حضور اکرم ﷺ کا لباس مبارک

???? حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضور اکرم ﷺ سب کپڑوں میں کرتے کو زیادہ پسند فرماتے تھے۔
???? آپ ﷺ کا کرتا سوت کا بنا ہوا تھا، جو زیادہ لمبا بھی نہ تھا اور اس کی آستین بھی زیادہ لمبی نہ تھی، ایک روایت میں ہے کہ کرتا مبارک ٹخنوں سے اونچا ہوتا تھا، علامہ شامی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نصف پنڈلی تک ہونا چاہیئے، علامہ جزری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ آستین پہونچے تک ہو، انگلیوں سے متجاوز نہ ہو۔

???? لباس نبوی کی کیفیت ????
آپ ﷺ نے مختلف لباس استعمال فرمائے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں :
1- کرتا : سوتی کرتا پسندیدہ تھا اور مرض وفات میں بھی یہی زیب تن تھا۔
2- جبہ : تنگ آستین والا اونی جبہ تھا، آپ کے پاس شامی اور رومی جبہ بھی تھا، سفر میں استعمال فرماتے تھے، ریشمی جبہ بھی تھا جو دشمن سے مقابلہ کے وقت استعمال فرماتے۔
3- جوڑا : سرخ دھاری دار جوڑا تھا جو خاص مواقع مثلا جمعہ، عیدین اور استقبال وفود پر زیب تن فرماتے، عام حالات میں لباس سادہ ہوتا تھا۔
4- نمشین : چمڑے کا صدری نما لباس جو کہ ریشم اور سندس کی بنائی تھی، ریشم کو پٹی میں استعمال کیا تھا، پوری صدری ریشم کی نہ تھی کہ یہ ممنوع ہے۔
5- برنس : جبہ سے ملی ہوئی ٹوپی جو سردی میں استعمال ہوتی تھی۔

???? حضور اکرم ﷺ کی مختلف چادریں ????
یمنی چادر ، اونی چادر ، بالوں والی چادر ، دھاری دار چادر (خاص مواقع کے لئے) جھالر نما چادر ، شامی منقش چادر ، مخلوط ریشم کی چادر ، کالی چادر ، موٹے کنارے والی چادر ، زغفرانی چادر
???? چادر بھی انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے، چادر کو مختلف کاموں میں استعمال کرنا مروی ہے مثلا تکیہ بنانا، چادر کے کنارے کو سر پر ڈالنا، چادر کو دائیں کندھے یا بائیں کندھے پر رکھنا اسلاف کا طریقہ ہے اور دونوں کندھوں پر دونوں کنارے ڈالنا ممنوع ہے۔

???? چادر کی مسنون مقدار ????
دو مقدار مسنون ہیں :
1- چار ہاتھ لمبائی، دو ہاتھ ایک بالشت چوڑائی
2- چھ ہاتھ لمبائی، تین ہاتھ چوڑائی

???? حضور اکرم ﷺ کا عمامہ مبارک ????

????حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ فتح مکہ میں جب شہر میں داخل ہوئے تو حضور اقدس ﷺ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔

????حضور اکرم ﷺ جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملہ کو اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان یعنی پچھلی جانب ڈال لیتے تھے، آپ ﷺ اکثر کالا عمامہ باندھتے تھے کیونکہ آپ کثرت سے تیل لگاتے تھے تو کالے عمامے پر تیل کا اثر زیادہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
???? حضور اکرم ﷺ سفر میں سفید اور حضر میں سیاہ عمامہ باندھتے، البتہ سفر میں کالا عمامہ باندھنا بھی ثابت ہے، بعض علماء کے مطابق اگر عمامہ لباس کا حصہ ہے تو اس میں دوسرے الوان کی گنجائش ہے، ایک موقعہ پر حضور اکرم ﷺ زرد قمیض، زرد چادر اور زرد عمامہ میں ملبوس تھے البتہ کسی ایک رنگ کو شعار بنالینا اور بقیہ ثابت من السنة کو ترک کرنا درست نہیں۔

???? عمامہ کی مقدار ????
1- چھوٹا عمامہ : چھ ذراع کے بقدر
2- درمیانہ عمامہ : سات ذراع کے بقدر
3- بڑا عمامہ : بارہ ذراع کے بقدر

???? عمامہ شملہ اور بغیر شملہ دونوں صورتوں میں باندھنا ثابت ہے اور شملہ کی مقدار کم از کم چار انگلی کے برابر ہو اور زیادہ سے زیادہ ایک ہاتھ لمبائی ہو، اتنا لمبا ہونا کہ بیٹھنے میں کمر سے متجاوز ہوجائے، درست نہیں۔

???? عمامہ باندھنے کا مسنون طریقہ ????
حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپی پر عمامہ باندھنے کا ہے، چنانچہ بغیر ٹوپی کے عمامہ جائز ہے مگر مکروہ ہے۔
???? ٹوپی کو درمیان سے کھلا چھوڑنا صلحاء و علماء کا طریقہ ہے۔
???? عارف باللہ مرشدی حضرت واصف منظور صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ عمامہ خود باندھا جائے، صاف باندھا جائے، صاف رکھا جائے، کھڑے ہوکر باندھا جائے، عمامہ اس طرح باندھا جائے کہ اس سے سنت سے رغبت ہو کراہیت نہ ہو۔

???? حضور اکرم ﷺ کی لنگی مبارک ????

???? حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا وصال دو کپڑوں میں ہوا جس میں ایک پیوند لگی ہوئی چادر اور ایک موٹی لنگی تھی۔

???? حضور اکرم ﷺ کا عام معمول لنگی باندھنے اور چادر اوڑھنے کا تھا۔
???? آپ کی چادر چار ہاتھ لمبی اور اڑھائی ہاتھ چوڑی تھی اور ایک قول کے مطابق چھ ہاتھ لمبی، تین ہاتھ اور ایک بالشت چوڑی تھی۔
???? آپ کی لنگی چار ہاتھ اور ایک بالشت لمبی اور دو ہاتھ چوڑی بتائی جاتی ہے۔

???? لنگی باندھنے کا طریقہ ????
حضور اکرم ﷺ لنگی نصف ساق تک رکھتے تھے، تہبند کے اگلے حصہ کو نیچا رکھتے اور پچھلے حصہ کو اونچا رکھتے تھے۔

???? پاجامہ پہننا مستحب ہے ????
اس کا پہننا مختلف فیہ ہے، راجح قول عدم ثبوت کا ہے البتہ آپ ﷺ کے ترکہ میں پاجامہ تھا، ارشاد نبوی ہے کہ پاجامہ پہنو کہ یہ تمہارے لباس میں زیادہ ستر کے لائق ہے اور عورتوں کو بھی پہناؤ جب وہ باہر نکلیں۔
???? بعض اہل اللہ مشائخ کو دیکھا ہے کہ وہ پاجامہ اور ازار (لنگی) دونوں کو جمع کرلیتے ہیں۔

???? حضور اکرم ﷺ کے موزے مبارک ????

???? حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی شاہ حبشہ نے حضور اکرم ﷺ کے پاس سیاہ رنگ کے دو سادے موزے ہدیةً بھیجے تھے، حضور اکرم ﷺ نے ان کو پہنا اور وضو کے بعد ان پر مسح بھی فرمایا۔

???? موزے کے متعلق اسوہ حسنہ ????
چند قسم کے موزے پہننا ثابت ہیں :
سیاہ رنگ کے موزے، چمڑے کے موزے، دبیز سوتی یا اونی موزے جسکو جورب کہتے ہیں، رموق یعنی چمڑے کا خول جو موزہ پر اسکی حفاظت کے لئے پہنا جاتا ہے۔

???? موزے کے آداب ????
1- پہلے دایاں پہنے پھر بایاں۔
2- پہننے سے قبل جھاڑ لے۔
3- دونوں پاؤں میں ایک جیسا موزہ پہنے۔
4- صاف ستھرا اور موسم کے اعتبار سے پہنے۔
5- پھٹے ہوئے موزے پہننے سے اجتناب کرے۔

???? حضور اکرم ﷺ کے جوتے مبارک ????

???? حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ حضور اکرم ﷺ کے نعل شریف کیسے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہر ایک جوتے میں تسمے تھے۔

???? حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بغیر بالوں کے چمڑے کا جوتا پہنتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو ایسا ہی جوتا پہنتے ہوئے اور اس میں وضو فرماتے ہوئے دیکھا ہے، اس لئے میں ایسے ہی جوتے پسند کرتا ہوں ۔

???? نعلین مبارک کی کیفیت ????
????نعل مبارک چپل نما تھا اور ہر نعل میں تسمے تھے، ایک روایت کے مطابق درمیان کا تسمہ دہرا تھا۔
????نعل مبارک کا تلہ دہرا تھا، گائے کے چمڑے کا بنا ہوا تھا۔
???? نعل مبارک ایڑی نما تھا، ایک مطلب یہ ہے کہ ایڑی کی جانب کچھ نکلا ہوا تھا تاکہ پیر کا کچھ حصہ بھی باہر نہ رہے۔
دوسرا مطلب ایڑی کی جانب چمڑے کی ایک پٹی تھی جس سے پیر کو باندھ لیتے جیسے سینڈل نما چپل میں ہوتا ہے۔
???? نعل مبارک کا اگلا حصہ مثل زبان کے گولائی لئے ہوئے تھا، بعض علماء نے محراب کی شکل میں بتلایا ہے۔
???? نعل مبارک دباغت شدہ چمڑے کا تھا جس پر بال نہ تھے، یہ عربوں میں اہل وسعت لوگ استعمال کرتے تھے۔
???? چمڑے کی زردی کی وجہ سے نعل مبارک بھی زرد رنگ معلوم ہوتا تھا ۔
???? نعل مبارک کی لمبائی ایک بالشت دو انگل، چوڑائی ٹخنے کے قریب سات انگل اور وسط قدم میں پانچ انگل اور اوپر پنجہ کے پاس سات انگل تھی، دونوں تسموں کے درمیان دو انگل کا فاصلہ تھا۔

???? جوتے پہننے کے آداب ????
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص تم میں سے جوتا پہنے تو دائیں سے ابتداء کرنی چاہیئے اور جب نکالے تو بائیں سے پہلے نکالے، دایاں پاؤں جوتا پہننے میں مقدم ہونا چاہیئے اور نکالنے میں مؤخر۔
???? جوتے یا چپل بیٹھ کر پہنے اور کھڑے ہوکر بھی پہن سکتا ہے۔
????ایک جوتا یا چپل پہن کر چلنا بے وقوفی ہے۔

تبصرے

تبصرہ لکھیں

ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018