تصویر کشی، انتہائی تکلیف دہ انکشاف

پیاری بہنو!
ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی جس طرف ہماری توجہ نہ ہونے کے برابر ہے، کچھ تو لاعلمی کی وجہ سے اور کچھ باجود جاننے کے  توجہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے۔
دیکھئیے!اسلام نے تصویر کو قطعی طور پر حرام قرار دیاہے ، اور اس حرمت کے حوالے سے قطعی نصوص احادیث کی کتابوں میں بکثرت موجود ہیں ۔  رسول اللہ ﷺکی تصاویر سے نفرت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ اس گھر میں داخل ہی نہ ہوتے جہاں تصاویر پائی جاتیں ۔ بخاری ومسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک  مرتبہ انہوں نے ایک ایسا تکیہ خریدا جس میں کچھ عکس بنے ہوئے تھے ، آقا کی نظر جب پڑی اوروہ تکیہ دیکھا  تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اور گھر میں داخل نہ ہوئے ، سیدہ فرماتی ہیں کہ میں نے چہرہ انور پر ناگواری کے آثار محسوس کرلئے ۔ تو کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ’’ میں اللہ اور اس کے رسول کے حضور توبہ کرتی ہوں میں نے کیا گناہ کیاہے ؟ آپ نے فرمایا : اس تکیہ کا کیا ماجرا ہے ؟ میں کہنے لگی :’’ میں نے اسے آپ کیلئے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا’’ کہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے روز عذاب دیا جائے گا ، اور انہیں کہا جائے گا کہ  اسے زندہ کرو جو تم نے پیدا کیا اور بنایا ہے ۔ ‘
اور بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ تصویر کشی سے پیدا ہونے والے اور بھی کئی سارے ایسے مفاسد ہیں جو سماج کی بگاڑ میں اپنا خوب کردار ادا کررہے ہیں
٭ نسل نو کی تباہی کی ذمہ دار تصویر ہی ہے وہ چاہے تصاویر ہوں یا ویڈیوز  نوجوان نسل کو بے راہ روی پر گامزن کرنے والی ، ان میں بے حیائی اور گناہ کبیرہ کے جذبات کو برانگیختہ کرنے والی اور اشتعال پیدا کرنے والی چیز یہی تصویر سازی  ہے ۔
٭اخلاق اور دین کی تباہی اسی تصویر سازی کے ذریعے ہوتی ہے ۔ظاہر ہے اچھی سے اچھی تصویر کھینچ کر اسکو کسی کو دکھانے کی خواہش بھی پیدا ہوتی ہے جو عزتوں اور عفتوں کی تباہی کا باعث ہے ۔
٭عبادات کا ضیاع اور ریاکاری کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ حاجی اتنا مال ومتاع خرچ کرکے اللہ کے گھر اللہ کو خوش کرنے اور رسول اللہ ﷺ کے گھر ان کو راضی کرنے جاتاہے اور وہاں عبادت کے دوران بھی سیلفی میں مشغول ومگن رہتاہے جو سراسر ناراضگی اور غضب کا سبب ہیں ۔ دوران طواف جو وقت ذکر واذکار وتسبیح کا ہے وہ سیلفی میں گذرتاہے ۔ اب اگر یہ ریاکاری نہیں تو کیا ہے یہاں تک کہ اس فعل حرام کا ارتکاب اب بیوت اللہ میں ہونے لگا ہے ۔ اب مساجد میں بے دریغ تصاویر بنائی جاتی ہیں اور افسوس یہ کہ احساس گناہ نہیں رہا وہ سرے سے ختم ہوگیا ۔بلکہ ایسا گناہ جو اب ہر پل ہورہا  ہےکہ  نماز میں ہے تو اس کی جیب میں تصاویر اور ویڈیوز کی شکل میں بیشمار ویڈیو کلپ موجود ہیں ۔ اگر چل رہا ہے تو اس میں مشغول ، لیٹاہے تو اسی شغل میں لگا ہے ، بیٹھا ہے تو بھی وہی حال ہے ۔ کہیں کوئی منظر نظر آیا چاہے وہ اچھا ہو برا ہو یا عجیب ہو سب سے پہلا خیال موبائل نکال کر تصاویر کا ہی آتا ہے ۔الحفیظ والامان
آج ہم میں اس مرض کو اتنا زیادہ عام کر دیا گیا ہے کہ بہت ساری پردہ دار بہنیں بھی اس مرض میں مبتلا ہوگئیں   ۔ جس کا ان کے پاس بہت آسان اور سادہ جواز ہے کہ اپنے پرسنل موبائل میں تصویر کھینچتے ہیں جس کو کوئی نا محرم نہیں دیکھتا  نہ ہم کسی کو دکھاتے ہیں نہ کسی نامحرم کو بھیجتے ہیں ۔ تو میں آپکو بتاؤں پہلے مجھے بھی یہی لگتا تھا کہ اپنے پرسنل موبائل میں تصویر رکھنے سے کوئی ممانعت  یا نقصان نہیں لیکن جب کمپیوٹر اور سوفٹ وئیر ز کے بارے میں سیکھنا اور معلومات لینا شروع کیں تو مجھے ایک بہت حیرت ناک انکشاف کا سامنا کرنا پڑے جس کی مزید تحقیق نے حقیقت میں مجھ پر وہ کچھ عیاں کیا جس کا تصور بھی نہ کرسکتی تھی۔
وہ یہ کہ جب بھی ہم کوئی ایپلیکیشن ڈاؤنلوڈ کرتے ہیں اس میں انسٹال کے بٹن پر بغیر اس کی تفصیل پڑھے کلک کر دیتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ اس ایپلیکیشن کی یہ تفصیل پڑھ لیتے ہیں کہ یہ کس کس کام کے لئے استعمال ہوسکتی ہے۔ اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں پڑھتے یہاں تک کہ شرائط و ضوابط بھی بغیر پڑھے ''قبول'' کرلیتے ہیں ۔ 
کیا آپ تصور بھی کر سکتے ہیں کہ تقریبا یہ تمام فری ایپلیکیشنز ہمارے موبائل کے تقریبا تمام اہم ڈیٹا تک پہنچتی ہیں اور ہمیں اسکا بتاتی ہیں جس کو ہم پڑھتے نہیں ہیں  خاص کر ہر ہر ایپلیکیشن ہمارے موبائل کی گیلری میں ضرور رسائی حاصل کرتی ہے اور ہماری فوٹو گیلری کا تمام ڈیٹا اس کے سامنے ہوتا ہے جس کو وہ اپنے پاس محفوظ کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر استعمال کرتے ہیں ۔ حتی کہ بہت مشہور اور عام سی وہ دو تین ایپلیکیشنز جو ہر خاص و عام آج کل استعمال کر رہا ہے اس کی رسائی بھی ہماری تمام تصاویر ، تمام ویڈیوز اور تمام کانٹیکٹ نمبر تک ہوتی ہے۔ اب اندازہ لگائیں ایک مکمل شرعی پردہ کرنے والی بہن اگر اپنی تصویر اپنے پرسنل موبائل میں انتہائی خفیہ اور سخت سیکیورٹی کوڈ کے ساتھ بھی رکھتی ہے تو کیا وہ بے پردگی سے بچی ہوئی ہے  ؟ دیگر مفاسد جو ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن سب سے بڑا اور خطرناک ترین امر یہ کہ ہم مکمل شرعی پردہ کے باوجود گھر بیٹھ کر اتنی کھلی اور سخت بے پردگی کے مرتکب ہورہے ہیں  کو آخرت میں پکڑ کا سبب ہے ہی لیکن دنیا میں بھی خدانخواستہ کہاں کہاں اور کن کن کاموں میں ہماری تصاویر استعمال ہو رہی ہیں ہمیں نہیں معلوم ،یہاں تک کہ اگر لیپ ٹاپ یا موبائل صرف نیٹ سے کنکٹ ہے یعنی اسمیں نیٹ آن ہے تو کوئی بھی آپ کے لیپ ٹاپ کے کیمرے تک رسائی حاصل کرکے آپکی تصاویر لے سکتا ہے اور یہ ایسا خطرہ ہے جس کے پیش نظر تمام بڑے چھوٹے سوفٹ وئیر انجینئرز اپنے لیپ ٹاپ کے کیمرے پر ٹیپ لگا کر رکھتے ہیں۔
میری اپنی تمام بہنوں سے عموما اور پردہ کرنے والی قابل صد احترام بہنوں سے خصوصا درخواست ہے کہ اپنے ذاتی موبائل میں بھی اپنی تصویر بنانا اور رکھنا چھوڑ دیجئے اور تمام ان بہنوں کو مسلسل ترغیب دیجیئے جو انجانے میں بے پردگی جیسے گناہ کی مرتکب ہورہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نہ جانے کس کس کام میں اپنی تصاویر کے استعمال کا سبب بن رہی ہیں۔
امید ہے آپ ان پہلوؤں پر ضرور سوچیں گی اور اس طرح کے ماحول سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی
اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018