حج کے پانچ دن — احکام و مسائل

پہلا دن ( ۸؍ ذوالحجہ )

جن لوگوں نے حج افراد یا قران کا احرام باندھا ہو ، وہ پہلے ہی سے حالت احرام میں ہوں گے ، جو لوگ ’’ تمتع ‘‘ کا ارادہ رکھتے ہوں ، ان کو آج احرام باندھ لینا ہے ، احرام مکہ ہی سے باندھ لیں — جو لوگ سعی پہلے کرنا چاہتے ہوں ، وہ آج طواف اور سعی کرلیں اور طواف میں رمل اور اضطباع کریں ، اب طوافِ زیارت کے ساتھ ’’ سعی ‘‘ کی ضرورت نہیں رہے گی ’’ حج قران ‘‘ کرنے والوں کے لئے افضل طریقہ یہی ہے کہ حج سے پہلے ہی سعی کرلیں ، افراد اور تمتع کرنے والوں کو حج کے بعد سعی کرنا افضل ہے ، آج کل حج کے بعد اژدحام بہت بڑھ جاتا ہے اور حج سے پہلے نسبتاً کم ہجوم ہوتا ہے ، اس لئے خواتین اور ضعیف و بیمار لوگ شریعت کی اس آسانی سے فائدہ اُٹھائیں تو کوئی حرج نہیں ،احرام کے بعد اب تین کام کرنے ہیں  :
(۱)  نمازِ ظہر سے پہلے منیٰ پہنچا ،(۲) ۸؍ذوالحجہ کو ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور ۹؍ ذوالحجہ کی فجر کی نمازیں منیٰ میں ادا کرنا — جو لوگ منیٰ کو نکلنے سے کم از کم پندرہ دنوں پہلے مکہ مکرمہ آگئے تھے ، وہ منیٰ عرفات وغیرہ میں ظہر ، عصر اور عشاء چار رکعت ادا کریں گے اور جو لوگ اتنے دنوں پہلے نہیں آسکے تھے وہ دو رکعت ؛ البتہ اگر مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں تو چار رکعت پوری کریں گے ، (منحۃ الخالق علی البحر : ۲؍۱۳۲)(۳) ۸؍ ذوالحجہ کا دن گزار کر جو شب آئے ، وہ منیٰ میں گزارنا ۔
منیٰ میں قیام کے درمیان تلبیہ ، ذکر ، استغفار ، تلاوت قرآن اور دُعا کی کثرت کرنی چاہئے اور زیادہ مشقت نہ ہوتو مسجد خیف میں نماز ادا کرنے کی سعی کرنی چاہئے ، منیٰ میں تین رات یعنی (۸ ، ۹ ، ۱۰ ذو الحجہ ) اور (۱۱،۱۲؍ ذوالحجہ) کی درمیانی شب میں قیام کرنا مسنون ہے ؛ لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے منیٰ میں قیام نہیں کرسکے ، مثلاً منیٰ کی جگہ تنگ پڑ جائے اور حدود منیٰ سے باہر قیام کی جگہ ملے تو کوئی کراہت نہیں ؛ کیوںکہ عذر کی بناء پر منیٰ میں قیام کو ترک کیا جاسکتا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے چرواہوں اور زمزم کے کنویں سے پانی پلانے والوں کو اجازت دی تھی کہ وہ منیٰ میں قیام نہ کریں ، بلا عذر منیٰ کے قیام کو ترک کردینا البتہ مکروہ ہے ۔
دوسرا دن ( ۹؍ذوالحجہ )
یہ حج کا اصل دن ہے ، آج دن میں تین کام کرنے کے ہیں  :
(۱)  آفتاب نکلنے کے بعد منیٰ سے عرفات کے لئے نکلنا ،(۲)  زوال کے بعد سے غروبِ آفتاب تک عرفات میں ٹھہرنا ، (۳)  اگر مسجد نمرہ میں جماعت سے نماز ادا کرنے کا موقع ملے تو ظہر و عصر کو ایک ساتھ ادا کرنا ۔

وقوفِ عرفہ کے ضروری مسائل

اس دن کے لئے خاص خاص ہدایات و مسائل یہ ہیں  :
=  منیٰ سے عرفات آتے ہوئے تلبیہ اور ذکر کی کثرت رکھے ، =   میدانِ عرفات جہاں سے شروع ہوتا ہے ، آج کل بہت بڑے بورڈوں پر اس کی صراحت موجود ہے ، اس کے اندر ہی وقوف کرنا چاہئے ، ۹؍ ذوالحجہ کو زوال سے ۱۰؍ذوالحجہ کی طلوع صبح سے پہلے تک ایک لمحہ کے لئے بھی عرفات میں قیام یا گزرہوگیا تو وقوفِ عرفہ کا فرض ادا ہوجائے گا ، بہتر ہے کہ زوال ہی سے عرفہ میں رہے اور غروبِ آفتاب کے بعد ہی عرفہ سے نکلے ، غروب سے پہلے نکلنا درست نہیں ،=  میدانِ عرفات میں یوں تو کہیں بھی قیام کرسکتا ہے ؛ مگر ’’ جبل رحمت ‘‘ کے قریب وقوف کرنا افضل ہے ؛ بشرطیکہ سہولت ہو ، خود مشقت اُٹھاکر یا دوسروں کو مشقت میں ڈال کر اس کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ، میدانِ عرفات سے متصل ’’ بطنِ عرنہ ‘‘ ہے ، اس میں وقوف سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے ، اس لئے یہاں وقوف نہ کرنا چاہئے ، آج کل بورڈ پر نمایاں تحریروں کے ذریعہ اس مقام کو مشخص کردیا گیا ہے ،= بہتر ہے کہ وقوفِ عرفہ میں اپنی استطاعت کے بقدر دھوپ میں کھڑا ہوکر وقت گزارے ، ویسے سایہ میں اور بیٹھ کر وقوف کرنے میں بھی قباحت نہیں، = یہ دن دُعاؤں کے اہتمام اور ان کی قبولیت کا ہے ؛ اس لئے اللہ کے سامنے خوب گڑ گڑائے ، روئے ، رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرے ، اپنی آخرت کے لئے ، دنیا کے لئے ، دوسرے اعزہ ، رشتہ داروں اور اہل حقوق کے لئے ، مسلمانانِ عالم اور عالم اسلام کے لئے خوب خوب دُعائیں کرے ، =موقع میسر ہوتو زوال سے پہلے غسل کرنا بھی بہتر ہے کہ اس سے طبیعت میں نشاط پیدا ہوتا ہے ؛ بشرطیکہ اتنا پانی موجود ہوکہ آپ کے غسل کرنے کی وجہ سے دوسروں کو مشقت نہ ہو ، عورتیں اگر حیض کی حالت میں ہیں تو بھی غسل کرلیں ؛ البتہ یہ نظافت اور صفائی ستھرائی کے لئے ہے ، اس غسل سے وہ پاک نہیں ہوجائیں گی ،=مسجد ِنمرہ میں نماز ادا کرنے کی کوشش کی جائے ؛ بشرطیکہ اس کی وجہ سے اتنی مشقت نہ ہوجائے کہ اس کے بعد ذکر اوردُعاکرنے سے محروم ہوجائے ، =عرفات میں ظہر و عصر کی نماز جمع کرکے ادا کی جائے گی ؛ بشرطیکہ جماعت کے ساتھ پڑھ رہا ہو ، اگر جماعت میں شریک نہ ہوسکے ، اپنے خیموں میں ادا کرے تو حنفیہ کے نزدیک دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت پر ادا کی جائیں گی ، = وقوفِ عرفہ میں عورتوں کا مردوں کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنا یا دُعائیں کرنا مکروہ ہے اور ان کے لئے اپنے خیموں میں ہی قیام بہتر ہے ،= عرفات میں آپ ﷺ سے یہ دُعائیں منقول ہیں  :
لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْـکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْر۔ ( ترمذی ، حدیث نمبر : ۳۵۸۵ ، باب دعاء یوم عرفۃ ، کتاب الدعوات )
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، نہ اس کا کوئی شریک ہے ، اسی کے لئے ملک بھی ہے اور تمام تعریفیںبھی ، اوروہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
آپ ﷺ نے اس کو یومِ عرفہ کی بہترین دُعا قرار دیا ہے  :
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْراً وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْراً وَفِیْ بَصْرِیْ نُوراً ، اَللّٰہُمَّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَسَاوِسِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْاَمْرِ وَفِتْنَۃِ الْقَبْرِ ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَلِجُ فِی النَّہَارِ وَشَرِّ مَا تَحْصِبُ بِہِ الرِّیْحُ وَشَرِّ بَوَائِقِ الدَّھْرْ۔ ( تلخیص الحبیر : ۲؍۲۵۴ ، حصن حصین : ۱۸۳ )
اے اللہ ! میرے دل ، کان اور آنکھ کو نور سےمعمور فرمادے ، خداوندا ! میرا شرح صدر فرمادے ، میرے لئے میرے معاملہ کو آسانی فرما ، میں دل کے وسوسوں ، کاموں کی پراگندگی اورقبر کی آزمائش سے آپ کی پناہ کا خواستگارہوں ، اِلٰہا ! میں دن میں آنے والے شر ، ہوا کے ساتھ چلنے والے شر اور زمانہ کی ہلاکتوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔
عرفات کی شام آپ ﷺ سے بہ کثرت یہ دُعاء کرنا منقول ہے  :
اَللّٰہُمَّ لَـکَ الْحَمْدُ کَالْذِی تَقُوْلُ وَخَیْراً مِمَّا نَقُوْلْ ، اَللّٰہُمَّ لَـکَ صَلوٰتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ وَإِلَیْکَ مَاٰبِی وَلَـکَ رَبِّیْ تُرَاثِیْ ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَۃِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْاَمْرِ۔( غنیۃ السالک : ۱۸۳)
اے اللہ ! آپ کے لئے وہ سب تعریفیں ہیں ، جو خود آپ نے فرمائی ہیں ، اس سے بہتر جو ہم کہہ سکیں ، خداوندا ! میری نماز ، حج و قربانی ، زندگی اور موت آپ ہی کے لئے ہے ، آپ ہی میری پناہ گاہ ہیں اورآپ ہی کے لئے مرے بعد باقی رہ جانے والے ہیں ، اِلٰہا ! میں عذابِ قبر ، وسوسۂ قلب اور معاملات کی پراگندگی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔
یہ چند دُعائیں تو خصوصیت سے اس موقع کے لئے منقول ہیں ، ان کے علاوہ پورے دن اپنی ضروریات و حالات کے مطابق دُعا کرتے رہیں ، (آسانی کے لئے کتاب کے آخرمیں چند جامع دُعائیں اُردو ترجمہ کے ساتھ درج ہیں ، ان کو بھی پڑھا جاسکتا ہے) عربی الفاظ یاد نہ ہو سکیں یا نہ پڑھ پائیں تو اُردو ترجمہ پڑھ لینا یا زبانی اس کا خلاصہ خدا کے حضور پیش کردینا کافی ہے ۔

۹؍ ذوالحجہ کا دن گزار کر شب کے اعمال

۹؍ ذوالحجہ کو آفتاب غروب ہونے کے بعد چار کام کرنے ہیں  :
(۱) آفتاب ڈوبنے کے بعد عرفات سے مزدلفہ کے لئے نکلنا ،(۲) پوری شب بلکہ ۱۰؍ ذوالحجہ کو طلوع آفتاب سے کچھ پہلے تک کے اوقات کا مزدلفہ میں گزارنا ، (۳) مزدلفہ میں آکر ہی مغرب و عشاء کی نماز ادا کرنا اورعشاء کے وقت مغرب و عشاء کو جمع کرنا ، (۴) مزدلفہ میں تینوں دنوں کی رمی کے لئے ۴۹ عدد کنکریاں چن لینا ۔

وقوفِ مزدلفہ کے ضروری مسائل

=   بہتر ہے کہ نہ آفتاب ڈوبنے سے پہلے عرفات سے چلے ، نہ آفتاب ڈوبنے کے بعد عرفات سے نکلنے میں تاخیر کرے،=   مُزْدَلْفَہ میں ’’ جبل قزح ‘‘ کے قریب ٹھہرنا مستحب ہے ،=  مزدلفہ کے راستہ میں نماز ادا نہ کرے ، مزدلفہ پہنچے کے بعد عشاء کے وقت میں مغرب و عشاء کو اس طرح جمع کرے کہ دونوں کے لئے ایک ہی اذاں دے ، ایک ہی اقامت کہے اوردونوں نمازوں کے درمیان کوئی سنت یا نفل بھی نہ پڑھے ، مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو جمع کرنے کے لئے جماعت شرط نہیں ہے ، انفراداً نماز پڑھے ، تب بھی دونوں نمازیں جمع کرکے پڑھی جائیں گی ، =اگر مزدلفہ پہنچنے میں اتنی دیر لگ جائے کہ فجر کا وقت شروع ہوجانے کا اندیشہ ہوتو راستہ میں ہی مغرب و عشاء ادا کرلی جائے ، =  اس رات جاگنا ، ذکر کرنا ، تلاوت ، تلبیہ ، دُعاء اور نوافل کا اہتمام کرنا مسنون ہے ،= حنفیہ کے نزدیک وقوفِ مزدلفہ کا اصل وقت صبح صادق سے سورج نکلنے تک ہے ، ان اوقات میں ایک لمحہ کے لئے بھی مزدلفہ میں وقوف کرلیا ، یا مزدلفہ کے علاقہ سے گزر گیا تو ’’وقوفِ مزدلفہ ‘‘ کا وجوب ادا ہوجاتا ہے ، ۱۰= ؍ ذوالحجہ کو اول وقت میں نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد ہاتھ اُٹھاکر دُعا کرنی چاہئے اور آفتاب نکلنے سے پہلے تک یہ سلسلہ قائم رکھنا چاہئے — آج کل بعض لوگ جلدی کرتے ہیں ، بغیر کسی عذر کے نصف شب کو یا فجر سے پہلے ہی نکل جاتے ہیں ، بعض حضرات نمازِ فجر قبل ازوقت ادا کرکے نکل جاتے ہیں ، ان صورتوں میں حنفیہ کے نزدیک ’’ وقوفِ مزدلفہ ‘‘ کا ’’ واجب ‘‘ ادا نہیں ہوتا اور ’’ دم ‘‘ واجب ہوتا ہے ؛ البتہ عورتوں ، مریضوں ، معذوروں ، بہت ضعیف لوگوں اور ان سبھوں کے ساتھ ان کی مدد کرنے والوں کے لئے گنجائش ہے کہ وہ نصف شب کے بعد مزدلفہ سے منیٰ کے لئے روانہ ہوجائیں ، (ردالمحتار : ۳؍۵۲۹۱) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اُم المومنین حضرت سوداءؓ کو نصف شب کے بعد مزدلفہ سے نکلنے کی اجازت دے دی تھی ، (بخاری ، حدیث نمبر : ۱۵۹۶)  اسی طرح حضرت عباسؓ کو مکہ میںپانی پلانے کے نظم کے لئے اس کی اجازت مرحمت فرمائی تھی ، ( بخاری ، حدیث نمبر : ۱۵۹۴۷)حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ سے بھی اسی طرح کا عمل منقول ہے ۔ 

تیسرا دن ( ۱۰؍ ذوالحجہ )

۱۰؍ ذوالحجہ کو آپ کو چھ کام کرنے ہیں  :
(۱)  صبح طلوع ہونے سے اچھی طرح روشنی پھیل جانے تک مزدلفہ میں ٹھہرنا اور دُعا ءمیں مشغول رہنا ، (۲) طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کے لئے روانہ ہوجانا — دو رکعت کے بقدر طلوع آفتاب سے پہلے نکل جائے ، ( فتح القدیر : ۲؍۴۸۴)(۳) منیٰ میں آخری جمرہ ( جس کو بڑا شیطان کہتے ہیں ) پر سات کنکریاں مارنا ، (۴) کنکری مارنے کے بعد قربانی کرنا ، (۵)قربانی کرنے کے بعد مال منڈانا ، (۶) مکہ جاکر طوافِ زیارت کرنا ۔

رمیِ جمرات کے ضروری احکام

=کنکری چنے کے دانے یا کھجور کی گٹھلی کے برابر ہونی چاہئے ، بڑے ڈھیلے پھینکے جائیں تو اگرچہ رمی ہوجاتی ہے ؛ لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے ، (بحر : ۲؍۳۴۳)= کنکری مٹی ، پتھر وغیرہ کی ہو یعنی زمین کی جنس سے ہو ، ( عنایہ مع الفتح : ۲؍۴۸۶ ) جوتے چپل کا پھنکنا کافی نہیں اور چوںکہ اس سے دوسروں کو اذیت پہنچ سکتی ہے ؛ اس لئے ایسا کرنا مکروہ ہے ، = آج کل جمرہ کے چاروں طرف حصار بنا ہوا ہے ، کنکری اس حصار کے اندر گرنی چاہئے ، اگر اس سے پہلے ہی گر جائے ، یا کسی آدمی کو لگ جائے ، یا ستون کو لگ کر حصار کے باہر واپس آجائے تو کافی نہیں ہوگا ، = کنکری مارنے والے اور کنکری مارنے کی جگہ کے درمیان بہتر ہے کہ پانچ ہاتھ کا فاصلہ ہو ، (بحر : ۲؍۳۴۳)= کنکری اگر احاطہ کے اندر صرف ڈال دی جائے تو رمی نہ ہوگی ، پھینکنے کی کیفیت پائی جانی ضروری ہے ، ( بحر : ۲؍۳۴۳)= رمی کے لئے کنکری کو کسی خاص طرح پکڑنا آپ ﷺ سے منقول نہیں ہے ، ہجوم میں یہ طریقہ آسان ہے کہ انگوٹھے اورانگشت شہادت سے پکڑ کر پھینکے ، اسی پر عمل کرنا چاہئے ، (فتح القدیر : ۲؍۴۸۷)= مسنون ہے کہ رمی سیدھے ہاتھ سے کی جائے ،  (فتح القدیر : ۲؍۴۸۷)=  ہر کنکری پھینکتے ہوئے ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہنا چاہئے کہ مختلف صحابہ سے اس موقع پر یہی کہنا منقول ہے ، ( ہدایہ مع الفتح : ۲؍۴۸۶)=   ہاں اگر ’’ اللہ اکبر ‘‘ کی جگہ ’’ سبحان اللہ ‘‘ یا ’’ لا اِلٰہ الا اللہ ‘‘ بھی پڑھ دے تو کافی ہے ، ( فتح القدیر : ۲؍۴۸۶)=   جوں ہی رمی شروع کرے ، اب تک جو تلبیہ پڑھتا آیا تھا ، وہ بند کردے، ۱۰=  ؍ ذوالحجہ کورمی کے بعد وہاں ٹھہر کر دُعا نہ کرنی چاہئے ؛ کیوںکہ اس دن رسول اللہ ﷺ سے یہاں پر دُعا کرنا ثابت نہیں ہے ، ۱۰=  ؍ ذوالحجہکو صرف اسی آخری جمرہ کی رمی ہے ، باقی اور جمرات کی رمی نہیں ہے ۔

رمیِ جمرات کے اوقات

= آج کل رمی میں بہت اژدحام ہوجاتا ہے ، جانیں بھی جاتی ہیں ؛ کیوںکہ لوگ ایک ہی وقت میں اُمڈ آتے ہیں ؛ اس لئے مناسب ہے کہ حجاج ۱۰؍ذوالحجہ کی رمی کی بابت اوقات اپنے ذہن میں رکھیں اور ایسے وقت کا انتخاب کریں ، جب اژدحام کم ہو ۔

رمی جمرات کے وقت کی تفصیل یہ ہے  :

= فجر کا وقت شروع ہونے سے طلوع آفتاب تک رمی کراہت کے ساتھ جائز ہے ، =طلوع آفتاب تا زوال آفتاب (۱۰؍ ذوالحجہ ) رمی کا مسنون وقت ہے ، =  بعد زوال تا غروب آفتاب بلا کراہت جائز ہے ، =غروبِ آفتاب تا طلوع صبح ( ۱۱؍ ذوالحجہ ) کراہت کے ساتھ جائز ہے ، =طلوع صبح سے آفتاب نکلنے تک اور آفتاب ڈوبنے کے بعد دوسرے دن کی فجر تک رمی کرنے میں بھی اس وقت کراہت ہے جب کہ کوئی عذر نہ ہو ، (فتح القدیر : ۲؍۵۰۱)آج کل جو اژدحام ہوتا ہے وہ خود ایک عذر ہے ، لہٰذا اس کی وجہ سے ان اوقات میں رمی کرنی مکروہ نہیں ہے ، عورتوں کے حق میں فقہاء نے اژدحام کے عذر ہونے کا صراحتاً ذکر کیا ہے ، ( فتح القدیر : ۲؍۴۸۳ ) لہٰذا ۱۰؍ذوالحجہ کو طلوع صبح سے ۱۱؍ ذوالحجہ کی طلوع صبح تک کسی بھی وقت رمی کرلینی چاہئے، = اگر ۱۰؍ ذوالحجہ کی رمی ۱۱؍ ذوالحجہ کی صبح ہونے تک بھی نہ کرپایا تو اب گیارہ کو آخری جمرہ پر ۱۰؍ ذوالحجہ کی سات کنکریاں بھی مارے اور تاخیر کی وجہ سے دم بھی دے ، یعنی ایک بکری کی قربانی دے ، ( ہدایہ مع الفتح : ۲؍۵۰۰)= جو لوگ ۱۰؍ ذوالحجہ کو طلوع آفتاب سے زوال تک اژدحام کی وجہ سے رمی نہ کرسکیں اور زوال کے بعد یا غروب آفتاب کے بعد رمی کرنے پر قادر ہوں ، اس کے لئے کسی کو نائب بناکر رمی کرنا جائز نہیں ، وہ ۱۱؍ ذوالحجہ کی صبح سے پہلے تک خود رمی کریں ، =  اگر کوئی شخص خود رمی کرنے سے عاجز ہو ، جیسے بہت بیمار ، معذور ، یا سن رسیدہ وضعیف ہو ، یا کسی وجہ سے رمی کرنا اس کے لئے سخت دشوار ہو تو ایسے شخص کی طرف سے نیابتاً دوسرا آدمی رمی کرسکتا ہے  :
سواء رمی بنفسہ او لغیرہ عند عجزہ عن الرمی بنفسہ۔ (بدائع الصنائع : ۲؍۱۳۷)
رمی سے عاجز ہونے کی دو صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ ہاتھ سے کنکری پھینکنے کی بھی طاقت نہیں ہو ، دوسری یہ کہ کنکری پھینک سکتا ہو ؛ لیکن جمرات تک پیدل نہ جاسکتا ہو اور سواری میسر نہ ہو ، (المدونۃ الکبریٰ : ۱؍۳۲۶) آج کل صورتِ حال یہی ہے ، اژدحام کی وجہ سے سواری یا وھیل چیئر کو جمرات تک لے جانے کی ممانعت ہے اورخیموں سے جمرات کا فاصلہ بھی بہت زیادہ ہے ، اس لئے جو لوگ واقعی اتنا نہیں چل سکتے ، وہ دوسرے کو نائب بناسکتے ہیں ؛ لیکن صرف سستی اور آسانی کے لئے ایسا کرنا درست نہیں ۔

قربانی کے ضروری احکام

=  حج قران اور حج تمتع کرنے والوں پر قربانی واجب ہے اور حج افراد کرنے والوں کے لئے مستحب ہے ، =  قربانی بکرے یا دنبہ کی بھی کی جاسکتی ہے اور گائے ، اونٹ وغیرہ میں بقرعید کی قربانی کی طرح حصہ بھی لیا جاسکتا ہے ، ( بحر : ۲؍۳۵۹) =  حج اور دَم کی قربانی حدودِ حرم ہی میں کی جانی ضروری ہے ، منیٰ میں اس کے لئے قربان گاہ بنی ہوئی ہے ، مکہ مکرمہ میں مدرسہ صولتیہ میں بھی قربانی کا نظم ہے ، وہاں بھی قربانی کی جاسکتی ہے ، =  اگر کسی شخص نے حج قران یا تمتع کیا ؛ لیکن اتنی استطاعت نہیں کہ قربانی کرسکے تو اس کو ۹؍ ذوالحجہ تک تین روزے رکھ لینے چاہئیں ، بہتر ہے کہ یہ روزے ۷،۸،۹کو رکھے جائیں ،تاہم شوال شروع ہونے اور احرام باندھ لینے کے بعد ۹؍ذوالحجہ تک کبھی بھی تین روزے رکھ لے کافی ہے ، یہ تین روزے تو حج سے پہلے کے ہیں ، اس کے علاوہ سات روزے ۱۳؍ ذوالحجہ کے بعد رکھنے ہیں ، چاہے حرم میں رکھ لے یا گھر واپس آنے کے بعد ، وقت اور مقام کی کوئی قید نہیں ،  (ہدایہ مع الفتح : ۲؍۵۳۰)=  اگر روزے نہ رکھ پایا کہ ۱۰؍ ذوالحجہ کی تاریخ آگئی تواب قربانی ہی ضروری ہے ، روزے رکھنا کافی نہیں ، = حج کی یہ قربانی ۱۰؍ سے ۱۲ذوالحجہ تک کی جاسکتی ہے ؛ البتہ دم والی قربانی کبھی بھی دی جاسکتی ہے ، =آج کل ’’ شرکۃ الراجحی‘‘ کی طرف سے قربانی کا نظم کیا گیا ہے ، اس کے لئے ٹوکن فروخت کردیا جاتا ہے اور اس کی طرف سے یہ ادارہ قربانی کردیتا ہے اور قربانی کا وقت مقرر کردیتا ہے ، اس سے فائدہ اُٹھانے کی گنجائش ہے ؛ البتہ ادارہ یہ سہولت دیتا ہے کہ اگر دس آدمیوں کا گروپ ہو تو وہ ایک شخص کو اپنی طرف سے وکیل بناکر بھیجیں اور وہ خود جاکر سبھوں کی طرف سے قربانی کردیں ، یہ صورت اختیار کرنی بہتر ہے ، بہت سے لوگ شخصی طورپر حجاج سے پیسے لیتے ہیں اور قربانی کرانے کا وعدہ کرتے ہیں ، ان پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے اور خوب تحقیق کے بعد ہی ان کو پیسے دینے چاہئیں ،= بقرعید کی قربانی مسافر پر واجب نہیں ہوتی ، مقیم پر واجب ہوتی ہے اور جو شخص ایک جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کرلے ، وہ مقیم شمار کیا جاتا ہے ؛ لہٰذا اگر منیٰ کی روانگی سے پندرہ دنوں پہلے مکہ آگیا تھا اور وہیں مقیم تھا تو اس پر بقرعید کی قربانی بھی واجب ہوگی ، خواہ وہیں دے یا اپنے ملک میں ، اور اگر منیٰ کی روانگی سے پہلے ۱۵؍ دنوں سے کم کا قیام رہا ، تو بقرعید کی قربانی واجب نہیں ہوگی ؛ کیوںکہ وہ مسافر ہے ۔ ( فتاویٰ تاتار خانیہ : ۲؍۴۶۵)

بال کٹانے کے ضروری مسائل

= تمتع اور قران کرنے والوں کو قربانی کے بعد اور افراد کرنے والوں کو ۱۰؍ ذوالحجہ کی رمی کے بعد ہی بال کٹانا بہتر ہے ؛ لیکن مزید بہتر ہے کہ ۱۲؍ ذوالحجہ کی شام تک احرام کی حالت کو قائم رکھے ، ( بحر : ۲؍۳۴۶)= سرکو یا تو مکمل مونڈانا چاہئے یا پورے سر سے اُنگلی کے پور کے بقدر کٹانا چاہئے ، مونڈانے کی فضیلت زیادہ ہے ، مونڈوانے والوں کو آپ نے تین بار دُعا دی ہے اور بال ترشوانے والوں کو ایک بار ، =احناف کے یہاں سر کے ایک چوتھائی حصہ کے بال کا مونڈانا یا تراشوانا کافی ہے ؛ لیکن سنت کے خلاف ہے ، سنت پورے سر کے بال مونڈانا یاتراشوانا ہے ، ( ہدایہ مع الفتح : ۲؍۴۹۰)اوراسی میں احتیاط ہے ؛ کیوںکہ امام مالکؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک پورے سر کا بال کٹانا واجب ہے اور رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اس سے کم بال مونڈانے یا کٹانے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ؛ اس لئے زینت کے جذبہ کے تحت پورا سر نہ مونڈوانا ہرگز مناسب نہیں ، ایک مسلمان کو حج و عمرہ کی سعادت حاصل ہو اور وہ اپنی خواہش کی اتنی بھی قربانی نہ دے سکے ، یہ افسوسناک ہے ، = کسی کے سر میں بال نہ ہوں تو یوں ہی سر پر اُسترا پھیر لینا چاہئے ، ( عنایہ علی الہدایہ : ۲؍۴۹۰)= مستحب ہے کہ سر مونڈانے کے بعد ناخن اور مونچھ کی بھی اصلاح کرلے ، (بحر : ۲؍۳۴۶)=  عورتیں اپنے چوٹی کے کنارے سے ایک انگلی کے بقدر بال کاٹ لیں ، =  رمی اور قربانی کے بعد مُحرِم اپنا بال خود بھی کاٹ سکتا ہے ، ( بحر : ۲؍۳۴۶) دوسرے محرم — جو ان افعال کو پورے کرچکے ہوں — کے بال بھی کاٹ سکتا ہے ، عورتوں کو خاص طورپر یہ مسئلہ یاد رکھنا چاہئے کہ رمی وقربانی کے بعد خود بال کاٹ لیں یاشوہر یا مُحرِم رشتہ دار سے کٹوائیں ، غیر محرم لڑکے جو قینچی لئے کھڑے رہتے ہیں ، ان سے بال کٹانا جائز نہیں ، = بال کٹانے کے بعد احرام ختم ہوجاتا ہے ، اب سلے ہوئے کپڑے اور خوشبو وغیرہ کا استعمال جائز ہے ، صرف بیوی اب بھی حرام ہے ۔

طوافِ زیارت

=   ۱۰؍ ذوالحجہ کا ایک اہم عمل طوافِ زیارت ہے ، یہ فرض ہے ، یہ طواف ۱۰؍ ذوالحجہ کی طلوع صبح سے ۱۲؍ ذوالحجہ کو غروب آفتاب سے پہلے تک کرسکتے ہیں ؛ البتہ اگر دشواری نہ ہو تو افضل ۱۰؍ ذوالحجہ کو طواف کرنا ہے ، ( بحر : ۲؍۳۴۷)= اگر ۱۲؍ ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب تک بھی طواف نہ کرپایا ، تو اس کے بعد بھی کرسکتا ہے ؛ لیکن امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک تاخیر کی وجہ سے دم واجب ہوجائے گا اور اس کا یہ فعل مکروہ بھی ہوگا ، (ہدایہ : ۲؍۴۹۷) البتہ امام ابوحنیفہؒ کے دونوں ممتاز شاگرد امام ابویوسفؒ اورامام محمدؒ نیز امام مالک ؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک تاخیر کی وجہ سے دم واجب نہیں ہوگا — اس لئے حجاج کو چاہئے کہ ۱۲؍ذوالحجہ کی شام تک طواف کرلیں ،= طوافِ زیارت میں بھی سات طواف کرنا ہے ، اگر احرام کے لباس میں ہوتو اضطباع کرے گا ، یعنی دائیں مونڈھے کو کھلا رکھتے ہوئے اس کے نیچے سے چادر نکال کر بائیں مونڈھے کے اوپر رکھے گا ، ابتدائی تین چکر میں رمل کرنا ہے ، طواف کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنی ہے ، پھر سات دفعہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنی ہے جو صفا سے شروع ہوگی اور مروہ پر ختم ، =  حج اِفراد یا حج قران کرنے والے حاجی نے طوافِ قدوم کے ساتھ سعی کرلی تھی ، یا حج تمتع کرنے والے حاجی نے حج کا احرام باندھنے کے بعد کوئی نفل طواف کرکے اس کے ساتھ سعی کرلی ، تو اب طوافِ زیارت کے ساتھ سعی واجب نہیں اور نہ طواف میں ’’ رمل ‘‘ اور ’’ اضطباع ‘‘ کرے گا ، ( ہدایہ مع الفتح : ۲؍۴۹۴)=  آج کل چوںکہ اژدحام بہت بڑھ جاتا ہے ، اس لئے حج تمتع کرنے والے حجاج ۷یا ۸؍ذوالحجہ کو احرام باندھ کر نفلی طواف کرکے اس کے ساتھ سعی کرلیں تو آسانی ہوگی ، = ’’ طوافِ زیارت ‘‘ رمی ، قربانی یا بال کٹانے سے پہلے بھی کیا جاسکتا ہے ، ان تینوں کاموں کے پورے ہونے کے بعد ہی طواف کرنا ضروری نہیں ، (بحر : ۲؍۳۴۷)= طوافِ زیارت کا طریقہ وہی ہے ، جو طواف کی دوسری صورتوں کا ہے ، =  طوافِ زیارت کے بعد شوہر کے لئے بیوی بھی حلال ہوجاتی ہے ، =  طوافِ زیارت حج کا نہایت اہم رکن ہے ، اگر کوئی شخص طواف کئے بغیر گھر چلا گیا تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس وقت تک اس پر اس کی بیوی حرام رہے گی ، جب تک کہ دوبارہ حرم شریف آکر طواف نہ کرلے اور تاخیر کی وجہ سے دَم الگ واجب ہوگا ، =  خواتین اگر دسویں تاریخ کو ماہواری کی حالت میں تھیں اور بارہویں یا اس کے بعد بھی ماہواری آتی رہی تو ان کے لئے خصوصی رعایت ہے کہ جب پاک ہوں ، طوافِ زیارت کرلیں ، اگر دسویں تاریخ کو اتنا مناسب وقت مل گیا کہ اس میں وہ طواف کرسکتی تھیں ، مگر بلا عذر نہ کیا اور ماہواری شروع ہوگئی ، یا بارہویں تاریخ کو ماہواری بند ہوگئی اور طواف کے لئے مناسب وقت موجود تھا ، مگر بلا عذر طواف نہ کیا اور بارہ تاریخ گزر گئی تو پاک ہونے کے بعد طواف بھی کرنا ہوگا اور بلا عذر تاخیر کرنے کی وجہ سے دَم بھی واجب ہوگا ، ( بحر : ۲؍۳۴۸) اس سلسلہ میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے : ’’ خواتین سے متعلق احکام ‘‘، =  اگر کسی شخص نے طوافِ زیارت نہیں کیا ؛ لیکن ’’طوافِ وداع‘‘ کرلیا تو یہی طوافِ زیارت بن جائے گا ؛ البتہ طواف وداع نہ کرنے پر دَم واجب ہوگا ۔ ( درمختار : ۲؍۲۰۶)

قابل توجہ بات

احناف کے یہاں ۱۰؍ ذوالحجہ کے افعال رمی ، قربانی اور بال کٹانے میں واجب ہے کہ ان کو اسی ترتیب سے انجام دیا جائے ، اگر ان میں سے بعد کے کام کو پہلے کرلیا جائے ، مثلاً رمی سے پہلے قربانی کرلی ، یا قربانی سے پہلے بال کٹالیا ، تو دَم واجب ہوجاتا ہے ؛ لیکن آج کل اژدحام اور قربان گاہ کی دوری کی وجہ سے علماء ہند کی رائے ہے کہ اگر مشقت ہوتو ترتیب کی رعایت ضروری نہیں ہے ، جیساکہ دوسرے فقہاء ، اور حنفیہ میں امام ابویوسف اورامام محمدؒ کا مسلک ہے ، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اورادارۃ المباحث الفقہیہ نے علماء کے اجتماع میں بہ اتفاق رائے یہی فیصلہ کیا ہے ، (اہم فقہی فیصلے : ۱۲۰)  پھر بھی اگر ترتیب کی رعایت ہوتو بہتر ہے ؛ البتہ اس پر اتفاق ہے کہ ’’طوافِ زیارت ‘‘ میں ترتیب نہیں ، وہ ان تینوں کاموں سے پہلے بھی کیا جاسکتا ہے ، اس کے بعد بھی اور درمیان میں بھی ؛ البتہ رمی سے پہلے اور قران و تمتع کرنے والے کے لئے قربانی سے پہلے طوافِ زیارت مکروہ ہے ۔ ( درمختار : ۲؍۲۰۸)

چوتھا دن ( ۱۱؍ذوالحجہ )

۱۱؍ ذوالحجہ کو منیٰ میں دُعا اور ذکر کا اہتمام کرنا چاہئے ، شب منیٰ میں گزارنی چاہئے کہ یہ سنت ہے ، اس دن کا خصوصی عمل تینوں جمرات پر رمی کرنی ہے ، ترتیب یہ ہوگی کہ پہلے جمرۂ اولیٰ پر ،پھر درمیانی جمرہ پر اور آخر میں آخری جمرہ پر رمی کی جائے ، منیٰ سے مکہ کی طرف آتے ہوئے پہلے جو جمرہ ملتا ہے ، وہ ’’ اولیٰ ‘‘ ہے ، اس کے بعد ’’ وسطے ‘‘ ہے اور مکہ کی طرف سے پہلا جمرہ ’’ جمرۂ عقبہ ‘‘ ہے ، آج کل ان جمرات پر بہت نمایاں بورڈ لگے ہوئے ہیں ، ہرجمرہ پر سات کنکریاں اسی طرح سے پھینکنی ہیں ، جس طرح سے کہ کل آخری جمرہ پر پھینکی گئی تھیں ؛ البتہ آج پہلے اور درمیانی جمرہ پر رمی کے بعد کنارے ہوکر تھوڑی دیر دُعاء کرنی ہے ، آخری جمرہ ( جمرہ عقبہ ) پر رمی کے بعد دُعا نہیں کرنی ہے ، آج رمی کے اوقات اس طرح ہیں  :
=  طلوع صبح تا زوال آفتاب : امام ابوحنیفہؒ کے ایک قول کے مطابق اس وقت ۱۱، ۱۲؍ذوالحجہ کو بھی رمی کی جاسکتی ہے ؛ البتہ بلا عذر ایسا کرنا مکروہ ہے ، ( فتح القدیر : ۲؍۴۹۹)= زوال تا غروبِ آفتاب : اس وقت رمی کرنا افضل ہے ، =  غروب آفتاب تا طلوع صبح ۱۲ ذوالحجہ : اس وقت عذر ہو تورمی بلا کراہت جائز ہے ، بلا عذر اس وقت رمی کرنا مکروہ ہے ، =  اگر آج رمی نہ کرپایا تو بارہ کو گیارہ کی بھی رمی کرے گا اور تاخیر کی وجہ سے دَم دے گا ۔

پانچواں اور چھٹا دن (۱۲،۱۳؍ذوالحجہ)

۱۲؍ ذوالحجہ کو بھی رمی وغیرہ کے احکام اور اوقات وہی ہیں ، جو ۱۱؍ ذوالحجہ کے ہیں ؛ البتہ اگر ۱۳؍ذوالحجہ کے قیام کا ارادہ نہ ہوتو بہتر ہے کہ آج رمی کرکے غروبِ آفتاب سے پہلے ہی حدودِ منیٰ سے باہر نکل جائے ، اگر ۱۳؍ذوالحجہ کی صبح منیٰ میں طلوع ہوگئی تو ۱۳؍ذوالحجہ کو بھی رمی کرنی واجب ہوگئی اوررمی کئے بغیر نکل جائے تو دَم دینا ہوگا ، یہ امام ابوحنیفہؒ کے مسلک پر ہے ، دوسرے فقہاء کے نزدیک منیٰ میں آفتاب غروب ہوگیا تو اب منیٰ سے نکلنا مکروہ ہے اور ۱۳؍ ذوالحجہ کی رمی واجب ہے ؛ اس لئے جو لوگ تیرہ کو رمی کے لئے رُکنا نہیں چاہتے ہوں وہ بارہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے ہی نکل جائیں ، ان کے لئے ۱۳؍ذوالحجہ کو منیٰ میں رُکنا ضروری نہیں ، رُک کر رمی کرلے تو زیادہ بہتر ہے اور ثواب ہے ، حنفیہ کے نزدیک اگر کوئی شخص تیرہ کو رُک گیا تو اس دن زوال آفتاب سے پہلے بھی رمی کرسکتا ہے ۔ 
طوافِ وداع
’’ وداع ‘‘ کے معنی رخصت ہونے کے ہیں ، گویا یہ طواف ، بیت اللہ شریف سے فراق اور رخصتی کا ہے ، جو لوگ حدودِ میقات سے باہر کے رہنے والے ہوں ان کے لئے حج کے بعد ’’ طوافِ وداع ‘‘ واجب ہے ، اس کو ’’ طوافِ صدر ‘‘ بھی کہتے ہیں ، عمرہ کرنے والے پر یہ طواف نہیں ہے۔ ( فتح القدیر : ۲؍۵۰۴)
طوافِ وداع کے لئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے، تکمیل حج کے بعد کبھی بھی کیا جاسکتا ہے ، بہتر ہے کہ مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے آخر میں طوافِ وداع کرے ، اس طواف میں سعی نہیں ، کعبۃ اللہ کے ساتھ چکر لگائے ، اس کے بعد طواف کی دو رکعتیں پڑھ لے ، پھر سیر ہوکر زم زم پئے ، حجر اسود اور کعبۃ اللہ کے دروازہ کا درمیانی حصہ ’’ ملتزم ‘‘ کہلاتا ہے ، یہ دُعاء کی قبولیت کی جگہ ہے ، یہاں آکر اپنا چہرہ اور سینہ دیوار سے لگاکر خوب گریۂ وزاری کے ساتھ دُعا کرے اور بیت اللہ سے فراق میں حزین وغمگین مسجد ِحرام سے باہر آئے ؛ بلکہ کوشش کرے کہ گنہگار آنکھوں سے حسرت و افسوس کے چند آنسو بھی ٹپک جائیں ، ( ہدایہ مع الفتح : ۲؍۵۱۰) عورتیں اگر حیض کی حالت میں ہوں تو طوافِ وداع معاف ہے ، طوافِ زیارت ہی ان کے لئے کافی ہے ۔

تبصرے

تبصرہ لکھیں

ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018