حضور اکرم ﷺ کا آرام فرمانا

???? حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ جس وقت آرام فرماتے تھے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے تھے اور یہ دعا پڑھتے :
رَبِّ قِنِي عَذَابَکَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ
(اے اللہ !مجھے قیامت کے دن اپنے عذاب سے بچائیو)
???? بعض اکابر فرماتے ہیں کہ بائیں کروٹ سونا امراء و سلاطین کا طریقہ ہے، چت یعنی سیدھا سونا انبیاء سابقین علیہم السلام کا طریقہ ہے اور دائیں کروٹ سونا خاتم النبیین ﷺ کا طریقہ ہے اور منہ کے بل یعنی اوندھے منہ سونا شیاطین کا طریقہ ہے، بعض روایات میں منہ کے بل سونے کو دوزخی کا سونا بتلایا ہے۔
????حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ جب بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے :
اللَّهُمَّ بِاسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْيَا
( اے اللہ! میں تیرے ہی نام سے مرتا (سوتا) اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوں گا (سو کر اٹھوں گا)

اور جب جاگتے تو یہ دعا پڑھتے :
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُور
(تمام تعریفیں اللہ جل جلالہ کے لئے ہیں جس نے موت کے بعد زندگی عطا فرمائی اور اسی پاک ذات کی طرف قیامت میں لوٹنا ہے)
???? آپ ﷺ ہر رات جب بستر پر لیٹتے تو دونوں ہاتھوں کو دعا مانگنے کی طرح ملا کر ان پر دم فرماتے تھے اور سورت اخلاص اور معوذتین تین مرتبہ پڑھ کر تمام بدن پر سر سے پاؤں تک جہاں جہاں ہاتھ جاتا پھیر لیا کرتے تھے، تین مرتبہ ایسے ہی کرتے، سر سے ابتداء فرماتے اور پھر منہ اور بدن کا اگلا حصہ پھر بقیہ بدن پر ہاتھ پھیرتے۔


???? حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ (سفر میں رات کو چلنے کے بعد) اگر اخیر شب میں کچھ سویرے کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو دائیں کروٹ لیٹ کر آرام فرماتے اور اگر صبح کے وقت ٹھہرنا ہوتا تو اپنا دایاں بازو کھڑا کرتے اور ہاتھ پر سر رکھ کر آرام فرما لیتے۔

???? سونے کے مسنون اعمال ????
1- باوضو سونا، جو شخص طہارت کی حالت میں رات گزارے پھر اس رات کرجائے تو وہ شہید ہوگا۔
2- سوتے اور جاگتے وقت مسواک کرنا سنت ہے، یہ آپ ﷺ کی عادت شریفہ رہی ہے۔
3- سونے سے قبل سرمہ لگانا اور گنگھی کرنا بھی آقا ﷺ کا طریقہ ہے۔
4- چراغ گل کردینا، چولہا بند کردینا، دروازہ بند کردینا، مشکیزہ کا منہ بند کردینا اور برتن ڈھک دینا سنت ہے۔
5- سونے سے قبل بستر جھاڑنا، بستر میں تکیہ کا استعمال کرنا سنت ہے، آپ ﷺ کا تکیہ عموما چمڑے کا تھا جس کا بھراؤ چھال تھا۔
6- آپ ﷺ کی عادت مبارکہ گرمی و سردی میں سونے کی جگہ تبدیل فرماتے تھے اور یہ تبدیلی شب جمعہ سے فرماتے، گرمی میں باہر آرام فرماتے اور سردی میں گھر میں آرام فرماتے۔

???? سونے کے بعض اہم آداب ????
1- سونے سے قبل رات کو استنجاء کے پانی وغیرہ کا بندوبست کرلینا۔
2- رات کو گھر میں اکیلا نہ سونا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ منع فرماتے تھے۔
3- بلا منڈیر کی چھت پر سونا ممنوع ہے۔
4- کھانے کے فورا بعد نہ سونا کہ یہ طبی اعتبار سے بھی مضر ہے، ارشاد نبوی ہے کہ کھانے کو ذکر اور نماز کے ذریعے ہضم کرو۔
5- رات سونے سے قبل آپ ﷺ کچھ معمولات کا اہتمام فرماتے تھے، احادیث میں سونے سے قبل درج ذیل معمولات کا ذکر ہے، ان کو پڑھا جائے اور سب نہ ہوسکیں تو بعض کا اہتمام کرلیا جائے :
سورة السجدة، سورة ملک، سورة زمر، سورة بنی اسرائیل، مسبحات (یعنی جن سورتوں کی ابتداء تسبیح سے ہوتی ہے : سورہ حدید، سورہ حشر، سورہ صف، سورہ جمعہ، سورہ تغابن اور سورہ اعلی) سورہ بقرة کی آخری آیات، سورہ آل عمران کی آخری دس آیات، آخری چاروں قل، آیت الکرسی۔
ان کے علاوہ دیگر معمولات یہ ہیں :
تین مرتبہ استغفار پڑھنا۔ تسبیحات فاطمی کا ورد کرنا۔ دورد شریف پڑھنا اور سونے کی دعائیں پڑھنا۔

???? حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ ایک مرتبہ سوئے اور خراٹے لینے لگے، آپ ﷺ کی یہ عادتِ شریفہ تھی کہ جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے، معلوم ہوا کہ معمولی خراٹے لینا برا نہیں اور اس پر طعن کرنا درست نہیں۔

???? حضور اکرم ﷺ کا بستر مبارک ????

???? امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے یہاں حضور اکرم ﷺ کا بستر کیسا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ چمڑے کا تھا جس کے اندر کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے گھر میں حضور اکرم ﷺ کا بستر کیسا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک ٹاٹ تھا جس کو دوہرا کر کے ہم حضور اکرم ﷺ کے نیچے بچھا دیا کرتے تھے، ایک روز مجھے خیال ہوا کہ اس کو چوہرا کر کے بچھا دیا جائے تو زیادہ نرم ہو جائے گا میں نے ایسے ہی بچھا دیا، حضور اکرم ﷺ نے صبح کو دریافت کیا کہ میرے نیچے رات کو کیا چیز بچھائی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ وہی روز مرہ کا بستر تھا رات کو اسے چوہرا کر دیا تھا کہ زیادہ نرم ہوجائے، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اس کو پہلے ہی حال پر رہنے دو، اس کی نرمی رات کو مجھے تہجد سے مانع ہوئی۔
???? آپ ﷺ سے چارپائی پر سونا ثابت ہے، آپ کی ایک چارپائی کے پائے ساگوان لکڑی کے تھے، اعتکاف کے ایام میں اسطوانہ ابولبابہ کے پاس آپ کی چارپائی بچھادی جاتی اور بستر لگادیا جاتا۔
???? آپ ﷺ کی چارپائی کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی، آپ کے سرہانے چمڑے کا تکیہ ہوتا جس کا بھراؤ کھجور کی چھال تھی، اسی طرح آپ سے کھجور کی چٹائی پر بغیر بستر کے سونا بھی منقول ہے۔

???? بستر نبوی کے مختلف احوال ????
1-کبھی کھجور کی چھال سے بنی ہوئی چارپائی پر بغیر بستر آرام فرمایا۔
2- کبھی کھجور کی چھال سے بنی ہوئی چارپائی پر بستر کے ساتھ آرام فرمایا۔
3- کبھی چمڑے کے ٹکڑے پر آرام فرمایا۔
4- کبھی کھجور سے بنی ہوئی چٹائی پر آرام فرمایا۔
5- کبھی زمین پر بغیر بستر کے آرام فرمایا۔
6- کبھی ریت پر آرام فرما ہوئے تو کبھی سیاہ چادر پر، کبھی کمبل پر آرام فرما ہوئے تو کبھی ٹاٹ کے بورئیے پر۔
البتہ عام معمول چارپائی پر بغیر بستر آرام فرمانے کا تھا، آپ ﷺ کی زندگی میں تعیشات نہ تھے، نرم اور گدے دار بستر کو پسند نہ فرماتے، رات کو سونے کے لئے علیحدہ لباس ہوتا تھا۔

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018