتے ، آج بھی مدینہ منورہ میں ایسی مساجد قائم ہیں جہاں حضور اکرم ﷺ نے نماز پڑھی جن میں سے چند یہ ہیں:

???? مسجد قبا :
مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کی تشریف آوری ہی مسجد قبا کا پہلا دن تھا ، ہجری تاریخ کی ابتداء بھی یہیں سے ہوئی۔

???? مسجد سعد بن خیثمہ :
حضرت سعد بن خیثمہ انصاری رضی اللہ عنہ جن کو بیعت عقبہ میں نقیب (ذمہ دار) مقرر فرمایا، قبا میں قیام کے دوران جب مجلس میں بیٹھتے تو ان کے گھر تشریف لے جاتے، یہیں اسلام کا پہلا جمعہ ہوا ، قبا میں آپ ﷺ کا قیام حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے مکان پر تھا کہ وہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ آکر ملے اور وہیں مدینہ منورہ میں مہاجرین میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔
(مسجد قبا کی توسیع کے دوران یہ اس میں شامل ہوگئی)

???? مسجد جمعہ :
ہجرت کے بعد قبا سے مدینہ تشریف لے جاتے ہوئے اس جگہ پہلا جمعہ ادا کیا، یہ انصار کے محلہ بنی سالم میں واقع ہے، اس لئے اس کا دوسرا نام مسجد بنی سالم بھی ہے۔

???? مسجد عتبان بن مالک :
حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے کونے میں نماز ادا فرمائی۔

???? مسجد بنی اُنیف :
اُنیف عمالقہ کی نسل سے تھے، یہ بنو اُنیف کا محلہ ہے جہاں آپ ﷺ حضرت طلحہ البراء رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لاتے اور وفات کے بعد تعزیت کے لئے تشریف لائے اور نماز پڑھی، بعض نے اس کا نام مسجد مصبح بھی لکھا ہے کہ ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے یہاں صبح کی نماز ادا فرمائی۔

???? مسجد عصبہ :
مسجد قبا کے مغرب میں ایک جگہ ہے جہاں بہت کنویں اور کھیت ہیں، یہاں عصبہ نامی قلعہ بھی تھا، آپ ﷺ کی ہجرت سے قبل مہاجرین اولین حضرت سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پڑھتے تھے، آپ سب سے زیادہ قرآن کے حافظ تھے، یہاں ہجیم کنویں کے پاس آپ ﷺ نے نماز ادا فرمائی ہے۔

تبصرے

تبصرہ لکھیں

ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018