سانحہ قندوز: بائیں ہاتھ والے!

روزانہ نیٹ پر اخبارات پڑھنے کے ساتھ، (BBC) اردو سائٹ کا وزٹ بھی معمول میں شامل ہے…
کل جیسے ہی قندوز حملے میں101بچوں کی شہادت کا علم ہوا… فورا بی بی سی کی سائٹ کھولی کہ تازہ ترین صورت حال کا علم ہو سکے…
جیسی روح فرسا تصویریں فیس بک پر دیکھی تھیں… خیال تھا کہ بی بی سی پر بھی ایسی ہی کئی غم ناک تصویریں اور کئی زاویوں سے نمایاں رپورٹس شائع ہوں گی… کیوں کہ میں نے محسوس کیا تھا کہ بی بی سی کو انسانیت بلکہ ہر جاندار کا جیسا درد ہے، دوسرے ادارے اس سے بالعموم خالی ہیں…
ابھی کچھ دن قبل امریکا کے ایک اسکول پر حملے کی وجہ سے مارے جانے والے طلبہ کا سوگ (BBC) نے کئی دن تک منایا تھا اور کئی پہلوؤں سے منایا تھا… افریقی مگرمچھوں کی نسل کشی ہو یا پیرو کے نایاب نسل کے کچھوؤں کی معدومی… بی بی سی نے ہمیشہ تہلکہ خیز رپورٹس کے ذریعے ان گلوبل "مسائل" کی سنگینی کو بہت اچھے طریقے سے واضح کیا تھا…
مگر… کل بی بی سی کی سائٹ پر جو ایک اکلوتی نہایت غیر جذباتی مشینی انداز کی رپورٹ قندوز سانحے پر سامنے آئی، اس میں بھی عنوان تو رہنے دیجیے… بارہ پندرہ سو الفاظ کے متن میں بھی بغور ڈھونڈنے کے بعد صرف ایک جگہ سرسری سے انداز میں’’ لفظ‘‘ بچوں نظر آیا ۔
خیال آیا کہ بڑا نشریاتی ادارہ ہے، مصدقہ خبریں، اطلاعات اور تصاویر ہی لگائے گا… اس کے لیے ظاہر ہے انہیں کچھ وقت چاہیے ہوگا…
مگر آج دیکھا تو (BBC) پر اہم ترین اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی رپورٹس میں تو خیر کہاں ہونا تھا… کہیں کسی کونے کھدرے میں بھی، صرف ایک دن پہلے کے اس اتنے بڑے اور دردناک سانحے کی خبر کا کوئی سراغ نہیں ہے… کہیں بھی نہیں!
جذبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پوری غیر جانبداری سے بتائیے کہ اگر یہ بچے، بچے بھی نہ ہوتے… بڑے ہوتے… بس ان کا لباس کچھ اور ہوتا… اور اس عمارت کا نام جس میں وہ تعلیم حاصل کرتے تھے، انگریزی میں ہوتا… نیز 101 کے ہندسے کا محض دسواں حصہ بھی ہوتا تو…کیا ایسا ہوتا…؟!
جی نہیں… پوری دنیا میں بالعموم اور بالخصوص عالمی میڈیا میں ایسا طوفان اٹھتا کہ ہفتوں اس کی بازگشت رہتی… سوشل میڈیا پر بھی نیلی پیلی ڈی پیاں ہوتیں اور ہر ایرے غیرے کی طرف سے یہ مطالبہ ہوتا کہ اگر مگر اور چوں کہ چناں چہ کے بغیر ہر ایک غیر مشروط طور پر مذمت کرے…
محققین ایسے ایسے نادر زاویوں سے سانحے کی جزئیات کےبخیے ادھیڑتے کہ عقل گنگ رہ جاتی…اور ادیب ایسے دردناک مرثیے تخلیق کرتے… کہ جنہیں پڑھ پتھر بھی سینی کوبی پر مجبور ہو جاتے!
مگر چوں کہ یہ 100 معصوم بچے… مگرمچھوں کے بچے نہیں تھے… یہ پیرو کے کچھوے اور لاطینی امریکا کے نایاب اژدھے بھی نہیں تھے… یہ غریب تو باجوڑ کے 100 بچوں کے پڑوسی تھے… انہی کے نقش قدم پر قدم جماتے، سروں پر خونی دستار سنبھالتے جنت کو چلے گئے…
سو بائیں بازو والے بھلا ان کو روتے بھی تو کیوں روتے، کیوں مذمت کرتے…؟
ویسے اچھا ہی ہے…
ہمارے بچوں کا خون اس سے کہیں بلند تر ہے کہ "اصحاب الشمال" کی نجس زبانیں ان کے لیے ڈرامے بازی کریں۔
ہاں البتہ ایک دن آنے والا ہے کہ جب فرمایا جاوے گا:
٭
بائیں ہاتھ والے (افسوس) کیا ہی برے حال میں ہیں بائیں ہاتھ والے
گرم ہوا اور گرم پانی میں 
اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں 
جو نہ ٹھنڈا ہے نہ فرحت بخش 
بے شک یہ لوگ بہت نازوں میں پلے ہوئے تھے 
البتہ (عنقریب) کھانے والے ہیں تھوہر کا درخت 
پھر اس پر گرم کھولتا پانی پینے والے 
پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح
اور بائیں ہاتھ والے، کیا ہی بُرے ہیں بائیں ہاتھ والے!
٭٭٭
م۔ ف۔ ش

تبصرے

  • جزاکم اللہ خیراً
    جھنجوڑ دینے والی تحریر

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018