طلاق شدہ عورت کا نکاح

انسانی سماج کی تشکیل خاندان سے ہوتی ہے اور خاندان نکا ح سے وجود میں آتا ہے ، نکاح سے صرف میاں بیوی ہی کا رشتہ پیدا نہیں ہوتا ، بلکہ دادیہالی ، نانیہالی اور سسرالی خاندان بھی در اصل اسی رشتہ کا پھیلاؤ اور اس کی سایہ دار شاخیں ہیں ، اسی لئے انسانی زندگی میں نکاح کی بڑی اہمیت ہے ، اس لئے اسلام میں نکاح کی بڑی ترغیب دی گئی ہے ، اور تجرد کی زندگی کواسی قدر ناپسند کیا گیا ہے ۔ 
نکاح کے ذریعہ جو رشتے وجود میں آتے ہیں ، جیسے والدین اور اولاد وہ قدرتی اور فطری ہوتے ہیں ، ان رشتوں کا وجود میں آنا اور باقی رہنا انسان کی رضامندی اور خوشنودی پر موقوف نہیں ہے ، یہاں تک کہ انسان ان رشتوں کو ختم کرنا بھی چاہے تو نہیں کرسکتا ، لیکن خود نکاح ایسا رشتہ ہے جو انسان کی باہمی رضا مندی اوراس کے اپنے ارادہ و اختیار سے وجود میں آتا ہے ، قاعدہ ہے کہ جو کسی رشتہ کو وجود میں لا سکتا ہے وہ اس رشتہ کو ختم بھی کرسکتا ہے ، اس لئے نکاح کے ساتھ اس بات کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ اگر نکاح سکون کی چھاؤں بننے کے بجائے نفرت کا زہر گھولنے لگے ، تو مرد و عورت ایک دوسرے سے مناسب طریقہ پر علاحدگی اختیار کرلیں ، اسی کا نام ’’ طلاق ‘‘ ہے ۔ 
جیسے نکاح ایک فطری ضرورت ہے ،اسی طرح طلاق بھی بعض حالات میں ضرورت بن جاتی ہے ، طلاق کی مثال بالکل آپریشن کی سی ہے ، آپریشن ایک ناگوارِ خاطر عمل ہے ، لیکن بعض اوقات انسانی صحت کو بر قرار رکھنے کے لئے ناگزیر ہوجاتا ہے ، ایسے وقت میں آپریشن سے بہتر کوئی اور صورت نہیں ہو سکتی ، اسی طرح ازدواجی رشتہ سکون اور طمانینت کی چھاؤں ہے ، اور اس کا مقصد سفر زندگی کے سرد و گرم اور تلخ و شیریں حالات میں ایک دوسرے کی دل داری و غم خواری ہے ، لیکن اگر زوجین کے درمیان ایسا بعد پیدا ہو جائے کہ یہ رشتہ دلداری کے بجائے دل آزاری کا باعث بن جائے ، تو اس رشتہ کو ختم کردینے میں ہی شوہر اور بیوی دونوں کی بھلائی ہوتی ہے ، اسی لئے اسلام نے ایک ناپسندیدہ ضرورت کی حیثیت سے طلاق کی گنجائش رکھی ہے ۔
دنیا کے بڑے بڑے مذاہب میں ہندو اور عیسائی مذہب میں طلاق کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے ، ہندو مذہب میں بیوی کی حیثیت ایک طرح سے مملوکہ جائیداد کی ہے ، اس لئے ملکیت اور وفاداری کا تقاضہ سمجھا گیا کہ وہ خواہی نہ خواہی اپنے آپ کو شوہر کے ساتھ جوڑے رہے ، یہاں تک کہ اس وفاداری کا کمال یہ ہے کہ اگر شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس کے ساتھ اپنے آپ کو نذر آتش کرلے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو زندگی بھر بیوہ رہے اور خاندان میں ایک منحوس وجود کی حیثیت سے اپنے آپ کو باقی رکھے ۔
بائبل میں حضرت مسیح کا قول نقل کیاگیا ہے کہ : ’’ جسے خدا نے جوڑا ہے اسے کوئی نہ توڑے ‘‘ اس فقرہ سے عیسائی علماء نے یہ بات مستنبط کی کہ نکاح کے بعد پھر اس رشتے کو توڑا نہیں جاسکتا ، حالانکہ اس کی حیثیت محض ایک اخلاقی ہدایت کی تھی نہ کہ مستقل قانون کی ، چنانچہ عیسائی مذہب میں نکاح کے بعد طلاق کا کوئی تصور نہیں ، بعد کو چل کر جب لوگوں نے محسوس کیا کہ اگر عورت زنا کی مرتکب ہو تو میاں بیوی میں تفریق کردی جائے گی ، اور پھر زنا کی دو قسمیں کی گئیں ، جسمانی زنا یعنی بدکاری اور روحانی زنا یعنی عیسائیت سے ارتداد ، لیکن یہ تفریق بھی صرف اس حد تک ہوتی کہ زوجین ایک دوسرے سے علاحدہ ہو جائیں ، لیکن عورت کو دوسرے نکاح کی اجازت نہیںہوگی ، گویا عیسائی مذہب میں بھی مطلّقہ کے نکاحِ ثانی کا کوئی تصور نہیں ۔ 
اسی پس منظر میں چند سال پہلے ایک غیر معمولی خبر یہ آئی کہ برطانیہ کے شہزادہ چارلس نے اپنا دوسرا نکاح مطلّقہ خاتون سے کیا ہے ، یہ شہزادہ کا ایسا جرم تھا کہ برطانیہ کے قصر شاہی میں ملکہ نے ان کی تقریبِ نکاح رکھنے سے انکار کردیا ، اور جب یہ جوڑا تفریح کے لئے امریکہ گیا تو صدرِ امریکہ جناب بش نے صاف طور پر کہا کہ ان کے استقبال کے لئے وہائٹ ہاؤس کا دروازہ بند ہے ، گویا برائی اور بدکاری کوئی عیب نہیں ہے ؛ لیکن قانونی رشتہ اتنا بڑا عیب ہے جس کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جاسکتا ، مغرب اپنے آپ کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ قرار دیتا ہے ، لیکن دوسری طرف فکر و خیال کی پستی اور قانونِ فطرت سے بغاوت کا یہ حال ہے کہ آج بھی مطلّقہ سے نکاح کو عیسائی روایت کی بنیاد پر مذموم سمجھا جاتا ہے ، کیا یہ عمل انصاف اور فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہے کہ مطلّقہ عورت بے آبرو ہو اور اپنی عفت و پاکدامنی کا سودا کرے تو یہ تذلیل قابل قبول ہے ؟ اور وہ اپنا نیا گھر بسائے تو اس کی اجازت نہ ہو ؟ 
ہندو معاشرہ میں بھی مطلّقہ اور بیوہ کو منحوس سمجھا جاتا ہے اس لئے جب کوئی عورت شوہر کی موت یا کسی اور وجہ سے تنہا ہو جاتی ہے ، تو اسے ہمیشہ تنہائی اور کس مپرسی ہی کی زندگی گذار نی پڑتی ہے ، یہ صورتِ حال عورتوں کے لئے سراسر نامنصفانہ ہے ، اوّلا تو یہ عورت کو مجبور اور غیر محفوظ بناکر رکھنا ہے ، شوہر بیوی کے لئے معاشی کفالت کا بھی ذمہ دار اور اس کی جان و مال اور عزت و آبرو کا محافظ بھی ہے ، شوہر کی موجودگی خود اس کے لئے بہت بڑا حصار ہے ، دوسرے قدرت کی طرف سے انسان میں جو صنفی جذبات رکھے گئے ہیں ، عورت کے ان جذبات کا قتل بھی ہے ، جب کہ نفسیاتی طور پر ایک ایسی عورت جو ازدواجی زندگی گذار چکی ہو ، ان جذبات کا زیادہ احساس و ادراک رکھتی ہے ، تیسرے یہ غیر فطری زندگی عورت کو غلط راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیتی ہے ،اور اس سے نہ صرف اس عورت کی عزت پامال ہوتی ہے ؛ بلکہ سماج میں بھی گندگی پھیلتی ہے ، اوراخلاقی بگاڑ کی راہ ہموار ہوتی ہے ۔
اسلام نے تجرد کی زندگی کو ناپسند کیا ہے ، خواہ کنوارے مرد و عورت ہوں یا وہ پہلے شادی شدہ رہ چکے ہوں اور اب تجرد کی حالت میں ہوں ، قرآن مجید نے خاص طور پر حکم دیا ہے کہ جو مرد بغیر بیوی کے ہوں یا عورتیں بغیر شوہر کے ، ان کے نکاح کردو ، ’’ وأنکحوا الأیامیٰ منکم ‘‘ (نور : ۳۲ ) اس کے مخاطب سرپرست اور اہل خاندان بھی ہیں اور سماج کے لوگ بھی ، بعض دفعہ کسی کی بیوی کا انتقال ہوجاتا ہے یاشوہر کی وفات ہو جاتی ہے اور مرد و عورت اولاد کی وجہ سے دوسرا نکاح کرنے میں حیا محسوس کرتے ہیں ، حالانکہ وہ اس کے ضرورت مند اور خواہش مند ہوتے ہیں ، ان حالات میں خاندان کے ذمہ دار لوگوں کا فریضہ ہے کہ وہ خود کھڑے ہوں اور اس فریضہ کو انجام دیں ۔ 
رسول اللہ ا نے تجرد کی زندگی کو بہت ہی ناپسند فرمایا ، آپ ا نے فرمایا کہ نکاح میری سنت ہے ، اور جس کو میری فطرت پسند ہو اسے چاہیے کہ وہ میری سنت اختیار کرے ، (مجمع الزوائد : ۴/۲۵۲ ) ایک روایت میں ہے کہ تم میں سے جو لوگ تجرد کی زندگی گزار رہے ہوں وہ بد ترین لوگ ہیں ، ’’شرارکم عزابکم ‘‘ روایتوں میں انھیں شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ، (دیکھئے : حوالۂ سابق : ۴/۲۵۰ ) ایک موقع پر آپ ا نے ارشاد فرمایا کہ جو نکاح کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور نکاح نہ کرے ، وہ مجھ میں سے نہیں ، ’’ من کان موسرا لأن ینکح ثم لم ینکح فلیس مني‘‘ ۔ ( حوالۂ سابق : ۴/۲۵۱)
یہ ہدایات جیسے کنوارے مردوں اور عورتوں کے لئے ہیں ، اسی طرح ان مردوں اور عورتوں کے لئے بھی ہیں جو ازدواجی زندگی گزار نے کے بعد کسی وجہ سے اپنے رفیقِ حیات سے محروم ہو گئے ہوں ، پیغمبر اسلام حضرت محمد سول اللہ ا نے بحیثیت مجموعی گیارہ نکاح فرمائے ہیں ، ان میں سوائے امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سب کی سب بیوہ یا مطلّقہ تھیں ، ان میں متعدد ازواج وہ تھیں جو ایک سے زیادہ ازواج سے گزر کر آپ ا کے نکاح میں آئیں تھیں ، خود امّ المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایسی ہی ازواج میں سے تھیں ، ان کے پہلے شوہر عتیق بن عائذ مخزومی تھے ، اور دوسرے ابو ہالہ حضرت زینب بن خزیمہ رضی اللہ عنہا آپ ا سے پہلے عبیدہ بن حارث اور جہم بن حارث کے نکاح میں رہ چکی تھیں ۔ 
رسول اللہ ا کے اس عمل میں امت کے لئے اُسوہ و نمونہ رکھا گیا کہ سماج میں جو عورتیں مطلّقہ اور بیوہ ہوں ان سے نکاح کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے ، اور نہ ان کو منحوس اور نامبارک تصور کرنا چاہیے ، افسوس کہ ہندو سماج سے متاثر ہونے کی وجہ سے بیوہ اور مطلّقہ عورتوں کے ساتھ نارَوا سلوک رَوا رکھا جاتا ہے اور ہر مطلّقہ عورت کے بارے میں یہ بات فرض کرلی جاتی ہے کہ اس کی غلطی اور بد خلقی کی وجہ سے طلاق کی نوبت آئی ہوگی ، حالانکہ اکثر واقعات میں میاں بیوی کی علاحدگی میں نامناسب رویہ ان مردوں کا ہوتا ہے جواپنی بیوی کے حقوق سے غافل اوربے پروا ہوتے ہیں ، بیوہ اور مطلّقہ عورتوں کے ساتھ حقارت آمیز اور نامنصفانہ برتاؤ ظلم و جور بھی ہے اور بہت سی سماجی برائیوں کی جڑ ہے ، لیکن حیرت ہے کہ ہندوستان کی اَن پڑھ اور توہمات کی اسیر عوام پر ہی نہیں بلکہ مغرب کے ’’ ترقی یافتہ ترقی پسند معاشرہ ‘‘ پر بھی ہے کہ ان کے یہاں گناہ تو کوئی عیب نہیں ، لیکن انسان کی ایک فطری ضرورت آج بھی عیب شمار کی جاتی ہے ! 

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018