قسطوں پر خرید و فروخت

آج کل قسطوں پر خرید وفروخت کا سلسلہ عام ہے، یہ اس وقت عوامی ضروریات کا حصہ بن چکی ہے، اس لئے اس کا فروغ بڑھ گیا ہے، اسکو عرب ممالک میں "شراء بالتَّقسیط" اور پاکستان میں"بیع بالإجارة" برطانیہ میں "ہائرپرچیز"(Hirepurchase) امریکہ میں "انسٹالمنٹ کریڈٹ" (Instalment Credit) "انسٹالمنٹ بائنگ"(Instalment Buying) وغیرہ کہا جاتا ہے، خرید و فروخت کی یہ شکلیں بالعموم کسٹمر کو مناسب قرض (Consumer Credit) کی سہولت کے لئے اختیار کی جاتی ہیں۔
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ اس میں سامان بیچنے والا اور خریدنے والا ایک مجلس میں معاملہ کرتے ہیں، بائع (saler) عموماً اپنے سامان (Product) کی قیمت نقد بیع (sale) کی بنسبت زیادہ لگاتا ہے، اور خریدنے والے (Purchaser) کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ ایک متعین مدت تک وہ تھوڑی تھوڑی رقم قسط وار (Instalment) ادا کرتا رہے، جس میں اس کو ادائیگی میں سہولت ہو، یہ بیع (Sale) درست ہے، کیونکہ اس مسئلہ میں ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ بائع کو اپنی چیز میں اختیار ہے جس قیمت پر چاہے بیچ سکتا ہے، اس لئے اس بیع کے عدم جواز (Prohibition) کی کوئی وجہ نہیں ہے، لہٰذا اگر کوئی قسطوں کے اعتبار سے کاروبار کرے اور دوسرا خریداری کرے تو یہ خرید و فروخت مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے۔

● خریدی جانے والی کوئی چیز (Product) ہو، کوئی قرض (Loan) یا رقم نہ ہو۔

● جائز اور حلال اشیاء کی تجارت ہو، اور وہ چیز مال متقوم (Valuable) ہو، مال متقوم یہ ہے کہ جس چیز کی شریعت یا عرف میں مالیت اور قیمت معتبر ہو۔

● مجلسِ عقد (Place of Contract) میں مبیع (Subjaect matter of Sale) کی پوری قیمت طے کرلی جائیں۔

● قسطیں (Instalments) متعین کرلی جائے۔

● قیمت (Price) ادا کرنے کی مدّت (Time of Payment) متعیّن کرلی جائے۔

● واپسی کی مدت کے اندر اندر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں خریدار پر مالی جرمانہ (Financial penalty) یا اس سے کسی قسم کی مزید رقم کا مطالبہ نہ کیا جائے (کیونکہ یہ سود میں داخل ہے)

● اس میں کوئی شرطِ فاسد (Corrupt Condition) نہ ہو، اگر کوئی شرطِ فاسد لگائی گئی تو یہ ناجائز ہوگا، شرط فاسد یہ ہے کہ وہ شرط لگانا جو عقد کے مقتضی (Requirments) کے خلاف ہو، اور وہ شرط عاقدین (Contractors) میں سے کسی ایک کے نفع میں ہو اور وہ شرط لوگوں میں مستعمل اور معروف نہ ہو، مثلاً یہ شرط کہ جب تک خریدار تمام قسطیں ادا نہ کردے وہ اس چیز کا مالک نہیں ہوگا، یہ شرط فاسد ہے، بیع کے صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مشتری کو مالکانہ قبضہ (Ownership Possession) دیا جائے، خواہ قیمت نقد (Cash) ادا کی گئی ہو یا اُدھار (Credit) ہو، اور اُدھار کی صورت میں یکمشت ادا کرنے (Full Cash Payment) کا معاہدہ ہو یا بالاقساط (On Instalments) ہر صورت میں مشتری کا قبضہ مالکانہ قبضہ تصوّر ہوگا، اور اس کے خلاف کی شرط لگانے سے معاملہ فاسد ہوجائے گا۔

● اُدھار رقم کی وصولی کے لئے ضمانت (Guarantee) طلب کرنے کی شرط لگانا صحیح ہے اور یہ شرط لگانا بھی درست ہے کہ اگر مقرّرہ وقت پر ادا نہ کی گئی تو بائع کو خریدار کی فلاں چیز فروخت کرکے اپنی قیمت وصول کرنے کا حق ہوگا، تاہم یہ ضرور ہے کہ اس کے قرضے (Liability) سے زائد رقم (Extra Amount) اسے واپس کردی جائے گی۔

● عام طور پر قسطوں پر جو چیز دی جاتی ہے، اس کی عموما قیمت زیادہ لگائی جاتی ہے تو اس معاملے کو شریعت نے عاقدین کی صوابدید (Muatul Understanding between Contractors) پر چھوڑا ہے، اگر خریدار محسوس کرتا ہے کہ قسطوں کی صورت میں اسے زیادہ نقصان اُٹھانا پڑے گا تو وہ اس خریداری سے اجتناب کرسکتا ہے، تاہم استحصال (Exploitation) کی صورت میں جس طرح گورنمنٹ کو قیمتوں پر کنٹرول کا حق ہے، اسی طرح بیع بالاقساط کی قیمت پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے، تاہم قسطوں پر خریداری عوام کے لئے سہل (Easy) ہے، اس لئے قطعی طور پر اس پر پابندی لگادینا مصلحتِ عامہ کے خلاف ہے۔

خلاصہ یہ کہ بیع بالأقساط اگر قواعدِ شرعیہ (Rules of Sharia) کے ماتحت ہو اور شروطِ فاسدہ (Corrupt Conditions) سے پاک اور خالی ہو تو جائز ہے، ورنہ ناجائز ہے۔

□ سنن الترمذى:
عن أبي هريرة قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة... 
وقد فسر بعض أهل العلم قالوا بيعتين في بيعة أن يقول أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة وبنسيئة بعشرين ولا يفارقه على أحد البيعين فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما

□ الهداية شرح البداية (٢٢/٣) قال ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما لإطلاق قوله تعالى {وأحل الله البيع } وعنه عليه الصلاة والسلام أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه ولا بد أن يكون الأجل معلوما.

□ بدائع الصنائع (٢٤٧/١١)
( منها ) أن يكون الأجل معلوما في بيع فيه أجل فإن كان مجهولا يفسد البيع سواء كانت الجهالة متفاحشة : كهبوب الريح ، ومطر السماء ، وقدوم فلان ، وموته ، والميسرة ، ونحو ذلك ، أو متقاربة : كالحصاد ، والدياس ، والنيروز ، والمهرجان ، وقدوم الحاج ، وخروجهم ، والجذاذ ، والجزار ، والقطاف ، والميلاد ، وصوم النصارى ، وفطرهم قبل دخولهم في صومهم، ونحو ذلك.

□ المبسوط للسرخسي - (١٣/٧)
وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد...وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد۔

□ الفقه الإسلامي وأدلته (١٤٧/٥)
أجاز الشافعية والحنفية والمالكية والحنابلة وزيد بن علي والمؤيد بالله والجمهور: بيع الشيء في الحال لأجل أو بالتقسيط بأكثر من ثمنه النقدي إذا كان العقد مستقلاً بهذا النحو، ولم يكن فيه جهالة بصفقة أو بيعة من صفقتين أو بيعتين، حتى لايكون بيعتان في بيعة.

□ شرح المجلة، ۱/ ۱۲۵، المادة: ۲٤٥، ۲٤٦)
البیع مع تأجیل ا لثمن وتقسیطه صحیح یلزم أن تکون المدّة معلومة في البیع بالتأجیل والتقسیط.
(نیز دیکھیں : فقہی مقالات ۱؍۷۲، احسن الفتاویٰ ٦؍۵۱۹، جدید فقہی مسائل ۳٦٨، آپ کے مسائل اور ان کا حل ٦؍۱٤٦، اسلام اور جدید معاشی مسائل (۳/ ۹۲ تا ۹۵)

تبصرے

تبصرہ لکھیں

متعلقہ الفاظ
  • #فقہیات
  • #قسط
  • #تجارت
  • ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
    ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
    شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018