حضوراکرم ﷺ کا پیالہ اور مشروبات

???? حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ایک لکڑی کا پیالہ نکال کر دکھایا جس میں لوہے کے پترے لگ رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ یہ حضور اکرم ﷺ کا پیالہ ہے، کہا جاتا ہے کہ ان کے صاحبزادے حضرت نضر بن انس رحمہ اللہ کی میراث سے یہ پیالہ آٹھ لاکھ درہم میں فروخت ہوا تھا، امام بخاری رحمہ اللہ نے بصرہ میں اس پیالہ سے پانی بھی پیا لوگ کہتے ہیں کہ وہ اور پیالہ تھا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو اس پیالہ سے پینے کی سب انواع پانی، نبیذ، شہداور دودھ سب چیزیں پلائی ہیں۔
???? حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ میری والدہ ام سلیم کے گھر تشریف لے گئے، وہاں مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، حضور اکرم ﷺ نے کھڑے کھڑے اس میں سے پانی نوش فرمایا، ام سلیم کھڑی ہوئیں مشکیزہ کا منہ کتر کر رکھ لیا۔


???? پیالوں کی تفصیل ????
حضور اکرم ﷺ کے استعمال میں مختلف پیالے رہے جن کی تفصیل یہ ہے :
1- لکڑی کا پیالہ : یہی پیالہ وہ ہے جس کا اوپر روایت میں ذکر آیا۔
2- شیشہ کا پیالہ : پانی پینے کے لئے استعمال فرمایا۔
3- تانبے کا پیالہ : وضو کرنے اور پانی پینے کے لئے استعمال فرمایا۔
4- مٹی کا پیالہ : شوربا دار گوشت نوش فرمانے اور پانی پینے کے لئے استعمال فرمایا۔
5- بڑا پیالہ : یہ اتنا بڑا تھا کہ اس کو چار آدمی اٹھاتے تھے۔
ان کے علاوہ کچھ پیالوں کے نام یہ ہیں :
رمال ؛ مغیث ؛ قمر ؛ ریان اور مُخَضّب (پتھر کا تسلا)
عام طور پر آپ ﷺ لکڑی کا پیالہ استعمال فرماتے تھے۔

???? حضور اکرم ﷺ کے مشروبات ????
???? حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کو پینے کی سب چیزوں میں میٹھی اور ٹھنڈی چیز مرغوب تھی۔
???? آپ ﷺ کے لئے ٹھنڈا پانی مدینہ منورہ سے دو منزل یعنی ٣٦ میل کی مسافت پر واقع مقام سُقیا سے لایا جاتا تھا۔
????حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دونوں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے (ام المومنین حضرت میمونہ ان دونوں حضرات کی خالہ تھیں) وہ اک برتن میں دودھ لے کر آئیں، حضور اکرم ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا، میں دائیں جانب تھا اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اب پینے کا حق تمہارا ہے (کہ تم دائیں جانب ہو) اگر تم اپنی خوشی سے چاہو تو خالد کو ترجیح دے دو، میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کے جھوٹے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی شخص کو حق تعالی شانہ کوئی چیز کھلائیں تو یہ دعا پڑھنی چاہیئے :
اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ
اور جس کو اللہ تعالی دودھ پلائیں تو یہ دعا پڑھے :
اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ
????حضور اکرم ﷺ نے زمزم کا پانی کھڑے ہونے کی حالت میں نوش فرمایا۔
???? آپ ﷺ پانی پینے میں تین سانس لیا کرتے اور یہ فرماتے کہ اس طریقہ سے پینا زیادہ خوشگوار اور خوب سیراب کرنے والا ہے، ایک روایت میں ہے کہ جب پانی نوش فرماتے دو دفعہ سانس لیتے۔
???? آپ ﷺ کے مشروبات فطری اور قدرتی تھے، مصنوعی مشروبات آپ ﷺ کے زمانے میں نہ تھے :
???? آپ ﷺ کے مشروبات میں شہد ، شہد ملا پانی ، دودھ ، دودھ ملا پانی ، رات کا باسی ٹھنڈا پانی ، نقیع اور نبیذ تھے۔

???? "نقیع" بنانے کی صورت یہ ہے کہ انگور یا کھجوروں کو پانی میں محض بھگو دیا جائے، اس کو جوش نہ دیا جائے، اس طرح انگور یا کھجوروں کی مٹھاس اس پانی میں آجاتی ہے اور ایک عمدہ قسم کا شربت بن جاتا ہے اور یہ شربت بہت مزیدار بھی ہوتا ہے اور بدن کو فائدہ بھی پہنچاتا ہے، چنانچہ خرما کا نقیع معدہ کے نظام کو درست کرتا ہے اور کھانے کو جلد ہضم کرتا ہے جب کہ انگور کی نقیع جسم کی زائد حرارت کو دفع کرنے کی خاصیت رکھتا ہے۔

???? "نبیذ" بھی اسی طرح بنتا ہے مگر کچھ فرق ہے کہ نبیذ کی صورت میں انگور یا کھجوروں کو پانی میں بھگوکر کچھ دن تک کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ اس میں کچھ ہلکی سی تیزی اور تغیر پیدا ہو جائے، لیکن اتنی تیزی یا اتنا زیادہ تغیر نہ ہو جو نشہ آور ہو جانے کی حد تک پہنچ جائے کیونکہ جس نبیذ میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے، اس کا پینا قطعا حرام ہے، نبیذ بھی ایک فائدہ مند مشروب ہے، یہ جسم کی طاقت و قوت میں اضافہ کرتا ہے اور عام صحت کی محافظت کرتا ہے ۔
واضح رہے کہ نبیذ انگور اور کھجور کے علاوہ دوسری چیزوں مثلا شہد، گیہوں اور جو وغیرہ سے بھی بنتی ہے۔(مظاہر حق)

تبصرے

تبصرہ لکھیں

ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018