مدارس دینیہ میں قدیم عربی ادب کی تدریس

کیا اردو ادب میں موجود بعض فحش مضامین کو پڑھنا یا پڑھانا غلط ہے؟ اگر غلط ہے تو پھر دینی مدارس میں ایسا عربی ادب کیوں پڑھایا جاتا ہے جس میں فحش عناصر پائے جاتے ہیں؟

کیا اردو ادب میں موجود بعض فحش مضامین کو پڑھنا یا پڑھانا غلط ہے؟ اگر غلط ہے تو پھر دینی مدارس میں ایسا عربی ادب کیوں پڑھایا جاتا ہے جس میں فحش عناصر پائے جاتے ہیں؟
آئیے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔

1: دنیا کی کوئی بھی زبان ہمیشہ ایک جیسی حالت میں نہیں رہتی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوتی اور شکل و صورت بدلتی رہتی ہے۔ دور کیوں جائیے، آج سے سو سال قبل کی اردو کو آج کے اچھے بھلے اردو دان سمجھنے اور پڑھنے سے تقریبا قاصر ہیں، الفاظ، محاورات، ضرب الامثال حتی کہ تذکیر و تانیث اور واحد جمع کے قوانین تک تبدیل ہو چکے ہیں۔
زبان اہل زبان کے دم سے قائم ہوتی ہے، اگر کوئی زبان دوسری زبانوں کے غلبے سے اپنا رنگ روپ کھونے لگے، اہل زبان زمانے کے تشدد سے اس کو بچانے میں ناکام ہونے لگیں اور اجنبی و نوزائدہ الفاظ کے زبان میں گھسنے کے عمل کو نہ روک سکیں تو اب اس زبان کے دنیا میں باقی رہ جانے کی ایک ہی صورت ہے کہ اس زبان کا اصل اور ٹھیٹھ لٹریچر نہ صرف محفوظ رکھا جائے بلکہ اس کو درسیات میں شامل کرکے ہر زمانے میں قوم کا ایک طبقہ ایسا تیار کیا جائے جو اس کو سمجھنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہو۔
جیسے آج کل ہماری اردو کی درسگاہوں میں میر، ذوق، غالب اور اقبال وغیرہ کو پڑھا پڑھایا جاتا ہے اور ان کے کلام پر عبور کے بغیر کسی کو اردو کا ماہر نہیں سمجھا جاسکتا۔

2: دنیا کی کسی بھی زبان کو اس کی اصل حالت میں باقی رکھنا اس زبان کے بولنے والوں کی زیادہ سے زیادہ ثقافتی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن عربی زبان کو اس کی اصل حالت میں باقی رکھنا مسلمانوں کی ایمانی ضرورت ہے، ان کے اوپر فرض ہے۔ اس لئے کہ قرآن پاک سمیت اسلام کا تمام بنیادی لٹریچر عربی زبان میں ہے اور اگر اس اصل عربی زبان کو محفوظ نہ رکھا گیا تو اسلام کو بعینہ وہی صورت حال درپیش آسکتی ہے جو دوسرے اہل کتاب کو پیش آئی، ان کی اصل زبانیں اصلی حالت میں دنیا سے ناپید ہو گئیں، آسمانی کتابیں ترجمہ در ترجمہ کے عمل سے ہزاروں بار گذر کر ایک چیستاں اور لا ینحل معمہ بن کر رہ گئیں، ان کے علماء کتاب کے کسی معنی کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو وادئ تحیر میں سرگرداں رہ جاتے ہیں کیونکہ نہ کتاب کی اصل زبان محفوظ اور نہ کتاب کے اصل الفاظ ہی محفوظ.... نتیجۃ جو حالت ان کے مذاہب کی ہوئی ہے سب کے سامنے ہے، عیاں را چہ بیاں۔۔

3: اصل عربی زبان کو اگر ہم محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو وہ قرآن پاک اور احادیث کے علاوہ نزول قرآن کے زمانے کے شعراء کے کلام میں موجود ہے۔ یہی وہ دواوین ہیں جن میں اس زبان کو پڑھا اور جس کی بنیاد پر عربی کے کسی لفظ کو پرکھا جاسکتا ہے. قرآن پاک کے کسی لفظ کے معنی کی تحقیق میں بھی اسی کلام سے مدد لی جاتی ہے۔ قرطبی اور روح المعانی اٹھا کر دیکھ لیجئے! الفاظ کے معانی اور محاورات عرب کی تحقیق میں ہر ہر صفحے پر جاہلی شعراء کے کلام سے استدلال کیا جاتا ہے۔ اسی لئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جاہلی ادب کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا تھا اور اسی حکم کی بناء پر امت نے آج تک اس کو محفوظ رکھا ہے۔

4: زمانہ جاہلیت کے شعراء کیونکہ مسلمان نہیں تھے اس لئے ان سے شاعری میں تقوی و نیکوکاری کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ ان کی شاعری اپنے انساب کے مفاخر، بہادری و شجاعت کی داستانوں، اپنے خاندانوں اور قبائل کے ساتھ ساتھ اپنی تلواروں، گھوڑوں اور اونٹوں کے قصیدوں اور عورتوں کے حسن و جمال وغیرہ کے عناصر پر مشتمل ہے۔ ان میں فحاشی و بے ہودگی کا عنصر موجود ہے تاہم مجموعی طور پر وہ اتنا نہیں ہے جتنا دکھایا جاتا ہے۔ جاہلی شعراء میں سب سے زیادہ فحش گو اور منہ پھٹ شاعر امرؤ القیس ہے اور اس کے قصیدے کا جو حصہ وارداتِ حسن و عشق سے نکل کر صریح فحاشی کی حدود میں داخل ہورہا ہے وہ غالبا اس کے قصیدے کے سدس سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر قصائد کا زیادہ تر عنصر شجاعت بہادری سخاوت اور جفا کوشی وغیرہ ہے اور عورتوں کا ذکر کہیں ہے بھی تو ملفوف انداز میں اور تہذیب کے دائرے میں ہے۔

5: ان جاہلی قصائد کو اسلامی مدارس میں جب پڑھایا جاتا ہے تو اساتذہ و طلباء کی پوری توجہ الفاظ کے معانی، ان کے مادے، لغوی و صرفی تحقیق اور ہر لفظ کی قرآن و حدیث سے تخریج پر ہوتی ہے۔ قصائد میں جن برائیوں کا ذکر ہوتا ہے ان کو برائی ہی سمجھا جاتا ہے۔ نہ ان جاہلی شعراء کو کوئی احمق اپنا آئڈیل سمجھتا ہے اور نہ کسی کو ان کے "نقش قدم" پر چلنے کا کوئی شوق پیدا ہوتا ہے۔

6: اس کے برعکس جب ہم مغربی ادب کے نقال زمانہ حال کے اردو افسانہ نگاروں یا ناول نگاروں کو پڑھتے ہیں تو یہ لوگ سادہ الفاظ میں اپنے واقعات و حقائق کو بیان نہیں کرتے بلکہ پوری منصوبہ بندی سے قاری کو ایک خاص رخ پر لے جانے، اس کے جذبات کو بھڑکانے، برانگیختہ کرنے، اس کے خیالات کو منتشر کرنے، اس کی باقاعدہ ذہن سازی کرنے اور اس کے عقائد و افکار پر حملہ کرنے اور ان کی بنیاد ہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس زمانے میں میڈیا ایک باقاعدہ صنعت بلکہ ایک سائینس ہے اور یہ اس قدر کامیاب سائنس ہے کہ جن رسالوں، افسانوں، ناولوں اور فلموں کو انسان محض وقت گذاری کے لئے پڑھ اور دیکھ رہا ہوتا ہے ان کے ذریعے اس کے بنیادی عقائد تک کو بغیر کسی دلیل یا حجت کے محض ادبیت و لفاظی کے زور پر ادھیڑ کر رکھ دیا جاتا ہے۔

7: جاہلی ادب کو اگرچہ ایک درجہ مجبوری کی بناء پر پڑھایا جاتا ہے مگر اس کے باوجود اس کے فحش عنصر کی کثافت سے طبیعت کو تکدر ہوتا ہے اور علماء کو اس کا احساس ہے، شیخ الادب مولانا اعزاز علی رحمہ اللہ کی "نفحۃ العرب" اور مولانا سید علی میاں رحمہ اللہ کی "مختارات من ادب العرب" اسی احساس کا نتیجہ ہیں اور دونوں بزرگوں نے اپنی اپنی کتاب کے مقدمے میں اس امر کی صراحت کی ہے۔

8: اوپر عرض کی گئی تفصیل سے معلوم ہوا کہ عربی زبان کو محفوظ رکھنا مسلمانوں پر فرض ہے اور جاہلی ادب کو پڑھنا پڑھانا اس کے لئے ایک مجبوری ہے۔ جبکہ اردو زبان کی اصل شکل کو بعینہ محفوظ رکھنا نہ ہم پر فرض ہے اور نہ ہی اس کی حفاظت منٹو وغیرہ کو پڑھنے پر موقوف ہے۔ اصل اور ٹکسالی اردو کے ادیب میر، ذوق، غالب وغیرہ ہیں نہ کہ منٹو جیسے تیسرے درجے کے لوگ۔ منٹو بنیادی طور پر جنس نگار نہیں نفسیات نگار ہے، مگر بے حد منہ پھٹ، بے ہودہ گو اور واہیات قسم کا نفسیات نگار... اس کی تحریر کو پڑھ کر دل میں کثافت اور تکدر پیدا ہوتا ہے اور بسا اوقات ابکائی آتی ہے، میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی شریف الطبع یا سلیم الطبع انسان اس کو پڑھ کر اپنے دل میں وہ نشاط اور کیف محسوس کرسکتا ہے جو کسی اچھے ادیب کو پڑھتے وقت دل میں محسوس ہوتا ہے۔

9: نیز سعدی اور منٹو وغیرہ میں بھی بنیادی فرق وہی ہے کہ سعدی ہنسی مزاح میں حکمت کی باتیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور منٹو اپنی تحریر سے ذہنی آلودگی اور آوارگی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے نصاب میں سعدی کی گلستان کے جو ابواب پڑھائے جاتے ہیں ان میں ہزلیات کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے۔

10: اشکال یا اعتراض کردینا یا کسی اعتراض کو لے کر آگے اڑا اور پھیلا دینا کوئی کمال نہیں ہے، اعتراض کی حقیقت تک پہنچنا اور سنجیدگی محنت اور تحقیق سے اس کا موازنہ کرکے کسی نتیجے پر پہنچنا کمال ہے۔
اگر آپ خود غور و فکر کرکے کسی اعتراض کو پرکھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں تو ان اعتراضات کو آگے پھیلانے کے لایعنی شغل کو ترک کرکے اپنے اندر ان کے صحیح تجزیے کی صلاحیت اور علمیت پیدا کرنے کی کوشش کیجئے۔ زخم لگانا کمال نہیں، مرہم لگانا کمال ہے۔۔۔

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزہ تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

تبصرے

تبصرہ لکھیں

ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018