حضوراکرم ﷺ کی حیاء وپاکیزہ زندگی

???? حیاء کی اہمیت ????
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں نے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام پر اترنے والے کلام میں سے جو بات پائی ہے، وہ یہ کہ جب تو بے شرم ہو جائے تو جو جی چاہے کرے۔ (بخاری)
فائدہ : حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی یا تو خبر دینا ہے جس کا مطلب ہے کہ جو چیز بری باتوں سے باز رکھتی ہے وہ "حیاء" ہے اور جب حیاء نہ رہے اور آدمی بے حیائی کا شیوہ اپنا لے گا، پھر وہ جو چاہے کرے گا اور اس سے کسی گناہ اور کسی برائی کو اختیار کرنے میں کوئی باک نہیں ہوگا یا یہ ارشاد گرامی سخت ڈانٹ کا جملہ ہے جس کا مطلب یہ ہےکہ جب تم نے بے حیائی کی کمر باندھ لی تو جی چاہے کرو، لیکن یاد رکھو کہ وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے کہ جب تمہیں اپنے سارے کرتوتوں کی سزا بھگتنی پڑے گی (مستفاد از مظاہر حق)

???? ایک روایت میں کہ حیاء (یعنی برے کاموں سے حجاب رکھنا) ایمان کا جز ہے اور ایمان (یعنی مومن) جنت میں جائے گا اور بے حیائی بدی کا جز ہے اور بد دوزخ کی آگ میں جائے گا۔ ( ترمذی)

???? ایک روایت میں ہے کہ چار چیزیں انبیاء کی سنتوں میں سے ہیں: حیاء کرنا، عطر لگانا، مسواک کرنا اور نکاح کرنا۔(ترمذی)

???? ایک روایت میں ہے کہ بے حیائی جس چیز میں آتی ہے اسے عیب دار بناتی ہے اور حیاء جس چیز میں آتی ہے اسے مزین کر دیتا ہے۔ (ترمذی)

???? آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں، ان میں سب سے اعلیٰ درجہ کی شاخ زبان و دل سے اس بات کا اقرار و اعتراف ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے کم درجہ کی شاخ کسی تکلیف دینے والی چیز کا راستہ سے ہٹا دینا ہے نیز شرم و حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔(بخاری و مسلم )

???? حیاء کا مفہوم ????
"حیاء" سے مراد شرمندہ ہونا ہے اور حیاء دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو کسی انسان پر کسی عیب یا برائی کے خوف و ندامت کے وقت طاری ہو، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بہترین حیاء وہی ہے جو انسان کو اس چیز میں مبتلا ہونے سے روکے جس کو شریعت نے برا قرار دیا ہے۔

???? حیاء ایمانی ????
حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حیاء یہ ہے کہ جب بندہ رب تعالی کی عطا فرمودہ نعمتوں اور اپنی کوتاہیوں کو دیکھتا ہے تو اس کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

???? عارف باللہ مرشدی حضرت واصف منظور صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی عظمت و کبریائی کے تصور کے بعد آدمی سے گناہ کا صدور ہو تو وہ اس کی عظمت و کبریائی کے سامنے کانپ جاتا ہے، یہ کیفیت حیاء ہے۔

???? آئیے ! دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ میں آپ کا باحیاء کردار کیسا تھا ؟
???? حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے آقائے دو جہاں محبوب یزداں حضور اکرم ﷺ کی صفت حیا نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ جب کسی پر ناراض ہوتے تو اس سے منہ پھیر لیتے اور بے توجہی فرماتے اور یا درگزر فرماتے اور جب خوش ہوتے تو حیاء کی وجہ سے آنکھیں گویا بند فرما لیتے، آپ ﷺ کی اکثر ہنسی تبسم ہوتی تھی، اس وقت آپ ﷺ کے دندان مبارک اولے کی طرح چمکدار سفید ظاہر ہوتے تھے۔
???? آپ ﷺ کی مجلس، علم، حیا، صبر اور امانت کی مجلس ہوا کرتی تھی۔
???? آپ ﷺ شرم وحیاء میں پردہ دار کنواری لڑکی سے کہیں زیادہ بڑھے ہوئے تھے، جب آپ ﷺ کو کوئی بات ناگوار ہوتی تو آپ ﷺ کے چہرہ سے پہچان لی جاتی تھی یعنی آپ ﷺ غایت شرم کی وجہ سے اظہار ناپسندیدگی بھی نہ فرماتے تھے۔ (شمائل نبوی)
???? آپ ﷺ کو کسی آدمی کے کسی عیب کی خبر پہنچتی تو اس آدمی کا نام لے کر یوں نہ فرماتے کہ فلاں کو کیا ہوگیا کہ وہ یوں کہتا ہے، بلکہ یوں فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ یوں اور یوں کہتے ہیں۔(حیاة الصحابة)

آج کے دور میں جب ہر طرف بے حیائی کا بازار گرم ہے، حضور اکرم ﷺ کی اس پاکیزہ زندگی کو امت میں زندہ کرنا اور اپنے عمل میں لانے کی فکر کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018