حضور اکرم ﷺ کی نشست

???? حضرت قیلہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو مسجد (میں کچھ ایسی عاجزانہ صورت) میں گوٹ مارے بیٹھے دیکھا کہ میں رعب کی وجہ سے کانپنے لگی۔
???? اس طرح بیٹھنے کو عربی میں قرفصاء و حبوة اور اردو میں اکڑوں بیٹھنا، گوٹ مارنا کہتے ہیں۔

???? بعض روایات میں احتباء کا لفظ بھی آیا ہے، "قرفصاء" اور "احتباء" میں فرق یہ ہے کہ قرفصاء میں پنڈلیوں کو ہاتھ سے باندھا جاتا ہے اور احتباء میں پیٹھ اور پنڈلیوں کو کپڑے سے باندھا جاتا ہے۔

???? حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا، اس وقت حضور اکرم ﷺ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھے ہوئے تھے۔

???? حضور اکرم ﷺ کا تکیہ لگانا ????
???? حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا جو بائیں جانب رکھا ہوا تھا۔

????آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تو ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔

???? ٹیک لگانے کی چار صورتیں ????
1- دائیں یا بائیں پہلو کو دیوار یا تکیہ سے لگانا۔
2- ہتھیلی سے زمین پر سہارا لینا۔
3- چار زانو ہو کر کسی گدی پر بیٹھنا۔
4- کمر کو گاؤ تکیہ یا دیوار سے لگانا۔

???? ٹیک لگا کر کھانے کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ اس حالت میں آدمی بے فکر ہوجاتا ہے جو کہ شرعی اور طبی اعتبار سے ناپسندیدہ ہے اور دوسرا یہ تواضع کے خلاف بھی ہے۔

???? تکیہ نبوی کی مختلف کیفیات ????
آپ ﷺ کے مختلف تکیے تھے:
١- بالوں والا تکیہ جس کا بھراؤ کھجور کی چھال تھی۔
٢- چمڑے کا تکیہ جس کا بھراؤ کھجور کی چھال تھی۔
٣- چمڑے کا تکیہ جس کا بھراؤ گھاس اذخیر سے تھا۔

???? تکیہ کے علاوہ کسی اور چیز پر سہارا لینا ????

???? حضور اکرم ﷺ کی طبیعت ناساز تھی اس لئے حجرہ شریف سے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ پر سہارا کئے ہوئے تشریف لائے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی، حضور اکرم ﷺ اس وقت ایک یمنی منقش چادر لئے ہوئے تھے۔

???? حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں آپ ﷺ کے مرض الوفات کی حالت میں حاضر ہوا، حضور اکرم ﷺ کے سر مبارک پر اس وقت زرد پٹی بندھی ہوئی تھی، میں نے سلام کیا حضور اکرم ﷺ نے جواب کے بعد ارشاد فرمایا کہ اے فضل! اس پٹی سے میرے سر کو خوب زور سے باندھ دو، پس میں نے تعمیل ارشاد کی، پھر حضور اکرم ﷺ بیٹھے اور میرے مونڈھے پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور مسجد کو تشریف لے گئے۔


???? ایک روایت میں آتا ہے کہ ان تین چیزوں (تکیہ، تیل اور دودھ) کا اگر کوئی شخص ہدیہ پیش کرے، تو اُسے انکار نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ عموماً اِن چیزوں کے لینے دینے میں گرانی محسوس نہیں ہوتی، ایک روایت میں خوشبو کا بھی ذکر ہے۔

???? حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضور اکرم ﷺ کے ذاتی خادم ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ آپ ﷺ کی خدمت میں موجود رہتے، سفر وحضر میں آپ ﷺ کی ساتھ ساتھ رہتے، جب آپ ﷺ سونے کا ارادہ فرماتے تو وہ آپ کا بستر ٹھیک کرتے اور آپ ﷺ کا تکیہ لا کر رکھتے جب آپ ﷺ وضو کے لئے اٹھتے تو وہ وضو کا پانی تیار رکھتے اور سفر وغیرہ میں آپ کے پانی کی چھاگل اپنے ساتھ رکھتے اور ضرورت کے وقت آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیتے۔

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018