حضور اکرم ﷺ کا کنگھی فرمانا

????حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ اپنے سر مبارک پر اکثر تیل کا استعمال فرماتے تھے اور اپنی ڈاڑھی مبارک میں اکثر کنگھی کیا کرتے تھے اور اپنے سر مبارک پر ایک کپڑا ڈال لیا کرتے تھے جو تیل کے کثرت استعمال سے ایسا ہوتا تھا جیسے تیلی کا کپڑا ہو۔
????حضور اکرم ﷺ اپنے وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں، جوتا پہننے میں (غرض ہر امر میں) دائیں کو مقدم رکھتے تھے، یعنی پہلے دائیں جانب کنگھا کرتے پھر بائیں جانب، کبھی خود کنگھی فرماتے اور کبھی ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کرواتے، یہ گھر کی معاشرت کا نمونہ ہے، آپ ﷺ سے مانگ نکالنا اور سدل کرنا یعنی بالوں کو پیچھے کرنا دونوں ثابت ہیں، مانگ نکالنے کو آخری عمل بتلایا گیا ہے۔(ملا علی قاری رحمہ اللہ)

???? تیل لگانے کا مسنون طریقہ ????
آپ ﷺ ڈاڑھی کو کبھی پانی سے سنوارتے کبھی تیل سے، تیل لگانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ تیل بائیں ہاتھ میں رکھے، دائیں ہاتھ سے دونوں بھوؤں پر لگائے، آنکھوں اور سر پر لگائے، تیل کی ابتداء پیشانی سے کرے کہ اس سے سر کا درد دور ہوتا ہے، ایک روایت کے مطابق تیل لگاتے وقت بسم اللہ نہ پڑھنے پر ستر شیاطین ساتھ ہوجاتے ہیں۔

???? ڈاڑھی میں تیل لگانے کا مسنون طریقہ ????
پہلے ریش میں لگائے پھر بقیہ ڈاڑھی میں دائیں بائیں کرکے لگائے، ڈاڑھی میں تیل لگانا اور کنگھی کرنا سنت ہے اور ایک مشت سے زائد ڈاڑھی کو طول و عرض سے کم کرنا بھی سنت ہے، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ سے بھی ایک مشت سے زائد ڈاڑھی کا کم کرنا منقول ہے، اسی طرح آپ ﷺ اپنی لبوں کو کترتے لیتے تھے اور یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی بھی سنت ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔(ترمذی)

???? کنگھی کا مسنون طریقہ ????
پہلے دائیں جانب، پھر بائیں جانب کرے، تکبر کی نیت نہ ہو تو روزانہ کرے ورنہ ایک دن ناغہ کرے، صفائی ستھرائی کا اہتمام لازمی ہے، بالوں اور لباس کا پرا گندہ رکھنا تعلیمات نبوی کے خلاف ہے۔

???? حضور اکرم ﷺ کا خضاب لگانا ????

???? حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو بالوں کو خضاب کیا ہوا دیکھا۔
????آپ ﷺ سے خضاب لگانے اور نہ لگانے دونوں کی بابت روایات ہیں، خلاصہ یہ ہے آپ ﷺ ورس اور زعفران سے بالوں کو دھوتے تو اس کا کچھ اثر باقی رہ جاتا یا عطر و تیل کی وجہ سے خضاب والے معلوم ہوتے یا سر درد کی وجہ سے سر میں مہندی لگائی تو اس کو مجازاً خضاب کہدیا گیا۔
???? بالوں کو کالا کرنا خواہ خضاب سے ہو یا کالی مہندی سے، مکروہ تحریمی ہے البتہ براؤن رنگ لگانا جائز ہے۔ (امداد الفتاوی)

???? حضور اکرم ﷺ کا سرمہ لگانا ????

????حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے سب سرموں میں سرمہ اثمد بہترین سرمہ ہے، آنکھ کو بھی روشنی پہنچاتا ہے اور پلکیں بھی اگاتا ہے۔
????حضور اکرم ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سونے کے وقت تین تین سلائی آنکھ میں ڈالا کرتے تھے۔

???? سرمہ لگانے کا مسنون طریقہ ????
تین طریقے مسنون ہیں :
1- دونوں آنکھوں میں مشترکہ طور پر تین تین سلائی لگائے۔
2- پہلے دائیں آنکھ میں تین لگائے پھر بائیں آنکھ میں تین لگائے۔
3- دونوں آنکھوں میں الگ الگ دو دو لگائے اور پھر ایک سلائی دونوں آنکھوں میں مشترکہ لگائے۔
???? آپ ﷺ سفر و حضر میں پانچ چیزیں ساتھ رکھتے تھے : آئینہ، سرمہ دانی، کنگھی، تیل اور مسواک۔

???? حضور اکرم ﷺ کا خوشبو لگانا ????

????حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں نہیں لوٹانی چاہئیں : تکیہ، خوشبو اور دودھ، بعض روایات میں تیل کا بھی ذکر ہے۔

????حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جو بہترین خوشبو میسر آتی وہ میں حضور اکرم ﷺ کو لگاتی، یہاں تک کہ اس خوشبو کی چمک مجھ کو آپ ﷺ کے سر اور داڑھی میں نظر آتی۔ (بخاری ومسلم )

???? آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ مردانہ خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو پھیلتی ہوئی ہو اور رنگ غیر محسوس ہو (جیسے کیوڑہ وغیرہ) اور زنانہ خوشبو وہ ہے جس کا رنگ غالب ہو اور خوشبو مغلوب (جیسے حنا، زعفران وغیرہ)
???? آپ ﷺ کے بدن مبارک سے خود خوشبو مہکتی تھی، آپ کے پسینہ مبارک کی خوشبو بھی ہر خوشبو سے زیادہ عمدہ تھی، آپ کے لعاب مبارک کی خوشبو مشک سے زیادہ تھی۔
???? عطریات میں آپ ﷺ کو عود قماری (ہندوستانی عود کی قسم) بہت پسند تھا، مشک و عنبر بھی استعمال فرمایا اور خالص عود کی دھونی اور عود بمعہ کافور کی دھونی بھی پسند فرمائی، آپ کے پاس عطر دان تھا جس سے خوشبو لگاتے تھے، اجتماعات، مجالس، تہجد، عیدین، احرام میں نیت سے قبل اور زوجین کی باہمی ملاقات کے وقت خوشبو لگانا سنت ہے اور عورت کے لئے ایام سے فراغت کے بعد خوشبو لگانا پسندیدہ ہے۔

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018