سیرتِ رسولﷺ کا اصل پیغام

معروف کالم نگار انور غازی صاحب کا سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی پرمغز اور خوبصورت کالم

”سیرتِ رسولﷺ آج کا ایک اہم ترین موضوع ہے۔ اگر سیرتِ رسولﷺ پر سنجیدگی سے عمل کرلیا جائے تو ہماری تمام مشکلات اوردنیا کے مسائل حل ہوجائیں۔

دیکھیں!اسلام ایک مکمل ضابطہ ¿ حیات ہے۔ آپ ﷺکی سیرت اور طریقے میں دنیا بھر کے گھمبیر اور پیچیدہ مسئلوں کا قابلِ قبول حل موجود ہے۔

ایک مرتبہ علامہ اقبال ”مسولینی“ سے ملے تو دوران گفتگو علامہؒ نے حضور ﷺکی اس پالیسی کا ذکر کیا کہ شہر کی آبادی میں غیر ضروری اضافے کے بجائے دوسرے شہر آباد کیے جائیں۔ مسولینی یہ سن کر مارے خوشی کے اُچھل پڑا۔ کہنے لگا: ”شہری آبادی کی منصوبہ بندی کا اس سے بہتر حل دنیا میں موجود نہیں ہے۔

آج سے چودہ سو سال پہلے آپ ﷺنے حکم دیا تھا کہ مدینہ کی گلیاں کشادہ رکھو۔ گلیوں کو گھروں کی وجہ سے تنگ نہ کرو۔ ہر گلی اتنی کشادہ ہو کہ دو د لدے ہوئے اونٹ آسانی سے گزرسکیں۔ 14 سو سال بعد آج دنیا اس حکم پر عمل کررہی ہے۔ شہروں میں تنگ گلیوں کو کشادہ کیا جارہا ہے۔

آپ ﷺنے حکم دیا تھا کہ مدینہ کے بالکل درمیان میں مرکزی مارکیٹ قائم کی جائے۔ اسے ”سوقِ مدینہ“ کا نام دیا گیاتھا۔ آج کی تہذیب یافتہ دنیا کہتی ہے کہ جس شہر کے درمیان مارکیٹ نہ ہو وہ ترقی نہیں کرسکتا۔

آپ ﷺنے کہا تھا: ”یہ تمہاری مارکیٹ ہے۔ اس میں ٹیکس نہ لگاﺅ۔ “ آج دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مارکیٹ کو ٹیکس فری ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں ڈیوٹی فری مارکیٹ کا رجحان فروغ پارہا ہے۔

آپﷺ نے سود سے منع فرمایا تھا۔ آج پوری دنیا میں فری ربا انڈسٹری فروغ پارہی ہے۔

آپ ﷺنے ذخیرہ اندوزی سے منع کیا۔ آج دنیا اس حکم پر عمل کرتی تو خوراک کا عالمی بحران کبھی پیدا نہ ہوتا۔

آپ ﷺنے فرمایا تھا سٹے سے نفع نہیں نقصان ہوتا ہے، آج عالمی مالیاتی بحران نے اس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

آپ ﷺنے صحابہ کرامؓ کو منع کیا کہ درختوں کو نہ کاٹو۔ کوئی علاقہ فتح ہو تو بھی درختوں کو آگ نہ لگاﺅ۔ آج ماحولیاتی آلودگی دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گلیشئرز پگھل رہے ہیں۔ گرمی بڑھ رہی ہے۔ یہ سب کچھ درختوں اور جنگلات کی کمی کی وجہ سے ہورہا ہے۔

ایک شخص نے مدینہ کے بازار میں بھٹی لگالی۔ حضرت عمرؓ نے اس کہا: ”تم بازار کو بند کرنا چاہتے ہو؟ شہر سے باہر چلے جاﺅ۔ “ آج دنیا بھر میں انڈسٹریل علاقے شہروں سے باہر قائم کیے جارہے ہیں۔

رسول اللہ ﷺنے مدینہ کے باہر ”محی النقیع“ نامی سیرگاہ بنوائی۔ وہاں پیڑ پودے اس قدر لگوائے کہ وہ تفریح گاہ بن گئی۔ گاہے گاہے رسول اللہ خود بھی وہاں آرام کے لیے تشریف لے جاتے۔ آج صدیوں بعد ترقی یافتہ شہروں میں پارک قائم کیے جارہے ہیں۔ آج کل شہریوں کی تفریح کے لیے ایسی تفریح گاہوں کو ضروری اور لازمی سمجھا جارہا ہے۔

آپ ﷺنے مدینہ کے مختلف قبائل کو جمع کرکے ”میثاقِ مدینہ“ تیار کیا۔ 52 دفعات پر مشتمل یہ معاہدہ دراصل مدینہ کی شہری حکومت کا دستور العمل تھا۔ اس معاہدے نے جہاں شہر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا، وہیں خانہ جنگیوں کو ختم کرکے مضبوط قوم بنادیا۔ آج ہمارا کا سب سے بڑا مسئلہ یہی خانہ جنگی ہے۔ کئی ملک اس آگ میں جل رہے ہیں۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے معاہدوں پر معاہدے رہے ہیں۔

مدینہ میں مسجد نبوی کے صحن میں ہسپتال بنایا گیا تاکہ مریضوں کو جلد اور مفت علاج مہیا ہو۔ آج ترقی یافتہ ممالک میں علاج حکومت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ ماہانہ چیک اپ مفت کیے جاتے ہیں۔

مسجد نبوی کو مرکزی سیکرٹریٹ کا درجہ حاصل تھا۔ مدینہ بھر کی تمام گلیاں مسجد نبوی تک براہِ راست پہنچتی تھیں تاکہ کسی حاجت مند کو پہنچنے میں دشواری نہ ہو۔ آج ریاست کے سربراہ اعلیٰ کی رہائش گاہ میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔

آج سے صدیوں پہلے آپﷺ نے حکم دیا تھا کہ فجر کے بعد اور عصر کے بعد سونا نہیں چاہیے۔ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ آج پوری دنیا اس کو مان رہی ہے کہ ان اوقات میں سونا طبی لحاظ سے انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ جدید سائنسی کہتی ہے کہ ان اوقات میں مستقل سونے کی عادت اپنانے والوں کو 9 مہلک بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ اگر ان اوقات ورزش کی جائے تو صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

آپﷺ نے فرمایا تھا کہ رات کو جلدی سونا چاہیے۔ عشاءکے بعد فضول گپ شپ سے منع فرمایا تھا۔ آج پوری دنیا مان رہی ہے کہ رات کو جلدی سونا صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ رات دیر تک جاگنا بھی ہے۔

آپﷺ نے فرمایا کہ کھانا پینا سادہ رکھیں اور تھوڑی سی بھوک رکھ کر کھایا کریں۔ آج پوری طبی دنیا مانتی ہے کہ سادہ خوراک سے صحت بہتر ہوتی ہے اور زیادہ کھانے سے معدے خراب ہوتے ہیں اور بیسیوں بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

آپﷺ نے فرمایا تھا کہ سیدھے ہاتھ سے کھایا کرو اور ہر اچھا کام دائیں ہاتھ سے کیا کرو۔آج پوری دنیا مان رہی کہ سیدھے ہاتھ سے کھانے اور کام کرے سے دماغ پر مثبت اثرات مرتب ہوتی ہے۔ نیورولوجسٹ کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کے دو حصے ہوتے ہیں۔ دایاں اور بائیاں۔ دائیں حصہ مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، جبکہ بائیاں حصہ منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جدید سائنس کہتی ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھانے والے مثبت سوچ کے حامل ہوتے ہیں، جبکہ بائیں ہاتھ سے کھانے والے منفی سوچ کے حامل افراد نظر آئیں گے۔

آپﷺ نے حکم دیا تھا کہ بری صحبت سے بچو۔ اچھی صحبت میں بیٹھا کرو۔ آج پوری دنیا مانتی ہے کہ بری صحبت میں بیٹھنے سے انسان برا بن جاتا ہے۔ جدید سائنس یہاں تک مان چکی ہے کہ ذہین افراد کی صحت میں بیٹھنے سے غبی آدمی بھی رفتہ رفتہ ذہین ہوجاتا ہے۔

آپﷺ نے صدیوں پہلے منہ کی صفائی کا حکم دیا تھا اور مسواک فرماتے تھے۔ آج پوری دنیا منہ کی صفائی کو بڑی اہمیت دے رہی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر بیماریاں منہ کے ذریعے ہی معدے تک پہنچتی ہےں، لہٰذا منہ صاف رکھا کریں۔

آپﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے تین چیزیں بہت پسند ہیں۔ ان تین میں سے ایک چیز خوشبو ہے۔ آپﷺ خوشبو کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔ آج پوری دنیا مانتی ہے کہ خوشبو سے انسانی معاشرے اور صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خوشبو سے توانائی بھی ملتی ہے اور بدبو سے انسان گھٹن اور بیماری کا شکار ہونے لگتا ہے۔

آج سے صدیوں پہلے آپﷺ نے فرمایا تھا کہ کھانے سے قبل ہاتھ دھولیا کریں اور آج پوری دنیا مانتی ہے کہ گندے ہاتھوں سے کھانا کھانے سے معدے کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ انسان جس قدر منہ اور ہاتھوں کو صاف رکھے گا اسی قدر صحت مند رہے گا اور موذی بیماریوں سے بچا رہے گا۔

آپﷺ نے حکم دیا تھا رفع حاجت کی جگہ، ٹوائلٹ اور بیت الخلاءمیں تھوکا نہ کرو۔آج پوری دنیا مانتی ہے رفع حاجت کی جگہ تھوکنے سے مہلک جراثیم انسان کے منہ میں چلے جاتے ہیں جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

14 سو سال پہلے آپﷺ نے حکم دیا تھا کہ سخت چیزیں اپنے دانتوں سے مت توڑا کریں۔ آج پوری دنیا مانتی ہے کہ دانتوں سے سخت چیزیں نہیں توڑنی چاہیے۔ یہ دانتوں کی 18 مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔

آپﷺ نے حکم دیا تھا کہ وعدوں کی پاسداری کریں۔ آج پوری دنیا مانتی ہے کہ وعدوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ کاروبار کو سب سے زیادہ نقصان وعدہ خلافیوں سے ہوتا ہے۔

آپﷺ نے فرمایا تھا کہ جھوٹ نہ بولا کرو۔ آج پوری دنیا مانتی ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ جھوٹے شخص پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ جھوٹ سے معاشرے تباہ ہونے لگتے ہیں۔ آپس میں نفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔

آپﷺ نے حکم دیا تھا کہ امانت میں کسی بھی صورت خیانت نہ کرو۔ آج پوری دنیا بددیانت شخص کو برا سمجھتی ہے۔ بدعنوانی، کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کو ہر سطح پر انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

آپﷺ نے انسانیت کی خدمت کا حکم دیا تھا۔ آج پوری دنیا فلاحِ انسانیت کے کام کرنے والوں کو پسند کرتی ہے۔

آج سے صدیوں پہلے آپﷺ نے جانوروں کے حقوق بیان فرمائے تھے۔ آج پوری دنیا مانتی ہے کہ جس طرح انسانوں کے حقوق ہیں، اسی طرح جانوروں کے بھی کچھ حقوق مقرر ہیں۔

آپﷺ نے جنگ کے بھی اصول مقرر کیے ہیں کہ عورتوں کو مارا جائے، بچوں، بوڑھوں اور ہتھیار ڈالنے والوں کو امن دیا جائے۔ آج پوری دنیا اس اصول کو ماننی ہے اور ہر جگہ یہ اصول طے ہیں۔

آپﷺ نے فرمایا تھا کہ انسانیت کے ناطے سب برابر ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں۔ آج پوری دنیا برابری اور حقوق ِانسانی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔

آج سے صدیوں پہلے آپﷺ نے فرمایا تھا: ”النَّاسُ سَوَا“ کہ بنیادی چیزوں مثلاً انصاف، کھانے پینے، دیگر حقوق میں سب برابر ہیں۔ آج پوری دنیا اس بات کو مانتی ہے کہ بنیادی چیزیں سب کو ملنی چاہیے۔

آپﷺ نے صدیوں پہلے فرمایا تھا کہ عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو۔ عورتوں کا خیال رکھا کرو اور تم میں بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ آج پوری دنیا حقوق نسواں کا ڈھول گلے میں لٹکاکر پیٹ رہی ہے۔ ہر طرف حقوق نسواں کا غلغلہ ہے۔

آپﷺ نے صدیوں پہلے فرمایا تھا کہ پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھو۔ صحیح مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا محفوظ رہے۔ آج پوری دنیا مانتی ہے کہ اپنے ساتھی، اپنے پڑوسی اور کسی دوسرے شخص کو ایذاءنہیں پہچانی چاہیے۔

آپﷺ نے مساوات کا حکم دیا تھا۔ آج پوری دنیا میں مساوات کے قانون بن رہے ہیں۔

صدیوں پہلے آپﷺ نے عیب نکالنے اور الزام تراشی سے منع کیا تھا۔ آج پوری دنیا اس پر متفق ہے کہ لگائی بجھائی اور الزام سے بچنا چاہیے۔ یہ لڑائی جھگڑوں کی بنیاد ہے۔

صدیوں پہلے آپﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کرو اور بندوں کا شکریہ بھی ادا کیا کرو۔ یہاں تک فرمایا تھا کہ من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ یعنی جو شخص انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بھی نہیں ہوتا۔ آج پوری دنیا میں شکریے کا کانسیپٹ، تصور اور نظریہ فروغ پاچکا ہے۔

دوستو! آپ حضورﷺ کی ایک ایک بات، ایک ایک سنت، ایک ایک حکم کو لے لیں۔ تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا۔ آج 14 سو سال بعد پوری دنیا اور جدید سائنس بھی اس کو مان چکی ہے۔

آج سے 14 سو سال پہلے آپﷺ نے کائنات ِ انسانی کے نام جو آخری خطبہ دیا، وہ ”خطبہ حجة الوداع“ کہلاتا ہے۔ خطبہ حجة الوداع انسانی حقوق کا پہلا چارٹر ہے جو محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا تھا۔

1948ءمیں تمام ممالک اور اقوامِ عالم نے باہمی اتفاق و اتحاد کے ساتھ ایک چارٹر بنایا جو ”اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر“ کہلاتا ہے، اور پوری دنیا اس پر عمل پیرا ہونے کی فخر سمجھتی ہے۔ یہ دراصل آپﷺ کے ”خطبہ حجة الوداع“ کے نظریے کی ہی خوشہ چینی ہے۔

آپ اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے چارٹر کی ایک ایک مشق اور ایک ایک آرٹیکل کو پڑھ لیں اور پھر آپﷺ نے خطبہ حجة الوداع کو پڑھ لیں۔ کوئی خاص فرق نظر نہیں آئے گا۔

آج ساری دنیا انسان کے بنائے ہوئے نظام کے زخموں سے چُور چُور رحم طلب نگاہوں سے دین اسلام اور مسلمانوں کی طرف دیکھ رہی ہے اور بزبانِ حال کہہ رہی ہے: ”او آسمانی تعلیمات کے امینو! آﺅ اور پریشان حال انسانیت کو مسائل کے گرداب سے نکالو۔

ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم آپﷺ کی ایک ایک سنت پر عمل کریں۔ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلیں۔ آپﷺ کے اسوئہ حسنہ کی روشنی میں اپنی زندگی کے ہر ہر گوشے کو تشکیل دیں۔

یہی سیرت النبی ﷺ کا اصل پیغام ہے۔ اسی میں دونوں جہانوں کی کامیابی کا راز مضمر ہے

نقشِ قدم نبی کے ہیں ،جنت کے راستے.
اللہ سے ملاتے ہیں،سنت کے راستے.

کی محمدسے وفا تو نے ،تو ہم تیرے ہیں.
یہ دنیا چیز ہے کیا ،لوح و قلم تیرے ہیں.

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018