استاذ جی حافظ عبد الکریم صاحب رحمہ اللہ

(دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ کے لئے)

یہ سنہ ۲۰۰۹ء کی ایک شام کی بات ہے جب یہ ناچیز استاذ محترم حضرت مولانا منظور احمد نعمانی صاحب مدظلہ العالی کے اندازِ تدریس کی شہرت سن کر ان سے استفادہ کے شوق میں کشاں کشاں مدسہ عربیہ احیاء العلوم ظاہرپیر پہنچا۔ اجنبی نووارد مسافر، نہ جان، نہ پہچان۔ نہ اس علاقے اور اہل علاقہ یا ان کی زبان سے ہی کچھ واقفیت۔مدرسے کے خادم صاحب نے، جو مولانا زاہد صاحب اور بھائی ساجدصاحب کے ماموں ہونے کی بناء پر تمام طلبہ میں ’’ماموں‘‘ کے لقب سے معروف ہیں، بندہ کا حال احوال پوچھا اور کہیں سے بچا کھچا کھانا تلاش کرکے بندہ کے آگے رکھا۔ اگلی صبح حضرت استاذ جی نعمانی صاحب کی زیارت ہوئی اور مدرسہ میں داخلہ کا مرحلہ بخیریت انجام پایا۔ جب اسباق کی ’’بسم اللہ‘‘ کا مرحلہ پیش آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت استاذ جی نعمانی صاحب مدظلہ ایک ضعیف ، درویش، فقیر منش باباجی سے اسباق کی ابتداء اور دعا کی درخواست فرمارہے ہیں۔اور سر پر سفید دیہاتی طرز کا صافہ باندھے، لنگی پہنے وہ بزرگ تواضع سے جھکے جارہے ہیں اور انکساری کے ساتھ انکار فرمارہے ہیں۔ آخر حضرت استاذجی نعمانی صاحب نے جب اصرار فرمایا تو ان بزرگوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دئیے اور یوں نئے سال کی ابتداء فرمائی۔ متجسس نظروں نے استفہامیہ انداز سے دوسرے طلبہ کی طرف دیکھا تو جواب ملا۔۔۔ مولانا حافظ عبد الکریم صاحب۔۔۔یہ استاذ جی سے تعارف کا پہلا دن تھا۔

استاذ جی کی ہیئت اور سادگی کو دیکھ کر بہت مشکل سے کوئی اندازہ لگا سکتا تھا کہ یہ شخص کتابوں کا مدرس بھی ہوسکتا ہے۔ مگر وہ صرف مدرس نہیں بہت بلند اور عظیم الشان مدرس تھے، بلکہ فنون میں شاید چند گنی چنی شخصیات میں ان کا شمار کیا جاسکتا ہو۔ طالب علم کو انگلی سے پکڑ کر چلانا ،عبارت پڑھنے اور مطالعہ حل کرنے میں اس کی جھجک دور کرنا، اس کو چلنے کے بعد دوڑانا، دوڑانے کے بعد اڑانا اور پھر اس میں اتنی قوت پرواز پیدا کردینا کہ وہ کسی سہارے کی تلاش کے بغیر بلا جھجک بلند آسمان میں علمی پرواز کرتا چلا جائے، یہ استاذ محترم کا ادنیٰ کمال تھا۔
بندہ کو استاذ جی کی شاگردی میں آئے تین چار ہی دن ہوئے تھے۔ ہدایہ اخیرین استاذ جی کے پاس تھی۔ ایک دن یہ ہوا کہ بندہ ناشتے کے بعد لیٹا تو آنکھ لگ گئی، استاذ جی حافظ صاحب کے سبق میں غیر حاضری ہوگئی، استاذ جی ناراض ہوگئے۔ استاذجی کی ناراضی کا ایک انداز یہ تھا کہ جس طالب سے ناراض ہوتے اس سے تین چار دن سزا کے طور پر عبارت نہ پڑھواتے تھے۔ مدرسہ چھوٹا تھا اور ہر جماعت میں طلبہ زیادہ سے زیادہ پندرہ یا بیس۔ سب طلبہ عبارت ایک جانب سے دوسری جانب تک عبارت پڑھتے اور جب اس کی باری آتی تو اس طالب علم کو بائی پاس کرکے اگلے طالب علم کو عبارت پڑھنے کا کہا جاتا، اسے شرمندگی محسوس ہوتی۔ یہ استاذ جی کا عجیب انداز تھا ، عبارت سے جان چھوٹنے پر عام طور پر طلبہ خوش ہوتے ہیں اور عبارت پڑھنے کو سزا سمجھتے ہیں مگر یہاں طالب علم عبارت کی اجازت نہ ملنے کو سز اسمجھتا تھا۔
خیر! جمعرات کا دن تھا جب بندہ نے استاذ جی کے سبق سے غیر حاضری کی تو استاذ جی نے جماعت میں طلبہ سے کہہ دیا کہ اس کو اب ایک ہفتہ تک عبارت پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جب جاگ آئی تو سبق ہوچکا تھا اور طلبہ نے آکر بتایا کہ استاذ جی تم سے ناراض ہوگئے ہیں۔ بندہ بہت نادم ہوا اور سارا دن اسی فکر میں رہا کہ استاذجی کو کس طرح راضی کیا جائے۔ اگلے دن جمعہ تھا، اور جمعہ کے دن مدرسہ کا معمول یہ تھا کہ تمام طلبہ فجر کی نماز کے بعد استاد جی حافظ صاحب کی نگرانی میں تلاوت کے لیے بیٹھتے اور اشراق تک تلاوت کرتے، کسی کو اس معمول سے غیر حاضر ہونے کی اجازت نہ تھی۔ اسی تلاوت کے ’’پیریڈ‘‘ کے دوران میں چپکے سے اٹھ کر استاذ جی کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور اپنی غلطی کی معافی چاہی۔ استاذ جی نے معاف فرمادیا اور فرمایا کہ "مجھے کل ہی کسی نے بتایا ہے کہ تم شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کے پوتے ہو"۔۔۔! بندہ ندامت سے زمین میں گڑ گیا۔ استاذ جی نے بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ’’پہلے میں نے یہ سوچا تھا کہ سبق سے غیر حاضری کی سزا میں تیرے عبارت پڑھنے پر پابندی لگا دوں گا، مگر جب یہ معلوم ہوا ہے کہ تو مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کا پوتا ہے تو اب تجھے ہر روز اور سب سے زیادہ عبارت پڑھنی ہوگی‘‘۔ بندہ نے سر جھکا دیا۔ اس دن سے لے کر آخر دن تک، جب تک میں وہاں رہا، شاید ہی کوئی دن ایسا گذرا ہو جس دن بندہ کو عبارت کا موقع نہ ملا ہو۔ جب تمام طلبہ اپنے اپنے حصہ کی عبارت پڑھ چکتے تو پھر بندہ کو ارشاد ہوتا اور اس سے آگے جہاں تک استاذ جی فرماتے بندہ عبارت پڑھتا۔ جو دو چار حرف بندہ کو آتے ہیں انہیں صرف و نحو کے ابتدائی اساتذہ کرام اور استاذ محترم مولانا محمد حسن صاحب(جو خود بھی استاذ جی حافظ صاحب کے خاص شاگرد ہیں) کے بعد حضرت استاذ جی حافظ صاحب کی اس شفقت ہی کا نتیجہ سمجھتا ہوں۔

استاذ جی کی تدریس کا طریقہ عجیب تھا۔ سال کے شروع میں سب سے پہلے عبارت پر زور ہوتا۔ استاذجی طلبہ کو الفاظ کی پہچان کرواتے، اور بالکل چھوٹے بچوں کی طرح انگلی سے پکڑ کر چلاتے، فاعل مفعول، موصوف صفت، مضاف مضاف الیہ اور اعراب کی وجوہات پوچھتے، طریقہ یہ تھا کہ طالب علم کو عبارت پڑھنی ہوتی تھی اور ہر ہر لفظ کی وجہ اعراب بتانا بھی اسی کی ذمہ داری تھی، استاذ جی ایک ایک لفظ پر جرح کرتے، طالب کو گھماتے، پھنساتے اور خود کچھ نہ بتاتے۔ اگر ایک طالب علم کسی سوال میں پھنس جاتا اور جواب نہ دے سکتا تو دوسرے، پھر تیسرے سے پوچھتے، پوچھنے کی ترتیب یہ ہوتی کہ پہلے کمزور ذہن والے طلبہ سے سوال کرتے اور جب وہ اپنی پوری طاقت خرچ کرچکتے اور سوچ سوچ کر تھک جاتے تو پھر درجہ بدرجہ ذہین طالبہ کرام سے سوال کرتے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ پوری کلاس ہی کسی سوال کے جواب سے عاجز آجاتی تو پھر آخر میں استاذ جی چند نپے تلے الفاظ میں اس عبارت کو ایسا حل فرماتے کہ لطف آجاتا تھا اور وہ عبارت، اس کا اشکال اور جواب کبھی طلبہ کے ذہن سے محو نہیں ہوتا تھا۔

بعض نحوی الفاظ کی تشریح اپنے خاص انداز میں فرماتے، مثلاً ’’اِن وصلیہ‘‘ کی تشریح یوں فرماتے کہ "اس کا ترجمہ ’’اگرچہ‘‘ ہوتا ہے اور اس کا ما بعداس کے ماقبل کو روکنا چاہتا ہے، مگر روک نہیں سکتا" ۔ مثال: ’’میں مدرسے جاؤں گا اگرچہ بارش ہی کیوں نہ ہو‘‘ تشریح: بارش کا ہونا مدرسے جانے سے روکنا چاہتا ہے مگر قائل کا عزم ہے کہ پھر بھی مدرسے جاؤں گا، تو بارش نے اسے مدرسے جانے سے روکنا چاہا مگر روک نہ سکی۔
مضاف مضاف الیہ، موصوف صفت اور دوسرے نحوی الفاظ کی آسان اور سادہ علامات طلبہ کو بتاتے جس سے کمزور ذہن والے طلبہ کیلئے بھی ان کی پہچان آسان ہوجاتی۔ استاذ محترم، نمونۂ اسلاف، امام الصرف والنحو حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدظلہ کی ’’العلامات النحویہ‘‘ بھی اسی طرز پر لکھی ہوئی ہے۔

چند دن اس طرح عبارت پر محنت کرنے کے بعد جب طلبہ کرام عبارت پڑھنے میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے لگے تو اب استاذ جی نے عبارت میں طلبہ کے مقابلے شروع کروائے۔ ’’دیکھتے ہیں کہ ایک سانس میں، غلطی کے بغیر، صاف صاف، سب سے زیادہ عبارت کون پڑھ سکتا ہے‘‘۔ سندھی، پٹھان، پنجابی، ایرانی اور سرائیکی طلبہ میں خوب مقابلہ ہوتا، کبھی سندھی طالب علم جیت جاتا تو پنجابیوں کو جوش آتا، پنجابی کی جیت ہوتی تو پٹھانوں کی غیرت کا سوال سامنے آکھڑا ہوتا۔ بلوچ اور ایرانی بھی ایک دوسرے کو چیلنج کرتے نظر آتے اور یوں ’’وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون‘‘ کا سماں بندھ جاتا۔ مقابلہ بازی کی اس فضا میں قومی حمیت کی حرارت ضرور تھی مگر لسانی عصبیت کی بدبو بحمد اللہ کبھی پیدا نہیں ہوئی نہ ہی طلبہ میں اس کی بناء پر کبھی کوئی کدورت محسوس کی گئی۔
عبارت کے ان مقابلوں میں کبھی کبھار بڑی دلچسپ صورت حال پیدا ہوجاتی۔ مانسہرہ کے ایک ساتھی بھائی زبیر نے ایک دن خوب محنت کرکے ایک سانس میں کافی زیادہ عبارت تیار کی۔ جب وہ بہت تیز رفتاری سے اور آخری حد تک سانس خرچ کرچکنے کے بعدکافی لمبی عبارت پڑھنے میں کامیاب ہوئے تو فاتحانہ نظروں سے پوری جماعت کی طرف دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے زیادہ عبارت کوئی بھی ایک سانس میں نہیں پڑھ سکتا، مگر وائے قسمت کہ بھائی حبیب الرحمن کوہستانی جو طلبہ میں ’’سروجی‘‘ کے نام سے معروف تھے، اس نے سانس جمع کرکے اس سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے عبارت پڑھنی شروع کی یہاں تک کہ جب گردن کی رگیں پھول گئیں، آنکھیں باہر نکل آئیں اور سانس اپنے اختتام کو پہنچا تو وہی لفظ زبان پر تھا جس پر بھائی زبیر صاحب کی عبارت ختم ہوئی تھی۔ سروجی صاحب نے جب دیکھا کہ میرے لئے اس لفظ کو مکمل کرنا بھی ممکن نہیں ہے اور اب میں اتنی محنت کے باوجود مقابلہ ہارنے والا ہوں تو اور ہمت کرکے کسی نہ کسی طرح اس لفظ کو ادا کرکے ایک ذرا سی ’’چوں‘‘ کی آواز نکال دی اور دعویٰ کیا کہ میں نے وہ لفظ مکمل ادا کرکے اس سے اگلے لفظ کا بھی ایک حرف پڑھا ہے۔ استاذ جی نے ان کی جیت کا اعلان کردیا، پوری جماعت ہنس رہی تھی اوربھائی زبیر صاحب کا مارے غصے کے برا حال تھا۔

جب عبارت پڑھنے میں طلبہ خوب مشاق اور ماہر ہوگئے تو اب استاذ جی نے ترجمہ کی طرف توجہ مبذول فرمائی۔ ترجمہ یوں تو ہم سات سال سے کرتے چلے آرہے تھے مگر یہاں آکر پتہ چلا کہ ترجمہ کس چیز کو کہتے ہیں اور ترجمہ کے نام پر ہم اب تک کتاب کے ساتھ کیا کرتے رہے ہیں۔ استاذ جی کے سبق میں بامحاورہ اور اندازہ یا ’’تکا‘‘ لگا کر کئے گئے ترجمہ کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ تحت اللفظ اور خالص ترکیبی ترجمہ کرنا ضروری تھا۔ ترجمہ میں قدیم اردو زبان استعمال ہوتی تھی مثلا "چلاجاوے"، "کرلیوے" وغیرہ۔ سرائیکی زبان کی کچھ کچھ آمیزش بھی ہوتی تھی، ضمیر کا ترجمہ اس کے مرجع کے ساتھ کرنا ضروری تھا۔ مثلا:
’’وجب علیہ ان یعطیہ‘‘ کا ترجمہ ’’واجب ہے اس پر کہ دے دے اس کو‘‘ بالکل قابل قبول نہیں تھا، بلکہ اس کی بجائے ’’واجب ہے اس بائع پر کہ دے دیوے اسی مشتری کو‘‘، یعنی ضمائر کا ترجمہ ان کے مرجع کے ساتھ کرنا لازمی تھا۔
ترجمہ کا ترکیب سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہونابھی ضروری تھا، یعنی حال کا ترجمہ حال والا، مضاف مضاف الیہ کا مضاف مضاف الیہ والا، موصوف صفت کا موصوف صفت والا اور شرط جزا کا ترجمہ شرط جزا والا ہی کرنا ہوتا تھا۔ترجمہ کے اس طریقے کا فائدہ یہ تھا کہ طالب علم محض اندازے سے غلط سلط ترجمہ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی عبارت میں نابینوں کی طرح ٹامک ٹوئیاں مار کر چلتا تھا بلکہ اپنے ترجمے سے جو مفہوم وہ نکالتا تھا اس پر اس کو پورا اطمینان اور وثوق ہوتا تھا۔ اس طریقے سے ترجمہ کرنے والے کو عبارت میں بصیرت حاصل ہوتی تھی اوربہت لمبے چوڑے اشکالات اور اشتباہات محض ترجمے کی خوبی سے ہی کأن لم یکن ہوجاتے تھے۔

یہاں یہ بات بھی عرض کرتا چلوں کہ آج کے زمانہ میں ادب اور تحریر و انشاء کا ایسا غلبہ ہوا ہے کہ بس اسی کو سب کچھ سمجھا جانے لگا ہے، جو شخص ادب و انشاء کا ماہر ہو اور چار لفظ لکھنے آجائیں وہ دیگر علوم کی الف باء سے بھی محروم ہونے کے باوجود فقہ و حدیث اور تفسیر تک میں دخل دینے کا خود کو اہل سمجھنے لگتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ علمی مسائل میں قلمی و ادبی موشگافیاں نہ کرنے والے بڑے بڑے محدثین و فقھاء اور مفسرین و متکلمین بھی اسے جاہل و احمق نظر آنے لگتے ہیں۔ ادب وانشاء اور حسن تحریر و تفھیم نے اس زمانہ میں وہی اہمیت اور حیثیت اختیار کرلی ہے جو کسی زمانے میں منطق کو حاصل تھی، تب جس شخص کو منطق و فلسفہ پر عبور ہوتا وہ اپنے آپ کو چیزے دیگر سمجھتا تھا، ساری دنیا اسے بونی نظر آتی تھی، اور دیگر علوم کے ماہرین باوجود رسوخ فی العلم کے اس کے سامنے دبے دبے رہتے تھے۔ اسی طرح اب جس کو دو چار لفظ لکھنے آجائیں وہ لمحوں میں خود رائی کے پربت کی چوٹی پر جا بیٹھتا ہے، ہمہ دانی کے نشہ میں بدمست ہوکر انا ولا غیری کی بگل بجانے لگتا ہے اور علم و فضل میں اس سے ہزاروں گنا مضبوط اور راسخ علماء بے قدری کی فضاؤں میں گم ہوجاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس قدیم طرز کے ترجمہ کواب اچھے خاصے اہل علم کے ہاں بھی معیوب اور دیہاتی خیال کیا جانے لگا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عبارت کو سمجھنے اور اس میں مہارت پیدا کرنے کیلئے لفظی اور ترکیبی ترجمہ انتہائی ضروری ہے۔ ہاں خود کتاب کو سمجھنے کی لیاقت حاصل ہوجانے کے بعد لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کیلئے بامحاورہ اور جدید انداز کے ترجمہ کی بھی خوب مشق کرلینی چاہئے، تاکہ نہ تو خود بات کو سمجھنے میں غلطی ہو اور نہ ہی لوگوں کو سمجھانے میں دشواری ہو۔

فائدہ۔۔۔: طالب علم کو چاہئے کہ مطالعہ شروع کرنے سے پہلے تین چار مرتبہ عبارت پڑھ لے۔ اس طرح عبارت کے موضوع اور مفہوم کا ایک خاکہ اور خلاصہ پہلے سے اس کے ذہن میں آجائے گا اور مطالعہ میں بے حد آسانی ہوگی۔
بعض اوقات طالب علم مطالعہ کے دوران کسی لفظ کو حل نہیں کرپاتا اور گھنٹوں اس پر غور کرتا رہتا ہے، حالانکہ اسی لفظ کی وضاحت اس سے نچلی سطر میں موجود ہوتی ہے۔

فائدہ ۲۔۔۔: عبارت کو حل کرنے اور عبارت پڑھنے میں ذرا فرق ہے۔ بہت سے طلبہ عبارت کو خوب محنت کرکے حل کرلیتے ہیں لیکن عبارت پڑھنے میں وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوتے، اس لئے کہ عبارت پڑھنے میں روانی صرف اسے حل کرنے سے نہیں بلکہ زبان سے پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا طالب علم کو چاہئے کہ عبارت کے اعراب درست کرنے، اس کے مطالب کو سمجھنے اور ٹھیک ترجمہ کرچکنے کے بعد آخر میں بھی تین چار مرتبہ عبارت کو ذرا بلند آواز سے پڑھے۔ اس سے اس کی زبان صاف ہوگی اور پڑھنے میں روانی آئے گی۔ محض حل کرلینے سے یہ بات حاصل نہیں ہوسکتی۔

ترجمہ میں کافی مہارت حاصل ہوجانے کے بعد اب مفہوم بیان کرنے کی باری آئی۔ اگرچہ جس طریقے سے ترجمہ کرنا سکھایا گیا تھا، اس میں مہارت کے بعد اکثر و بیشتر مفہوم تو اسی سے حل ہوجاتا تھا۔ جو طالب علم مفہوم کو صحیح سمجھا نہ ہو اس کیلئے استاذ جی کے سامنے ترجمہ کرنا قریب قریب ناممکنات میں سے تھا۔ مگر اب استاذ جی کی طرف سے مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ عبارت پڑھنے سے پہلے اس کا ٹھیک ٹھیک مفہوم آسان اور جامع مانع الفاظ میں پیش کیا جائے۔ مسئلہ کی صورت مسئلہ بنائی جائے جو مسئلے کی تمام شقوں پر مشتمل ہو۔ استاذ جی حاشیہ پڑھنے کی خاص طور پر ترغیب دیتے، کبھی کبھی حاشیہ باقاعدہ حل بھی کرواتے اور حاشیہ کی طرف التفات نہ کرنے والے طالب علم سے باز پرس کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات بہت سی شروحات دیکھنے کی نسبت صرف حاشیہ کو حل کرنا کتاب کے حل کے لیے کہیں زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

جس دن کوئی مشکل مسئلہ کتاب میں آتا اس سے چند دن پہلے ہی استاذ جی اعلان فرمادیتے کہ ’’جو طالب اس مسئلے کو ٹھیک ٹھیک حل کرے گا اسے ایک خرما(کھجور) انعام میں دوں گا‘‘
اب اس ’’خرمے‘‘ کو حاصل کرنے کیلئے سب طلبہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے، ہر کوئی خوب محنت سے اس عبارت کو حل کرکے صورت مسئلہ کی بہترین تقریر تیار کرنے کی کوشش کرتااور استاذ جی پہلے سے اعلان فرما دیتے کہ ’’تمہارا خرما خوامخواہ خراب کروں گا‘‘۔ یعنی تمہیں پھنسا کر فیل کردوں گا اور خرما نہیں لینے دوں گا۔ چنانچہ کوئی کوئی خوش نصیب ہی اس اعزاز کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتا تھا۔
(’’خوامخواہ‘‘ کا لفظ ہمارے دیار یعنی لاہور و ما حولھا میں فضول و بیکار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جبکہ رحیم یار خاں کے اطراف میں یہ لفظ ’’ضرور‘‘ کے معنی میں مستعمل ہے۔ شروع شروع میں جب استاد جی کی زبان سے سنتے تھے کہ:
" جو سبق یاد نہیں کرے گا اس سے خوامخواہ پوچھ پاچھ کروں گا" تو بہت تعجب ہوتا۔ جب وہاں کا محاورہ سمجھ میں آیا تب تعجب دور ہوا۔)

جس سال میں پڑھنے کے لیے گیا، استاذ جی کی طبیعت بہت ناساز تھی اور اسباق بہت مشکل سے چل رہے تھے، سبق کبھی ہوتا کبھی نہیں، بسا اوقات ایک ایک ہفتہ بھی سبق نہ ہوسکتا۔ اس لئے پورے سال میں صرف تین مقامات پر ’’خرمے‘‘ کے انعام کا اعلان ہوا، ایک مرتبہ مجھے بھی ’’خرما‘‘ حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا جبکہ دوسری مرتبہ کافی حد تک مقام حل کرلینے کے باوجود استاذ جی کے ایک سوال میں پھنس جانے کی وجہ سے ’’خرمے‘‘ سے محروم رہا۔ استاذ جی سالانہ تعطیلات کے دوران کراچی میں دورۂ میراث بھی پڑھاتے تھے، بندہ کو اس میں شرکت کا شرف حاصل نہیں ہوسکا، اس میں استاذ جی نے ایک میراث کے سوال کے بارے میں چیلنج کررکھا تھا کہ ’’جو طالب اسے حل کرے گا اسے ایک پاپا(رس) اور ایک چائے کا پیالہ انعام میں دوں گا‘‘ استاذ جی خود فرماتے تھے کہ غالبا تیس سال میں صرف ایک طالب علم یہ انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے۔

استاذ جی کے اس طریقۂ تعلیم کی بدولت طلبہ کرام کو درجہ بدرجہ ترقی حاصل ہوتی گئی، سال کے شروع میں محض دو تین سطر سبق ہوتا تھا اور سال کے آخر میں تو طلبہ کرام خود ہی عبارت پڑھتے، ترجمہ و تشریح کرتے اورپندرہ پندرہ بیس بیس صفحات خود ہی پڑھتے چلے جاتے، استاذ جی تقریبا خاموش ہی رہتے۔
سبق کے دوران استاذ جی طلبہ کی ذہنی سطح کا خاص خیال رکھتے، اناڑی طالب علم پر زیادہ روک ٹوک نہ کرتے، شروع شروع میں طالب کو زیادہ تر عبارت پڑھنے دیتے اور پھر بعد میں اس سے پوچھ پاچھ کرتے، بعض طلبہ جو بہت ہی کند ذہن تھے، ان کی بالکل بھی غلطی نہیں نکالتے تھے ۔ کبھی کبھی ان کی غلط سلط عبارت پر منہ نیچے کرکے ہنستے رہتے تھے لیکن کہتے کچھ نہیں تھے، البتہ کچھ نہ کچھ قواعد یاد کرواکران کا اجراء کرواتے رہتے تھے۔ایسے طلبہ وہ ہوتے تھے جن کی ابتداء ہی سے تعلیم بہت کمزور ہوتی اور اب وہ محنت بھی نہیں کرتے تھے۔ مگرایسے طلبہ بھی استاذ جی کی شاگردی میں بالکل محروم نہیں رہتے تھے۔

*استاذ جی کا انداز تربیت:*
تعلیم کے ساتھ ساتھ استاذ جی تربیت پر بھی بہت زور دیتے تھے، خود بھی باجماعت نماز اور تہجد وغیرہ کے سختی سے پابند تھے اور طلبہ پربھی اس حوالے سے کڑی نگاہ رکھتے تھے۔اذان کے بعد کسی طالب علم کو کمرے میں رہنے کی قطعا اجازت نہ تھی، استاذ جی خود وضو کرکے ہر کمرے میں تشریف لاتے اور بسا اوقات زور سے لات مار کر دروازہ کھولتے، جو طالب ابھی تک کمرے میں ہوتا اس سے باز پرس کرتے۔ تنبیہ کرنے کا استاذ جی کا انداز یہ تھا کہ دھمکاتے بہت تھے، مارتے بہت کم تھے۔ جو طالب علم اذان کے بعد یا سبق کے وقت سویا ہوا ہوتا، اس کی رضائی اتار کر باہر چمن میں ڈال دیتے۔ سبق کے دوران جس سے کوئی غلطی ہوتی اس کی ٹوپی اڑادیتے۔ ’’ٹوپی اڑانا‘‘ استاذ جی کا ایک خاص محاورہ تھا اور عملی صورت اس کی یہ تھی کہ جب کوئی طالب علم دوران سبق کوئی غلطی کرتا تو استاذ جی کے حکم پر اس کی ٹوپی اتار کر جماعت کے درمیان میں ڈال دی جاتی تھی، جماعت ایک دائرہ نما صورت میں لگتی تھی، یعنی ایک طرف استاذ جی تشریف رکھتے اور تینوں طرف طلبہ کی تپائیاں ہوتیں۔ ہر سبق میں تین چار ٹوپیوں کو ’’اڑا‘‘ دیا جاتا جنہیں ٹوپیوں کے مالکان سبق کے بعد دوبارہ اٹھا کر سر پر رکھ لیتے۔

*بندہ ناچیز پر استاذ جی کی چند شفقتیں:*
یوں تو استاذ جی کی ذات گرامی تمام ہی طلبہ کیلئے بے حد شفیق تھی لیکن بندہ پر خاص طور پر استاذین کریمین (استاذجی حافظ صاحب اور استاذجی نعمانی صاحب) کی مہربانیوں کا سحاب کرم سارا سال برستا رہا۔ حضرت استاذ جی حافظ صاحب ؒ کے سبق میں بندہ اور حضرت استاذجی ایک ہی تپائی پر بیٹھتے اور ایک ہی کتاب دونوں کے سامنے ہوتی تھی۔ استاذ جی جب کتاب کی عبارت کی تشریح کر رہے ہوتے تو مجھے پوری طرح چوکنا ہوکر بیٹھنا ہوتا تھا، جونہی استاذ جی خاموش ہوتے، فوراً اسی جگہ سے عبارت شروع کرنی ہوتی جہاں سے چھوٹی تھی، ہر سبق میں ایک طالب علم کی یہی ڈیوٹی ہوتی تھی اور عبارت شروع کرنے میں ذرا سی تاخیر کرنے یا ادھر ادھر عبارت تلاش کرنے پر استاذ جی تھپڑ لگا دیا کرتے تھے، بندہ کو بھی ایک مرتبہ یہ تھپڑ لگنے لگا تھا، مگر لگا نہیں۔
شروع سال میں استاذ جی نے بندہ کو جو بات کہی تھی، تمام سال اس پر قائم رہے، پہلے سب ساتھیوں سے تھوڑی تھوڑی عبارت سنتے، جرح کرتے، جب تھک جاتے تو پھر بندہ کو اشارہ فرماتے اور بندہ جہاں تک استاذ جی کی مرضی ہوتی وہاں تک عبارت پڑھ دیتا۔
استاذ جی صفائی اور طہارت کا بے حد خیال رکھتے تھے، لہٰذا استاذ جی کے کپڑے دھونے کی ایک دو طالب علموں کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں تھی۔ بندہ کو استاذ جی کی خدمت کا بہت شوق ہوا تو پرانے خادموں سے استاذ جی کے مزاج کے مطابق کپڑے دھونے کا پورا طریقہ سیکھ کر استاذ جی سے ان کے کپڑے دھونے کی اجازت چاہی، استاذجی نے شفقت فرماتے ہوئے اجازت مرحمت فرمادی مگر خود کھڑے ہوکر دیکھتے رہے کہ میں پاکی ناپاکی کا خیال رکھتا ہوں یا نہیں، جب تسلی ہوگئی تب اجازت برقرار رکھی۔ یوں کئی مرتبہ اس خدمت کی سعادت بندہ کو حاصل ہوئی۔
استاذ جی کے خاص خادم بھائی عبد الوہاب صاحب بہت خوش قسمت انسان تھے۔ بہت کم گو، شرمیلے، درویش صفت اور متواضع شخص تھے۔ استاذجی کی خدمت کی خوب سعادت حاصل کی۔ اللہ جل شانہ ان کو بہت جزائے خیر عطا فرمائیں۔

*ہنگامی طور پر مدرسہ سے واپسی:*
روز و شب یونہی بڑے مزے سے گذر رہے تھے، سال کے اختتام میں ابھی کچھ عرصہ باقی تھا کہ اچانک بندہ کے جد امجد، مرشد و مربی اور محسن، امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کے انتقال کا جانکاہ حادثہ پیش آگیا۔ رات تین بجے اطلاع ملی، کمرے کے ساتھیوں کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور اسی حالت میں افتاں و خیزاں سامان باندھ کر بادیدۂ گریاں گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہوگیا۔ حضرت دادا جانؒ کے جنازے میں شرکت کے بعد کچھ دن کے لیے وہاں ٹھہرا تو پھر بعض اعذار کی بناء پر دوبارہ مدرسے ہی نہ جاسکا۔ اسباق قریب الاختتام تھے، استاذجی حافظ صاحب ؒ کو فون پر اپنا عذر بتایا تو استاذ جی نے بھی اجازت مرحمت فرمادی۔ یوں محبت کرنے والے ساتھیوں اور شفیق اساتذہ کرام سے ناگہانی طور پرعارضی رخصت، طویل جدائی میں تبدیل ہوگئی۔ تمام سال اکٹھے رہنے والے دوست جدائی کے وقت ایک دوسرے کو الوداع بھی نہ کہہ سکے۔ جہاں جہاں بھی ہیں، اللہ جل شانہ ہر ایک کو اپنی جگہ پر خوش رکھیں اور دین کی خدمت کیلئے قبول فرمائیں۔

*استاذ جی کا انتقال:*
حضرت دادا جان کے انتقال کے حادثے کو چند ہی ماہ گذرے تھے، رمضان کے مہینے کا آخری عشرہ تھا اور بندہ اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک استاذجی حافظ صاحب کے انتقال کی خبر سے بجلی سی گر پڑی، استاذجی کا انتقال کراچی میں ہوا تھا اور جنازہ ظاہر پیر (رحیم یار خان) میں ہونا تھا۔ اگر بندہ اعتکاف میں نہ ہوتا تو جنازے میں پہنچ سکتا تھا، مگر اعتکاف کی وجہ سے جنازے میں شرکت سے بھی محروم رہا۔ استاذ جی کی شفقتوں اور مہربانیوں کو یاد کرتا، آنسو بہاتا اور استاذ جی کیلئے دعا اور ایصال ثواب کرتا رہا۔
رمضان کے بعد نیا سال شروع ہونے پر بندہ نے ’’مظاہر العلوم‘‘ گوجرانوالہ میں تکملہ کی خاطر داخلہ لیا۔ جب استاذِ محترم مولانا داؤد صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضری ہوئی تو استاذ جی نے بتایا کہ "میں چھٹیوں کے دوران کراچی گیا ہوا تھا اور وہاں استاذ محترم حافظ عبد الکریم صاحب سے ملاقات ہوئی تھی، انہوں نے مجھے کہا تھا کہ جب آپ گوجرانوالہ واپس جائیں تو وہاں احسن نام کا میرا ایک شاگرد رہتا ہے، اسے ضرور میرا سلام دیں،
اب استاذ جی کا تو انتقال ہوچکا ہے لیکن ان کا سلام میرے پاس امانت ہے، وہ آپ کو پہنچاتا ہوں"
استاذ جی کے انتقال کے بعد ان کا یہ شفقت نامہ ملا تو بہت عجیب حالت ہوئی اور بے اختیار آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اللہ جل شانہ استاذ جی کو بہت جزائے خیر عطا فرمائیں اور ان کے درجات بلند فرمائیں۔ آمین

تبصرے

  • ما شاء اللہ ما شاء اللہ، خوب بہت خوب لکھا ۔۔۔۔۔۔ ہرچند کہ یہ مضمون راقم آثم پچھلے سال پڑھ چکا تھا،تاہم ایک بار پھر پڑھا اور اسی شوق و ٹھہراﺅ کے ساتھ پڑھا جو پہلی بار میں تھا، دست بدعا ہوں کہ اللہ سبحانہ و تعالی حضرت استاذ جی کو اور آپ کے دادا جان رحمہا اللہ کو کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائیں، درجات بلند فرمائیں، جوار نبی عطا فرمائیں

تبصرہ لکھیں

ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018