موجودہ دور میں اہلِ علم کے لئے لائحہ عمل

حضرت مولانامحمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کا ایک مضمون، اور اس کے ضمن میں اکابرین تبلیغ کے اہل علم کے لیے زمانہ تعلیم میں گراں قدر ملفوظات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

  تمہید:

 بصائر وعبر،ج:۱،ص:۸۹۴ تا۴۰۵ میں حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری رحمہ اللہ کا ایک مضمون شامل ہے، جو محرم الحرام ۸۸۳۱ ؁ھج میں بینات میں شائع ہوا،جس میں حضرت  رحمہ اللہ نے تبلیغ اور تبلیغی جماعت کی اہمیت،افادیت اور ضرورت پر بہت ہی مفید مضمون بیان کیا، یہ مضمون بلاشبہ اس قابل ہے کہ اس کو حرز ِ جان بنایا جائے اور اپنی زندگی کے شب و روز کو اس کے مطابق مرتب کیا جائے، خود ٹھوکریں کھا کر سنبھلنے کی بجائے کسی کے تجربوں سے فائدہ اٹھانا عقلمندی کی علامت ہے،حضرت رحمہ اللہ کے مضامین واقعۃًاسم بامسمیٰ(بصائر وعبر)ہوتے ہیں،جن میں نہ صرف اعلیٰ درجے کی فصاحت و بلاغت بلکہ ایک گہری نظر رکھنے والے زمانہ شناس مبصر کی بصیرت،ایک فقیہ کی فقاہت اور عالمِ باعمل کے علمی موتی نمایاں ہوتے تھے،آپ اہل ِزمانہ کی علمی و عملی میدان میں کمزوریوں کو دیکھتے تو تڑپ اُٹھتے اور ان کے سدّباب کے لئے بے چین ہو جاتے اوراس بارے میں خود حتی المقدور کوشش کرتے ہوئے اہل دانش و عقل کو متوجہ کرتے،اور مسلسل اس بارے میں فکرمند اور بے چین رہتے تھے۔

            ذیل میں حضرت مولانا رحمہ اللہ کا وہ مضمون،آیات و احادیث کی تخریج اور چند مزید گذارشات کے ساتھ پیش خدمت ہیں:

            پہلا دھوکا:

            ”اب میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ آخرت کی ابدی زندگی کے لئے ہم کیا کر رہے ہیں؟!  شاید آپ کہیں کہ ابھی تو ہم طالب ِ علم ہیں، ڈگری حاصل کرنے کے بعد منزل بھی متعین کر لیں گے، لیکن یہ دھوکا ہے،آخر آپ کے پاس کیا سند ہے کہ اتنی مدت ہم زندہ بھی رہیں گے؟ یہاں تو یہ ہوتا ہے کہ اسّی برس کا بوڑھا رینگتا رہتا ہے اور تنومند،

مضبوط نوجوان حرکت قلب بند ہونے سے ختم ہو جاتا ہے،اس قسم کے بیسیوں عبرت آموز واقعات آپ کے سامنے ہیں۔

  دوسرا دھوکا:

   دوسرا دھوکا یہ ہے کہ ہم یہ خیال کر لیا کرتے ہیں کہ عالم فاضل یا گریجویٹ بننے کے بعد ”کام“کریں گے،آپ طالبِ علمی میں بھی بہت کچھ کام کر سکتے ہیں،پروفیسر ہوں وہ بھی خوب کام کر سکتے ہیں،اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی جگہ دین کی طرف متوجہ ہو جائے تو دنیا میں انقلاب آجائے،اگر آپ نے طالبِ علمی ہی سے آخرت کی طرف توجہ کر لی تو گویا آخرت کا سامان کر لیااور اگر مقصد صرف ڈگری اور تنخواہ ہے تو یہ وہی کافروں کی سی حیوانی زندگی ہے،جس کے بارے میں فرمایا ہے:

(والذین کفروا یتمتعون و یأکلون کما تأکل الأنعام والنار مثویً لھم)(محمد:۳۱)

ترجمہ:”اور جو لوگ کافر ہیں وہ تو (دنیا)میں ایسے ہی نفع اٹھاتے اور کھاتے ہیں جیسے چوپائے اور (آخرت میں تو)ان کا ٹھکانا جہنم ہے“۔

 انسانیت کا مقصد:

     ہر انسان کواللہ تعالی نے عقل و شعور کی دولت دی ہے اور نبوت و بعثت کی نعمت اس کی رہنمائی کے لئے عطا فرمائی ہے،کیا انسان کی قیمت یہی حیوانی ذندگی ہے کہ کھا ئے اورنکالے،کھائے اور نکالے؟انسان کو اعلی سے اعلی ڈگری،بڑی سے بڑی تنخواہ میسر آجائے،اچھا فرنیچر،عمدہ کار(گاڑی)،بہترین بنگلہ اور آسائش کا ہر سامان مل جائے لیکن  اگر مقصد پیٹ کو بھر لینا اور سو تے رہنا اور جو کھایا اس کو نکال دینا ہی ہو توانسان گویا بنانے کی اچھی خاصی مشین بن گیا کہ ڈالواور نکالو،ڈالو اور نکالو،اگر یہ مقصدِ زندگی ہو تو ذرا سوچ لیجئے، آپ نے انسان کو کہاں سے کہاں پہنچایا،اسی کے متعلق فرمایا:

(أولٰئک کالأنعام بل ھم أضل)(الأنعام:۹۷۱)

 ترجمہ:”یہ تو جانوروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گذرے“۔

اس لئے ان کے پاس تو عقل نہیں کہ وہ سوچیں وہ تو صرف اتنا شعور رکھتے ہیں کہ بھوک لگی تو چارہ کھا لیا اور پیاس لگی تو پانی پی لیا،مگر یہ انسان نما جانور تو عقل کے باوجود ڈوب گئے۔

طالب علمی میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟
آپ طالب علمی اور جوانی میں وہ خدمت کر سکتے ہیں جو بڑھاپے میں نہیں کر سکتے،اسلام ایک دعوت اور پیغام ہے، آنحضرت  ﷺ کا ارشاد ہے:
 
”ألا فلیبلغ الشاھد الغائب“۔
(صحیح البخاري: کتاب الحج، باب الخطبۃ أیام المنیٰ، رقم الحدیث:۲۵۶۱،۲/۹۱۲، المکتبۃ دار ابن کثیر)
 ترجمہ:”یعنی ہر موجود شخص دین کا پیغام غیر موجود لوگوں کو پہنچائے“۔
تو آپ لوگوں کے ذمے بھی ایک فرض عائد ہوتا ہے،اسلام کو پہچانے کا،آج اسلام کو خطرناک سیلابوں کا سامنا ہے، جس کا بڑا سبب مغرب کی طاغوتی طاقتیں ہیں، دراصل اہل ِمغرب نے ”صلیبی جنگوں“سے یہ اندازہ اچھی طرح کر لیا تھا،کہ ہم مسلمانوں کو قوّتِ شمشیر اور زورِبازو سے شکست نہیں دے سکتے،اس لئے انہوں نے اسلام کے خلاف ذہنی جنگ شروع کی، تاکہ مسلمانوں کو اسلام کی نعمت سے محروم کر دیا جائے، ان کی یہ کوششیں جو کئی صدی پہلے شروع کی گئی تھیں، آج اپنے شباب پر ہیں، آج ان کے پاس طاقت ہے، وسائل ہیں، بے پناہ ذرائع ہیں، آج ان کا نقشہ ٹھیک وہی ہے جو موسی علیہ السلام نے فرعون کا بیان فرمایا تھا:
(ربناإنک اٰتیت فرعون و ملأہ زینۃ و أموالاً في الحیاۃ الدنیا، ربنا لیضلوا عن سبیلک، ربنا اطمس علی أموالھم) (یونس:۸۸)
ترجمہ:”اے پروردگار! آپ نے فرعون اور اس کے سردار وں کو دنیوی زندگی، بے حد مال ودولت اور زینت و آرائش دی ہے، اے پروردگار! اس کے نتیجے میں وہ(بجائے تیرے شکر کے)تیرے بندوں کو گمراہ کر رہے ہیں،اے پروردگار! ان کے مالوں کو ملیا میٹ کر دے“۔
وہ خود یہ جانتے ہیں کہ وہ جس زندگی میں مبتلا ہیں وہ بد ترین اور تباہ کن زندگی ہے، دنیا ہی میں جہنم کی زندگی میں مبتلا ہیں۔

 نئی تہذیب کے دلدادے:
 مجھے کراچی کے ایک دوست نے جو انگلینڈ سے آئے تھے،بتلایا کہ وہاں ایک شخص بہت بڑا مالدار تھا، اس نے اپنے والدین کو ملازم رکھ چھوڑا تھا،وہ فخر سے کہا کرتا تھا کہ جب میں دوسروں کو ملازم رکھتا ہوں تو اپنے ماں باپ کو کیوں ملازم نہ رکھوں۔یہ ہے نئی تہذیب وتمدن،انسانیت ختم،عاطفت ختم،جانوروں میں جو شفقت پائی جاتی ہے،وہ بھی انسانوں میں مفقود ہے،وہ خود جن فواحش،منکرات اور عریانیوں میں غرق ہیں، چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو بھی غرق کر دیں، افسوس ہے کہ ہم اسی بد ترین زندگی کو اپنا کر، ان کے نقشِ قدم پر جا رہے ہیں۔
 اسلام کے دشمنوں کے عزائم:
 بہرحال اسلام کے دشمن رات دن اس فکر میں ہیں کہ کسی طرح اسلام کی برکات سے ہمیں محروم کر دیں تو جب تک ہمارے نوجوان، طالب علم، پروفیسر، تاجر، کسان غرضیکہ ہم سب مل کر اپنے دین کو بچانے کی فکر نہیں کریں گے، اس وقت تک بے دینی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنا ممکن نہیں ہو گا، اس سیلاب کو روکنا کسی مخصوص طبقے کے بس کا کام نہیں، البتہ اتنا ہو جائے گا کہ یہ لوگ اپنے دین کو بچالیں،لیکن جس عالمگیر پیمانے پر بے دینی کا سیلاب آیا ہے، جب تک اُسی پیمانے پر اسے روکنے کے لئے محنت نہیں کی جائے گی، اُس وقت تک یہ نہیں رکے گا۔
 ہمارا دینی فریضہ:
 میری زندگی کا موضوع مسائل ِحیات پر غور کرنا ہے، میں بہت تڑپ رہا ہوں، ایک چھوٹی سی درسگاہ میرے پاس ہے، دو چار سو طالب علم پاس بیٹھے رہتے ہیں لگا رہتا ہوں، لیکن جب میں سوچتا ہوں کہ میرا کام اس سے پورا ہو گیا؟تو دل جواب دیتا ہے،قطعاً نہیں۔ میں اپنے کو دھوکا دوں گا،اگر میں یہ سمجھ لوں کہ میں نے بخاری شریف کا درس دے لیا اور میرا کام پورا ہو گیا،دین کا تقاضا ہے کہ اگر آگ لگی ہو تو اسے بجھانے کے لئے مجھے جانا چاہیئے، اللہ تعالی شاید مجھے نہیں چھوڑیں کہ کہ دنیا میں فسق و فجور کی آگ لگی تھی، ایک جہان اس میں جل رہا تھا اور میں بخاری شریف پڑھا رہا تھا۔
 ہماری منزل کیا ہے؟
 میرے دوستو!میں اور آپ ایک کشتی کے مسافر ہیں، ہماری منزل آخرت ہے، اگر اس کشتی میں کوئی سوراخ کر دے تو ہم سب غرق ہوں گے، اس لئے اس کے ہاتھوں کو پکڑنا اور اس کی صحیح راہنمائی کرنا ہم سب کا فرض ہے،اس لئے میں آپ حضرات سے اس مختصر وقت میں یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کے لئے دنیا کو مقصد نہ بناؤ، اپنے منصب کو پہچانو، اپنے وقت کی قدر کرو اور حق تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کی تیاری کرواور اسلام کا پیغام دنیا کو پہنچاؤ،اس کے لئے کسی خاص فراغت اور فرصت کی ضرورت نہیں، تم ہر جگہ رہ کر ہر حال میں اسلام کی خدمت کر سکتے ہو،اگر آپ نے ایسا کر لیا تو واللہ!دنیا کی کامرانی بھی آپ کے ہاتھ ہو گی اور اگر بالفرض کامیابی نہ بھی ہوئی تو آپ کا کام تو بہرحال پورا ہو ہی گیا۔
 عالمگیر فتنوں کے مقابلے کے لئے تبلیغی جماعت کا وجود:
 اب میں ایک ضروری مضمون عرض کر کے(بات) ختم کرتا ہوں،ایک دفعہ مکی مسجد(تبلیغی مرکز،کراچی)جانا ہوا، میں کبھی کبھی وہاں چلا جاتا ہوں، وہاں تبلیغی حضرات نے مجھے پکڑ لیا اور کچھ بیان کرنے کی دعوت دی، میں نے سوچا کیا بیان کروں،بولنا مجھے آتا نہیں، خیر میں ان حضرات کے اصرار پر بیٹھ گیا، ”الحمد للہ رب العالمین“کی آیت پڑھی، بس پھر کیا تھا، قرآن کی برکت سے سینہ کھل گیا، عجیب و غریب مضامین ذہن میں آئے، کوئی ڈیڑھ،دو گھنٹہ بیان ہوا،تفصیل تو مجھے اب یاد نہیں آرہی، کچھ مضمون یاد ہے، وہی اس موقع پر عرض کرنا چاہتا ہوں، میں نے کہا اللہ جل ذکرہ، عالمین کا رب ہے، اس کی ربوبیت کے کرشمے ظاہر ہیں، لیکن اتنے عجیب و غریب کہ عقل حیران ہے، جسمانی ربوبیت کی تفصیل کو چھوڑتا ہوں، صرف روحانی ربوبیت کو دیکھئے کہ نبوت ختم ہو چکی ہے، علماء ِ امت کی مساعی،اوّل تو ناکافی ہیں، پھر جتنی کچھ ہیں وہ بھی کامیاب نہیں اور نئی نسل کی تباہی اور گمراہی کے لئے بیسیوں فتنے موجود ہیں، تھیٹر، سینما وغیرہ وغیرہ اَخلاق کی قربان گاہ تھے ہی، اب تو بے دینی کے انتہائی غلبہ اور تسلّط کی وجہ سے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا بھی جو حال ہے وہ آپ کو معلوم ہے، اخبارات میں روزانہ اس کی خبریں آپ پڑھتے ہیں، اس کے علاوہ وہ ممالک جو فحاشی اور بے حیائی کے مرکز ہیں، امریکہ، برطانیہ وغیرہ ان ممالک سے مواصلات اور رسل و رسائل کی آسانی کی وجہ سے فتنوں کا ایک تانتا بندھا ہوا ہے۔
  اللہ تعالیٰ کی شان ِ ربوبیت کا مظہر،تبلیغی جماعت:
 الغرض!ان حضرات کی برکت سے پوری بات ذہن میں آگئی، میں ان تبلیغی حضرات کے اخلاص کا بڑا معتقد ہوں، اب بھی بعض مخلصین کی وجہ سے بول رہا ہوں، ورنہ مجھے بیان کرنا نہیں آتا، تودل میں یہ بات آئی کہ اللہ تعالیٰ کی شان ِ ربوبیت کا کرشمہ یوں ظاہر ہوا ہے کہ ان عالمگیر فتنوں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے تبلیغی جماعت کا یہ نظام جاری فرما دیا، یہ وہ نظام ہے جو عالمگیریت چاہتا ہے۔اس میں عالِم بھی کھپ جاتا ہے،اور اَن پڑھ بھی، امیر بھی اور غریب بھی، تاجر بھی اور صنّاع بھی،کالا بھی گورا بھی، مشرقی بھی اور مغربی بھی، اگر اس زمانے میں یہ تبلیغی نظام جاری نہ ہوتا تو گویا اللہ تعالیٰ کی شان ِ ربوبیت کا کمال ظاہر نہ ہوتا۔

کیا ہمارے دینی مراکز کافی ہیں؟
ورنہ ہمارے مدارس، تعلیمی ادارے، اسکول اور کالج جتنے آدمی تیار کرتے ہیں وہ تو اس عالمگیر سیلاب کے لئے کافی نہیں تھے، یہ تبلیغ والے ایک گشت کرتے ہیں، سیلاب کے طریقے سے آتے ہیں اور دو، چار، پانچ، دس آدمیوں کی ہدایت کا سامان بن جاتے ہیں،کہیں کسی کوا مریکہ سے پکڑ لاتے ہیں، کہیں لندن سے، مصر کے صدر ناصرنے پانچ ہزار مبلِّغ (تبلیغ کرنے والے افراد)بھیجے اور سالانہ کروڑوں روپیہ ان پر صَرف ہوتا ہے لیکن ان سے پوچھئیے کہ کتنے لوگوں کو صحیح مسلمان بنایا؟ ادھر تبلیغی نظام کی برکات آپ کے سامنے ہیں کہ ہزاروں، لاکھوں بندگانِ خدا کی ہدایت کے لئے یہ نظام ذریعہ بن گیا تو اللہ تعالیٰ نے تبلیغی جماعت کا جو نظام جاری فرمایا ہے،یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی روحانی ربوبیت کا ایک کرشمہ ہے،جو اللہ پاک نے اس امت کے اندر ظاہر فرمایا ہے، تاکہ اللہ کی حجت پوری ہو جائے اور کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ میرے پاس فرصت نہ تھی،  اللہ نے یہ نظام ہی ایسا جاری فرمایا ہے کہ مشغول سے مشغول آدمی بھی اس میں کھپ سکتاہے، اس نظام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ سبق دیا کہ تمہارے ذمے اس پیغام کا پہنچا دینا ہے،اگر کسی کو ”لا إلٰہ إلا اللہ محمد رسول اللہ“ یاد ہے وہ یہی دوسرے بھائی کو سکھا دے، کسی کو ”سبحانک اللہم“ یاد ہے وہ سکھا دے، کیونکہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کو یہ بھی یاد نہیں۔
روح کی غذا،تبلیغی جماعت:
تو اللہ رب العالمین کی ربوبیت کا جیسا مادی نظام ہے،ایسا ہی تبلیغی جماعت کا وجود میرے نزدیک روح کی غذا اور آخرت کی تیاری کے لئے اللہ تعالیٰ کا روحانی نظامِ ربوبیت ہے۔یہ ایک”مختصر متن“ ہے،جس کی شرح پر کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، اس لئے میں آپ حضرات سے یہی عرض کروں گا کہ آپ اس جماعت سے تعلق رکھیں،خدا تعالیٰ آپ کو توفیق دے،آپ دنیا کے اندر انقلاب پیدا کر دیں گے، فرض شناسی اور دین پر چلنے کی ہمت آپ میں پیدا ہو گی اور اس کی وہ لذت، فرحت اور مسرت آپ کو حاصل ہو گی کہ:؎  لذتِ ایں بادہ بخدا نشناسی تا نہ چشی
بوریا نشین فقیروں کا خزانہ:
اور سچ پوچھئیے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں وہ لذت،وہ سرور اور وہ اطمینان ِ قلب رکھا ہوا ہے کہ بے چارے بادشاہوں کو اس کی ہوا بھی نہیں،کہان بوریا نشین فقیروں کے پاس سکونِ قلب کی کتنی بڑی دولت ہے،ان کا حال تو وہی ہے جوقرآن مجید میں بیان فرمایا گیا ہے:
(وإن جھنم لمحیطۃ بالکافرین)(التوبۃ:۹۴) 
ترجمہ:”اور بے شک جہنم محیط ہے کافروں کو“۔
آخرت میں تو جہنم ان کو گھیرے ہوئے ہو گی ہی،یہ دنیا بھی ان کے لئے سراپا جہنم بن کر رہ جائے گی۔
آخرت کی جادوانی زندگی کا حصول:
تو اللہ جل ذکرہ نے تبلیغی جماعت کے ذریعے ہدایت کا سامان پیدا کر دیا ہے،اور آپ کے لئے اپنی اور اپنے بھائیوں کی اصلاح کی صورت پیدا کر دی ے،اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائیں کہ ہم اس پر گامز ن ہو جائیں، تاکہ ہماری زندگی درست ہو جائے،ہماری ساری زندگی آخرت کے لئے بن جائے، اور ہمیں آخرت کی جادوانی زندگی نصیب ہو جائے“۔
حضرت بنوری رحمہ اللہ کا گراں قدر مضمون مکمل ہوا،اب اسی مضمون پر مزید دیگراکابرین امت کے ملفوظات ذیل میں ذکر کئے جائیں گے۔

تبلیغی جماعت کے ساتھ اہلِ علم طبقہ کی شمولیت کی اہمیت:

”آپ (حضرت مولانا محمد الیاس صاحب دہلوی رحمہ اللہ)نے اپنے نزدیک اس کا فیصلہ کر لیا تھا کہ جب تک اہل علم اس کام کی طرف متوجہ نہ ہوں گے اور اس کی سرپرستی نہ کریں گے اس وقت تک اس اجنبی دعوت اور اس نازک کام اور لطیف کام کی طرف سے(جس میں بڑی دقیق رعایتیں اور نزاکتیں مطلوب ہیں)اطمینان نہیں کیا جاسکتا،آپ کو اس کی بڑی آرزو تھی کہ”اہل“ اشخاص اس کام کی طرف توجہ کریں اور اپنی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو اس کام کے فروغ میں لگائیں،جس سے اسلام کے درخت کی جڑ شاداب ہو گی پھر اس سے اس کی تمام شاخیں اور پتیاں سر سبز ہو جائیں گی“۔
اہل ِ علم کے لئے طرزِ محنت:
اس سلسلہ میں آپ علماء سے صرف وعظ وتقریر ہی کے ذریعے اعانت نہیں چاہتے تھے بلکہ آپ کی خواہش اور آپ کا مطالبہ علماء عصر سے سلفِ اوّل کے طرز پر اشاعت ِ دین کے لئے عملی جدوجہداور در بدر پھرنے کا تھا، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاصاحب  [نور اللہ مرقدہ]کو ایک خط میں لکھتے ہیں:
”عرصہ سے میرا اپناخیال ہے کہ جب تک علمی طبقہ کے حضرات اشاعت ِ دین کے لئے خود جا کر عوام کے دروازوں کو نہ کھٹکھٹائیں اور عوام کی طرح یہ بھی گاؤں گاؤں اور شہر شہر اس کام کے لئے گشت نہ کریں اس وقت تک یہ کام درجہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ عوام پر جو اثر اہل ِعلم کے عمل و حرکت سے ہو گا وہ ان کی دھواں دھار تقریروں سے نہیں ہو سکتا، اَسلاف کی زندگی سے بھی یہی نمایاں ہے جو کہ آپ حضرات اہلِ علم پر بخوبی روشن ہے۔“
طلباء ِ کرام کے تبلیغ میں اشتغال کی حیثیت:
 درس و تدریس سے تعلق رکھنے والے بعض بزرگوں کو شبہ تھا کہ تبلیغ و اصلاح کی اس کوشش میں مدرسین اور طلباء ِ مدارس کا اشتغال،ان کے علمی مشاغل اور علمی ترقی میں حارج ہو گا،لیکن آپ جس طرح اور جس منہاج پر علماء ِ مدارس اور طلباء سے یہ کام لینا چاہتے تھے وہ در حقیقت علماء اور طلبہ کے علوم کی ترقی اور پختگی کا ایک مستقل انتظام تھا،ایک گرامی نامہ میں لکھتے ہیں:
 ”علم کے فروغ اور ترقی کے بقدر اور علم ہی کے فروغ اور ترقی کے ماتحت دینِ پاک فروغ اور ترقی پا سکتا ہے، میری تحریک سے علم کو ذرا بھی ٹھیس پہنچے یہ میرے لئے خسرانِ عظیم ہے میرا مطلب تبلیغ سے، علم کی طرف ترقی کرنے والوں کو ذرا بھی روکنا یا نقصان پہچانا نہیں ہے،بلکہ اس سے بہت زیادہ ترقیات کی ضرورت ہے اور موجودہ مسلمان جہاں تک ترقی کر رہے ہیں یہ بہت ناکافی ہے“
 
طلباء کے لئے زمانہ طالبِعلمی میں محنت کرنے کا طریقہ:
مولانا چاہتے تھے کہ اس تبلیغی کام ہی کے ضمن میں طلبہ اپنے اساتذہ ہی کی نگرانی میں اپنے علوم کے حق ادا کرنے کے لئے نافع ہوں،  ایک گرامی نامے میں لکھتے ہیں:
 ”کاش کہ تعلیم ہی کے زمانہ میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی اساتذہ کی نگرانی میں مشق ہو جایا کرے تو علوم ہمارے نفع مند ہوں ورنہ افسوس کہ بے کار ہو رہے ہیں، ظلمت اور جہل کا کام دے رہے ہیں،إنا للہ وإنا إلیہ راجعون“۔بہرحال اپنی اس دعوت کو اعلیٰ علمی ودینی حلقوں میں پہچانے کے لئے آپ نے جماعتوں کا رُخ دینی مرکزوں کی طرف کیا۔(مولاناالیاس ؒ اور ان کی دینی دعوت،ص:۹۰۱،مکتبہ دینیات)
 
علم میں طرقی کا طریقہ:
علم کی طرف ترقی کے لئے مولانا کے نزدیک دوسری شرط یہ تھی:
 ”یاد رکھو! کوئی عالم علم میں ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ جو کچھ سیکھ چکا ہے دوسروں تک نہ 
پہنچائے جو اس سے کم علم رکھتے ہیں، اور خصوصاً اُن تک جو کفر کی حد تک پہنچے ہوئے ہیں، میرا یہ کہنا حضور  ﷺ کی اس حدیث سے مأخوذہے”مَن لا یَرحم لا یُرحم“  بردیگراں پاش کہ حق بر توپاشد،کفر کی حد تک پہنچے ہوؤں تک علم پہنچانا اصل علم کی تکمیل ہے اور ہمارا فریضہ ہے اور جاہل مسلمانوں تک علم پہنچانا مرض کا علاج ہے۔“(مولاناالیاس ؒ اور ان کی دینی دعوت،ص:۴۷۲،مکتبہ دینیات)

 صحابہ کرام کا حصولِ علم کے لئے طریقِ کار
 ”فرمایا:مدینہ منورہ میں علوم دینیہ کا کوئی مدرسہ بھی نہ تھا اگر ہوتا تو بھی وہ(مدینہ والے)  اس کے باقاعدہ طالبِ علم نہیں بن سکتے تھے اور دین کی ضرورت،مسائل و احکام اور مسائل کے علم سے بے بہرہ نہیں تھے یہ علم ان کے پاس کہاں سے آیا؟ محض رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں شرکت و حضوری پر زیادہ جاننے والوں کے پاس بیٹھنے اور اہل ِ دین کی صحبت و اختلاط اور ان کی حرکات و سکنات کو بغور دیکھنے،سفروں اور جہاد میں رفاقت اور بروقت اور بر موقعہ احکام معلوم کرنے اور دینی ماحول میں رہنے سے،اس میں شبہ نہیں کہ اس درجہ اور معیارکی بات آج حاصل نہیں ہو سکتی، لیکن اس سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی کچھ نہ کچھ صورت انہی راستوں سے آج بھی پیدا کی جا سکتی ہے“۔(مولانا محمدالیاس ؒ اور ان کی دینی دعوت،ص:۶۰۱،مکتبہ دینیات)
 جملہ اہلِ علم کی ذمہ داری
 حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا:
 ”عموماً اہلِ علم کی ساری جماعتوں سے یہ بھی عرض ہے کہ اِن متعین اوقات کے علاوہ دوسرے عام اوقات میں اپنی اپنی جگہ خاص و عام میں تبلیغ سے غافل نہ رہیں“۔
(تجدید تعلیم و تبلیغ،ص:۳۹۱)
موجودہ دور کے خوفناک حالات اور ان سے خلاصی کی راہ
 آخر میں حضرت بنوری رحمہ اللہ ہی کے ایک انتہائی اہم مضمون کے ایک پیراگراف پر اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں،فرمایا:
 ”عذاب بصورت نفاق کی تعبیر صوبائی عصبیت،گروہی مفادات کا وہ طوفان ہے جو ملک کے درودیوار سے ٹکرا رہا ہے،جس میں علماء،صلحاء اور عوام و حکام سب بہے جا رہے ہیں،اور جسے برپا کرنے میں اوپر سے نیچے تک تمام عناصر اپنی پوری قوتیں صرَف کر رہے ہیں،پورا ملک آتش فشاں کی مُہیب لہروں کی لپیٹ میں ہے،جس پر توبہ، استغفار،تضرع و ابتہال اور دعوت إلی اللہ کے ذریعے آج توقابو پایا جا سکتا ہے،مگر کچھ دن بعدیہ تدبیر بھی کارگر نہیں ہو گی اور پھر خدا ہی جانتا ہے کہ کیا حالات ہوں گے،کون رہے گا، اور کس کی حکومت ہو گی،اور انسان محکوموں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گا، اللہ تعالی ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمائیں اور پوری اُمت کو اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔و صلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ صفوۃ البریۃ سیدنا محمد وعلی اٰلہ وأصحابہ وأتباعہ أجمعین۔“
 (مأخوذ از بصائر و عبر،حضرت مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوری رحمہ اللہ کا سبق آموز پیغام،ص:۵۱) 

مفتی محمد راشد ڈَسکوی

تدریس وتصنیف
مفتی محمد راشد ڈَسکوی عفی اللہ عنہ
دار الافتاء جامع مسجد اشتیاق، ڈسکہ، سیالکوٹ
سابق استاذ ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف، جامعہ فاروقیہ، کراچی

کل مواد : 14
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020